<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 09 Aug 2026 03:14:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 09 Aug 2026 03:14:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں اپارٹمنٹ رہائش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289728/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ابتدائی دور میں، خصوصاً خاندانوں کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہائش کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس وقت بلند و بالا عمارتیں بھی نہیں تھیں اور مجھے نہیں لگتا کہ لوگوں نے ’اسکائی اسکریپر‘ جیسی کسی چیز کا نام بھی سنا ہوگا، سوائے ان اخباری کہانیوں کے جن میں دور دراز ممالک کی زندگی کے احوال بیان کیے جاتے تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس زمانے میں کراچی ایک پھیلا ہوا اور ہموار شہر تھا۔ چند عمارتوں میں رہائشی یونٹس ضرور موجود تھے جنہیں اس وقت فلیٹس کہا جاتا تھا۔ جی ہاں، ان دنوں اپارٹمنٹ کے لیے عام طور پر ’فلیٹ‘ ہی کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برنس روڈ کے چند معروف فلیٹس بھی ان میں شامل تھے، جو آج بھی موجود ہیں، اگرچہ مجھے یقین ہے کہ اب انہیں فلیٹس کے بجائے اپارٹمنٹس کہا جاتا ہوگا۔ فلیٹ میں رہائش اس زمانے میں زیادہ مقبول نہیں تھی اور شہر کی بیشتر آبادی گھروں میں رہتی تھی۔ کئی علاقوں میں یہ مکانات دراصل فوجی بیرکوں کو رہائشی یونٹس میں تبدیل کرکے بنائے گئے تھے، جنہیں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین اور افسران کو ان کے عہدے کے مطابق الاٹ کیا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشہور شاعر، نقاد، مترجم، صحافی اور براڈکاسٹر شان الحق حقی بھی ان بیرکوں سے بنائے گئے رہائشی مکانات میں مقیم رہے۔ وہ 1977ء میں ریٹائر ہوئے تو ان کا آخری عہدہ ڈپٹی سیکریٹری کا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ بھی فوجی بیرکوں کو رہائشی مکانات میں تبدیل کرکے بنائے گئے انہی گھروں میں رہتے تھے اور ان کا گھر میرے گھر کے عین سامنے تھا، جو خود ایک بیرک کا حصہ تھا۔ یہ نہایت منظم رہائشی علاقے تھے جہاں صاف اور محفوظ پانی چوبیس گھنٹے براہِ راست گھروں میں دستیاب ہوتا تھا۔ اگرچہ کچھ محتاط لوگ پانی ابال کر پیتے تھے، لیکن حقیقت میں اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پانی بالکل محفوظ تھا۔ کئی برس تک جب ہم وہاں رہتے رہے، میں پیاسا گھر پہنچتا تو سب سے پہلے نل سے براہِ راست پانی پیتا اور کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ وہ واقعی ایک بالکل مختلف دنیا تھی—اپارٹمنٹ کلچر سے پہلے کی زندگی اور طرزِ رہائش کی ایک الگ ہی دنیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بات کا ذکر رہ گیا: ٹھنڈی ہوائیں جو ہمارے گھروں اور ہمیں ٹھنڈا رکھتی تھیں۔ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی تھی، یہی وجہ تھی کہ گرمیوں میں بھی ہمیں ایئرکنڈیشنر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پورے نظام کو رواں رکھنے والا ادارہ حکومت کا ایک محکمہ تھا—پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی)۔ کسی بھی مسئلے کی اطلاع ملتے ہی یہ محکمہ مؤثر انداز میں کارروائی کرتا اور تمام سہولیات بخوبی کام کرتی رہتی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن وقت بدل چکا ہے۔ آج اپارٹمنٹ ہی رہائش کا غالب رجحان ہے اور ہر جوڑے کا خواب دو بیڈ روم کا اپارٹمنٹ ہے۔ تاہم اپارٹمنٹ میں رہائش اب وہ آرام دہ تجربہ نہیں رہی جس نے کبھی ہزاروں لوگوں کو اس طرزِ زندگی کی جانب راغب کیا تھا۔ پرانے زمانے کے فلیٹس تقریباً ناپید ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ نئے اپارٹمنٹس نے لے لی ہے، لیکن ان کے ساتھ کچھ سنگین مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپارٹمنٹ مالکان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ پانی کی فراہمی یا عدم فراہمی ہے۔ اب زیادہ تر اپارٹمنٹ کمپلیکس میں انتظامی کمیٹیاں قائم ہوتی ہیں اور اکثر یہ کمیٹیاں سالانہ انتخابات کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ انتخابات عموماً منصفانہ ہوتے ہیں اور منتخب عہدیداروں کو اپارٹمنٹ کمپلیکس کا انتظام چلانے کے لیے مناسب اختیارات بھی دیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپارٹمنٹ کمپلیکس کا انتخاب جیت کر انتظام چلانا دراصل ایک انتہائی مشکل کام ہے، اگرچہ بظاہر یہ آسان دکھائی دیتا ہے۔ میرے خیال میں سب سے اہم اور مشکل کام ہر اپارٹمنٹ سے ماہانہ واجبات کی وصولی ہے۔ یہ رقم بجلی کے بلوں، چوکیداروں، صفائی کے عملے اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں، نیز اپارٹمنٹ کمپلیکس کو پانی فراہم کرنے والے ٹینکروں کے اخراجات سمیت مختلف مدات میں خرچ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیادہ تر اپارٹمنٹس میں ایسے رہائشی ضرور ہوتے ہیں جو مسائل پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر ماہ چوکیدار کو ان سے واجبات وصول کرنے کے لیے ان کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے، جبکہ وہ کسی نہ کسی بہانے ادائیگی مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ یہی لوگ بہترین سہولیات کا مطالبہ بھی کرتے ہیں اور اگر پانی یا کوئی دوسری سہولت فراہم کرنے میں ذرا بھی تاخیر ہوجائے تو ہنگامہ کھڑا کردیتے ہیں اور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے استعفے کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کل اپارٹمنٹ میں رہنے والوں کے لیے سکیورٹی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ حالیہ عرصے میں قتل اور ڈکیتی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں اور بعض واقعات میں متاثرین کی لاشیں کئی ہفتوں تک پڑی رہیں لیکن دیگر رہائشیوں کو اس کا علم تک نہ ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپارٹمنٹ میں رہائش کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آپ اپنے پڑوسیوں کا انتخاب نہیں کرسکتے۔ جس شخص کے پاس مطلوبہ رقم ہو، وہ اپارٹمنٹ خرید کر وہاں منتقل ہوسکتا ہے اور بدقسمتی سے بعض اوقات جرائم پیشہ افراد آپ کے عین ساتھ والے فلیٹ میں آکر رہنے لگتے ہیں، جس کے نتائج آپ کو بھی بھگتنا پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج کراچی جیسے بڑے شہر میں اپارٹمنٹ میں رہائش غالب طرزِ زندگی بن چکی ہے۔ بہت سے لوگوں کا اپنا اپارٹمنٹ رکھنے کا خواب کبھی پورا ہوجاتا ہے اور کبھی ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس طرزِ رہائش کے اپنے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی، لیکن اپارٹمنٹس کی تعمیر اور کراچی کی اسکائی لائن پر نئی عمارتوں کے نمودار ہونے کے ساتھ یہ رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی کی اسکائی لائن اب بلند و بالا عمارتوں سے ڈھک چکی ہے اور مسائل کے باوجود یہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ ہر نئی عمارت لوگوں کے مزید خواب پورے کر رہی ہے، جبکہ ہر عمارت دوسری سے بلند ہونے کی کوشش میں کراچی کے افق پر اپنا مقام بنا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ابتدائی دور میں، خصوصاً خاندانوں کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہائش کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس وقت بلند و بالا عمارتیں بھی نہیں تھیں اور مجھے نہیں لگتا کہ لوگوں نے ’اسکائی اسکریپر‘ جیسی کسی چیز کا نام بھی سنا ہوگا، سوائے ان اخباری کہانیوں کے جن میں دور دراز ممالک کی زندگی کے احوال بیان کیے جاتے تھے۔</strong></p>
<p>اس زمانے میں کراچی ایک پھیلا ہوا اور ہموار شہر تھا۔ چند عمارتوں میں رہائشی یونٹس ضرور موجود تھے جنہیں اس وقت فلیٹس کہا جاتا تھا۔ جی ہاں، ان دنوں اپارٹمنٹ کے لیے عام طور پر ’فلیٹ‘ ہی کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی۔</p>
<p>برنس روڈ کے چند معروف فلیٹس بھی ان میں شامل تھے، جو آج بھی موجود ہیں، اگرچہ مجھے یقین ہے کہ اب انہیں فلیٹس کے بجائے اپارٹمنٹس کہا جاتا ہوگا۔ فلیٹ میں رہائش اس زمانے میں زیادہ مقبول نہیں تھی اور شہر کی بیشتر آبادی گھروں میں رہتی تھی۔ کئی علاقوں میں یہ مکانات دراصل فوجی بیرکوں کو رہائشی یونٹس میں تبدیل کرکے بنائے گئے تھے، جنہیں مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین اور افسران کو ان کے عہدے کے مطابق الاٹ کیا جاتا تھا۔</p>
<p>مشہور شاعر، نقاد، مترجم، صحافی اور براڈکاسٹر شان الحق حقی بھی ان بیرکوں سے بنائے گئے رہائشی مکانات میں مقیم رہے۔ وہ 1977ء میں ریٹائر ہوئے تو ان کا آخری عہدہ ڈپٹی سیکریٹری کا تھا۔</p>
<p>وہ بھی فوجی بیرکوں کو رہائشی مکانات میں تبدیل کرکے بنائے گئے انہی گھروں میں رہتے تھے اور ان کا گھر میرے گھر کے عین سامنے تھا، جو خود ایک بیرک کا حصہ تھا۔ یہ نہایت منظم رہائشی علاقے تھے جہاں صاف اور محفوظ پانی چوبیس گھنٹے براہِ راست گھروں میں دستیاب ہوتا تھا۔ اگرچہ کچھ محتاط لوگ پانی ابال کر پیتے تھے، لیکن حقیقت میں اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ پانی بالکل محفوظ تھا۔ کئی برس تک جب ہم وہاں رہتے رہے، میں پیاسا گھر پہنچتا تو سب سے پہلے نل سے براہِ راست پانی پیتا اور کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ وہ واقعی ایک بالکل مختلف دنیا تھی—اپارٹمنٹ کلچر سے پہلے کی زندگی اور طرزِ رہائش کی ایک الگ ہی دنیا۔</p>
<p>ایک اور بات کا ذکر رہ گیا: ٹھنڈی ہوائیں جو ہمارے گھروں اور ہمیں ٹھنڈا رکھتی تھیں۔ ان کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی تھی، یہی وجہ تھی کہ گرمیوں میں بھی ہمیں ایئرکنڈیشنر کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔</p>
<p>حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پورے نظام کو رواں رکھنے والا ادارہ حکومت کا ایک محکمہ تھا—پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی)۔ کسی بھی مسئلے کی اطلاع ملتے ہی یہ محکمہ مؤثر انداز میں کارروائی کرتا اور تمام سہولیات بخوبی کام کرتی رہتی تھیں۔</p>
<p>لیکن وقت بدل چکا ہے۔ آج اپارٹمنٹ ہی رہائش کا غالب رجحان ہے اور ہر جوڑے کا خواب دو بیڈ روم کا اپارٹمنٹ ہے۔ تاہم اپارٹمنٹ میں رہائش اب وہ آرام دہ تجربہ نہیں رہی جس نے کبھی ہزاروں لوگوں کو اس طرزِ زندگی کی جانب راغب کیا تھا۔ پرانے زمانے کے فلیٹس تقریباً ناپید ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ نئے اپارٹمنٹس نے لے لی ہے، لیکن ان کے ساتھ کچھ سنگین مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اپارٹمنٹ مالکان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ پانی کی فراہمی یا عدم فراہمی ہے۔ اب زیادہ تر اپارٹمنٹ کمپلیکس میں انتظامی کمیٹیاں قائم ہوتی ہیں اور اکثر یہ کمیٹیاں سالانہ انتخابات کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں۔ حیرت انگیز طور پر یہ انتخابات عموماً منصفانہ ہوتے ہیں اور منتخب عہدیداروں کو اپارٹمنٹ کمپلیکس کا انتظام چلانے کے لیے مناسب اختیارات بھی دیے جاتے ہیں۔</p>
<p>اپارٹمنٹ کمپلیکس کا انتخاب جیت کر انتظام چلانا دراصل ایک انتہائی مشکل کام ہے، اگرچہ بظاہر یہ آسان دکھائی دیتا ہے۔ میرے خیال میں سب سے اہم اور مشکل کام ہر اپارٹمنٹ سے ماہانہ واجبات کی وصولی ہے۔ یہ رقم بجلی کے بلوں، چوکیداروں، صفائی کے عملے اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں، نیز اپارٹمنٹ کمپلیکس کو پانی فراہم کرنے والے ٹینکروں کے اخراجات سمیت مختلف مدات میں خرچ ہوتی ہے۔</p>
<p>زیادہ تر اپارٹمنٹس میں ایسے رہائشی ضرور ہوتے ہیں جو مسائل پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔</p>
<p>ہر ماہ چوکیدار کو ان سے واجبات وصول کرنے کے لیے ان کے پیچھے بھاگنا پڑتا ہے، جبکہ وہ کسی نہ کسی بہانے ادائیگی مؤخر کرتے رہتے ہیں۔ یہی لوگ بہترین سہولیات کا مطالبہ بھی کرتے ہیں اور اگر پانی یا کوئی دوسری سہولت فراہم کرنے میں ذرا بھی تاخیر ہوجائے تو ہنگامہ کھڑا کردیتے ہیں اور ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے استعفے کا مطالبہ شروع کردیتے ہیں۔</p>
<p>آج کل اپارٹمنٹ میں رہنے والوں کے لیے سکیورٹی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ حالیہ عرصے میں قتل اور ڈکیتی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں اور بعض واقعات میں متاثرین کی لاشیں کئی ہفتوں تک پڑی رہیں لیکن دیگر رہائشیوں کو اس کا علم تک نہ ہوسکا۔</p>
<p>اپارٹمنٹ میں رہائش کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آپ اپنے پڑوسیوں کا انتخاب نہیں کرسکتے۔ جس شخص کے پاس مطلوبہ رقم ہو، وہ اپارٹمنٹ خرید کر وہاں منتقل ہوسکتا ہے اور بدقسمتی سے بعض اوقات جرائم پیشہ افراد آپ کے عین ساتھ والے فلیٹ میں آکر رہنے لگتے ہیں، جس کے نتائج آپ کو بھی بھگتنا پڑتے ہیں۔</p>
<p>آج کراچی جیسے بڑے شہر میں اپارٹمنٹ میں رہائش غالب طرزِ زندگی بن چکی ہے۔ بہت سے لوگوں کا اپنا اپارٹمنٹ رکھنے کا خواب کبھی پورا ہوجاتا ہے اور کبھی ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس طرزِ رہائش کے اپنے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی، لیکن اپارٹمنٹس کی تعمیر اور کراچی کی اسکائی لائن پر نئی عمارتوں کے نمودار ہونے کے ساتھ یہ رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>کراچی کی اسکائی لائن اب بلند و بالا عمارتوں سے ڈھک چکی ہے اور مسائل کے باوجود یہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ ہر نئی عمارت لوگوں کے مزید خواب پورے کر رہی ہے، جبکہ ہر عمارت دوسری سے بلند ہونے کی کوشش میں کراچی کے افق پر اپنا مقام بنا رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289728</guid>
      <pubDate>Sat, 08 Aug 2026 17:38:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ضیاء الاسلام زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/081725456f1c36c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/081725456f1c36c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
