<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 15:04:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 07 Aug 2026 15:04:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کشمیر، امن کا نامکمل ایجنڈا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289672/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یوم استحصال کشمیر کا انعقاد ہر سال اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا کے طویل ترین اور سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والے غیر حل شدہ تنازعات میں سے ایک ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور متنازع علاقے کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے یکطرفہ فیصلے کو سات سال گزر چکے ہیں۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ یہ اقدام علاقے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وقت گزرنے سے نہ تو کشمیر تنازع کی اہمیت کم ہوئی ہے اور نہ ہی وہاں کے عوام کی مشکلات میں کمی آئی ہے۔ اس کے برعکس یہ مسئلہ جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ہمسایہ ممالک کے تعلقات پر بدستور گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے جاری بیانات نے ملک کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت حاصل ہے۔ ایسے بیانات ایک اہم حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ عالمی برادری کی جانب سے تحمل اور مذاکرات کے بارہا مطالبات کے باوجود سیاسی حل کی جانب بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ بامعنی رابطوں کی طویل عدم موجودگی نے بداعتمادی کو مزید مضبوط کیا ہے اور کشمیریوں کی آنے والی نسلوں کو غیر یقینی صورتحال اور تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مسلسل تحفظات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہری آزادیوں پر طویل پابندیوں، من مانی گرفتاریوں، دوران حراست تشدد اور اموات، سیاسی سرگرمیوں پر قدغن، میڈیا کی آزادیوں پر پابندیوں اور سخت قوانین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی نشاندہی کی ہے۔ آزاد مبصرین کی جانب سے زیادہ شفافیت، جواب دہی اور علاقے تک بلا روک ٹوک رسائی کے مطالبات بڑی حد تک نظر انداز کیے گئے ہیں۔ جہاں بنیادی حقوق دباؤ کا شکار ہوں اور سیاسی گنجائش محدود ہوتی جائے وہاں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی برادری کی ذمہ داری بھی محض وقتاً فوقتاً تشویش کے اظہار تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسٹرٹیجک اور معاشی مفادات کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باوجود اقوام متحدہ ایسے تنازعات کے حل کے لیے بنیادی فورم ہے۔ مذاکرات کی حوصلہ افزائی، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی غرض سے نئی سفارتی کوششیں ناگزیر ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر حل شدہ تنازع کے وسیع تر نقصانات بھی واضح ہیں۔ جنوبی ایشیا موسمیاتی تبدیلی، غذائی عدم تحفظ، توانائی کی قلت اور معاشی کمزوری جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود دنیا کے کم ترین معاشی طور پر مربوط خطوں میں شامل ہے۔ مسلسل کشیدگی ان اہم ترجیحات سے توجہ اور وسائل ہٹا دیتی ہے۔ بامعنی علاقائی تعاون اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک بھارت رابطوں کے ذرائع دوبارہ بحال کرنے، مقبوضہ علاقے میں احساسِ محرومی بڑھانے والے اقدامات واپس لینے اور سنجیدہ مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر یہ دن نہ صرف کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اعادہ ہونا چاہیے بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہونا چاہیے کہ غیر حل شدہ تنازعات وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ 5 اگست 2019 کے واقعات کے سات سال بعد اور آزادی کے تقریباً 79 سال بعد بھی کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ پائیدار حل صرف مذاکرات، بین الاقوامی قانون کے احترام اور ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کی عکاسی کرے۔ اس وقت تک خطہ ایک ایسے تنازع کی قیمت ادا کرتا رہے گا جو بہت طویل عرصے سے حل طلب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یوم استحصال کشمیر کا انعقاد ہر سال اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا کے طویل ترین اور سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والے غیر حل شدہ تنازعات میں سے ایک ہے۔</strong></p>
<p>5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے اور متنازع علاقے کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کے یکطرفہ فیصلے کو سات سال گزر چکے ہیں۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ یہ اقدام علاقے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔</p>
<p>تاہم وقت گزرنے سے نہ تو کشمیر تنازع کی اہمیت کم ہوئی ہے اور نہ ہی وہاں کے عوام کی مشکلات میں کمی آئی ہے۔ اس کے برعکس یہ مسئلہ جنوبی ایشیا کے دو ایٹمی طاقت رکھنے والے ہمسایہ ممالک کے تعلقات پر بدستور گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔</p>
<p>اس موقع پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی جانب سے جاری بیانات نے ملک کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت حاصل ہے۔ ایسے بیانات ایک اہم حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ عالمی برادری کی جانب سے تحمل اور مذاکرات کے بارہا مطالبات کے باوجود سیاسی حل کی جانب بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ بامعنی رابطوں کی طویل عدم موجودگی نے بداعتمادی کو مزید مضبوط کیا ہے اور کشمیریوں کی آنے والی نسلوں کو غیر یقینی صورتحال اور تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہے۔</p>
<p>اسی طرح بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر مسلسل تحفظات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہری آزادیوں پر طویل پابندیوں، من مانی گرفتاریوں، دوران حراست تشدد اور اموات، سیاسی سرگرمیوں پر قدغن، میڈیا کی آزادیوں پر پابندیوں اور سخت قوانین کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی نشاندہی کی ہے۔ آزاد مبصرین کی جانب سے زیادہ شفافیت، جواب دہی اور علاقے تک بلا روک ٹوک رسائی کے مطالبات بڑی حد تک نظر انداز کیے گئے ہیں۔ جہاں بنیادی حقوق دباؤ کا شکار ہوں اور سیاسی گنجائش محدود ہوتی جائے وہاں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>عالمی برادری کی ذمہ داری بھی محض وقتاً فوقتاً تشویش کے اظہار تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسٹرٹیجک اور معاشی مفادات کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ جغرافیائی سیاسی اختلافات کے باوجود اقوام متحدہ ایسے تنازعات کے حل کے لیے بنیادی فورم ہے۔ مذاکرات کی حوصلہ افزائی، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے کی غرض سے نئی سفارتی کوششیں ناگزیر ہو چکی ہیں۔</p>
<p>غیر حل شدہ تنازع کے وسیع تر نقصانات بھی واضح ہیں۔ جنوبی ایشیا موسمیاتی تبدیلی، غذائی عدم تحفظ، توانائی کی قلت اور معاشی کمزوری جیسے مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود دنیا کے کم ترین معاشی طور پر مربوط خطوں میں شامل ہے۔ مسلسل کشیدگی ان اہم ترجیحات سے توجہ اور وسائل ہٹا دیتی ہے۔ بامعنی علاقائی تعاون اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک بھارت رابطوں کے ذرائع دوبارہ بحال کرنے، مقبوضہ علاقے میں احساسِ محرومی بڑھانے والے اقدامات واپس لینے اور سنجیدہ مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ نہیں کرتا۔</p>
<p>یومِ استحصال کشمیر کے موقع پر یہ دن نہ صرف کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اعادہ ہونا چاہیے بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہونا چاہیے کہ غیر حل شدہ تنازعات وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔ 5 اگست 2019 کے واقعات کے سات سال بعد اور آزادی کے تقریباً 79 سال بعد بھی کشمیر کا مسئلہ جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ پائیدار حل صرف مذاکرات، بین الاقوامی قانون کے احترام اور ایسے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو جموں و کشمیر کے عوام کی خواہشات کی عکاسی کرے۔ اس وقت تک خطہ ایک ایسے تنازع کی قیمت ادا کرتا رہے گا جو بہت طویل عرصے سے حل طلب ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289672</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 10:19:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/071017376bc02ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/071017376bc02ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
