<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 21:49:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 09 Aug 2026 21:49:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دوائیوں کے خام مال پر زیادہ ڈیوٹیوں پر تشویش کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289756/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز نے ادویات کے خام مال پر عائد بھاری کسٹمز ڈیوٹیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کسٹمز کلاسیفیکیشن کے تنازعات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کاروں کے مطابق اس قدم کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ عوام کو مناسب قیمتوں پر ادویات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق ریونیو میں اضافے کے لیے دہائیوں سے ایک ہی ایچ ایس  کوڈ کے تحت درآمد ہونے والی ادویات کی کلاسیفیکیشن پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور انہیں زیادہ ڈیوٹی والے زمروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مؤقف اختیار کیا کہ جو ادویات ’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان‘ سے باقاعدہ منظور شدہ ہیں، ان کی کلاسیفیکیشن میں یکایک تبدیلی صرف مالی مفاد کے بجائے واضح قانونی اور سائنسی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ اضافی کسٹمز ڈیوٹیوں کے اثرات صرف تاجروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز نے ادویات کے خام مال پر عائد بھاری کسٹمز ڈیوٹیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کسٹمز کلاسیفیکیشن کے تنازعات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>صنعت کاروں کے مطابق اس قدم کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے ساتھ عوام کو مناسب قیمتوں پر ادویات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔صنعت سے وابستہ ذرائع کے مطابق ریونیو میں اضافے کے لیے دہائیوں سے ایک ہی ایچ ایس  کوڈ کے تحت درآمد ہونے والی ادویات کی کلاسیفیکیشن پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں اور انہیں زیادہ ڈیوٹی والے زمروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ذرائع نے مؤقف اختیار کیا کہ جو ادویات ’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان‘ سے باقاعدہ منظور شدہ ہیں، ان کی کلاسیفیکیشن میں یکایک تبدیلی صرف مالی مفاد کے بجائے واضح قانونی اور سائنسی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ اضافی کسٹمز ڈیوٹیوں کے اثرات صرف تاجروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289756</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 14:56:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0914491089f1abf.webp" type="image/webp" medium="image" height="387" width="516">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0914491089f1abf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
