<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 15:25:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 07 Aug 2026 15:25:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فش ایکسپورٹ انسنٹو اسکیم کو حتمی شکل دینے کے لیے کمیٹی قائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289675/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعہ کو چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ کارکردگی کی بنیاد پر مچھلی کی برآمدات کے لیے ایک ترغیبی (انسینٹو) اسکیم کو حتمی شکل دی جاسکے۔ اس اسکیم کا مقصد موجودہ ٹیکس نظام میں کوئی تبدیلی کیے بغیر سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ اسکیم کے تحت اضافی برآمدی نمو میں پر مراعات دی جائیں گی جبکہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ برقرار رکھا جائے گا۔ اس سے سمندری خوراک (سی فوڈ) کی صنعت کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے ماہی گیری شعبے کی جانب کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا بہترین وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ بہتر مراعات اور برآمد کنندگان کے ساتھ قریبی تعاون سے سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور اس شعبے کا قومی معیشت میں حصہ بھی بڑھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہدفی مراعات اور برآمد کنندگان کے ساتھ مضبوط رابطہ و تعاون پاکستان کی سی فوڈ صنعت کی بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعہ کو چار رکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ کارکردگی کی بنیاد پر مچھلی کی برآمدات کے لیے ایک ترغیبی (انسینٹو) اسکیم کو حتمی شکل دی جاسکے۔ اس اسکیم کا مقصد موجودہ ٹیکس نظام میں کوئی تبدیلی کیے بغیر سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ اسکیم کے تحت اضافی برآمدی نمو میں پر مراعات دی جائیں گی جبکہ موجودہ ٹیکس ڈھانچہ برقرار رکھا جائے گا۔ اس سے سمندری خوراک (سی فوڈ) کی صنعت کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے ماہی گیری شعبے کی جانب کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا بہترین وقت ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ بہتر مراعات اور برآمد کنندگان کے ساتھ قریبی تعاون سے سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات میں اضافہ ہوگا اور اس شعبے کا قومی معیشت میں حصہ بھی بڑھے گا۔</p>
<p>دریں اثنا میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ہدفی مراعات اور برآمد کنندگان کے ساتھ مضبوط رابطہ و تعاون پاکستان کی سی فوڈ صنعت کی بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289675</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 11:54:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/071151506b011cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/071151506b011cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
