<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 10:11:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 07 Aug 2026 10:11:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے، پاکستانی سمیت 11 شہری زخمی، مزید حملوں کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289667/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے پر کیے گئے حملے میں 11 شہری زخمی ہوگئے، جبکہ ریاض نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں اور ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی شہری تنصیبات پر مزید مربوط حملوں کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعہ کو بتایا کہ نجران صوبے میں ہونے والے حملے میں سات سعودی شہری، ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں چار سالہ ایک بچہ بھی شامل ہے، جو دوسری درجے کے جلنے کے زخموں کا شکار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی المالکی نے حوثیوں پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری علاقوں پر اندھا دھند گولہ باری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اتحاد شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ دوسری جانب حوثیوں یا ایران کی جانب سے فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سینئر سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی عرب، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کی نگرانی میں حوثی اور ایران نواز عراقی ملیشیائیں جلد ہی سعودی عرب کے توانائی کے مراکز، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت شہری تنصیبات پر مشترکہ حملے کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کے مطابق سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنا رہا ہے، تاہم وہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی حل کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ حملوں کا مقصد سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر دو علاقائی ذرائع کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان جمعہ کو ریاض میں ایک دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی بھی جمعہ کو آمد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، حوثیوں نے منگل کو نجران ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور جمعرات کو یمن کے صوبوں ماریب اور حضرموت میں حملوں کے دوران 30 سے زائد یمنی سرکاری فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب نے اپنے تیل کے مراکز پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے تعاون سے عراق میں ایران نواز گروپوں پر حملے کیے تھے، جس کے بعد عراقی ملیشیاؤں نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے پر کیے گئے حملے میں 11 شہری زخمی ہوگئے، جبکہ ریاض نے خبردار کیا ہے کہ حوثیوں اور ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی شہری تنصیبات پر مزید مربوط حملوں کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے جمعہ کو بتایا کہ نجران صوبے میں ہونے والے حملے میں سات سعودی شہری، ایک یمنی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں چار سالہ ایک بچہ بھی شامل ہے، جو دوسری درجے کے جلنے کے زخموں کا شکار ہوا۔</p>
<p>ترکی المالکی نے حوثیوں پر بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری علاقوں پر اندھا دھند گولہ باری کا الزام عائد کیا اور کہا کہ اتحاد شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ دوسری جانب حوثیوں یا ایران کی جانب سے فوری طور پر اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>ایک سینئر سعودی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سعودی عرب، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کی انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کی نگرانی میں حوثی اور ایران نواز عراقی ملیشیائیں جلد ہی سعودی عرب کے توانائی کے مراکز، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت شہری تنصیبات پر مشترکہ حملے کر سکتی ہیں۔</p>
<p>عہدیدار کے مطابق سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنا رہا ہے، تاہم وہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی حل کی حمایت بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ حملوں کا مقصد سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ادھر دو علاقائی ذرائع کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان جمعہ کو ریاض میں ایک دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے والے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی بھی جمعہ کو آمد متوقع ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، حوثیوں نے منگل کو نجران ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور جمعرات کو یمن کے صوبوں ماریب اور حضرموت میں حملوں کے دوران 30 سے زائد یمنی سرکاری فوجیوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا۔ گزشتہ ماہ سعودی عرب نے اپنے تیل کے مراکز پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی سینٹرل کمانڈ کے تعاون سے عراق میں ایران نواز گروپوں پر حملے کیے تھے، جس کے بعد عراقی ملیشیاؤں نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289667</guid>
      <pubDate>Fri, 07 Aug 2026 09:00:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0708571436732f3.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0708571436732f3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
