<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 22:22:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 06 Aug 2026 22:22:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا اسلحے کی کمی کی خبروں کی تردید، امریکا کے پاس بھاری مقدار میں گولہ بارود موجود ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289656/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکا کے پاس گولہ بارود کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے اس کے برعکس دعویٰ کرنے والوں کو جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی، جبکہ ایران سے جنگ کے معاملے پر ان کی برہمی کھل کر سامنے آگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریپبلکن صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اسلحے کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس ”خصوصاً بعض اقسام کے گولہ بارود کی بہت بڑی مقدار موجود ہے“، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے مزید کہا، ”ضرورت کے مطابق بڑی مقدار میں گولہ بارود تیار کرکے امریکا بھیجا جا رہا ہے۔ دفاعی کمپنیاں ہمارے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ نئے پلانٹس اور کارخانے قائم کر رہی ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے گولہ بارود کی قلت سے متعلق رپورٹس پر وضاحت طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے پیٹ ہیگستھ سے کہا کہ ان کے خیال میں گولہ بارود کی قلت کا مسئلہ ”حل ہو چکا تھا“۔ اخبار نے یہ دعویٰ اس گفتگو سے آگاہ دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ”ان غداری پر مبنی بیانات لیک کرنے والوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے“ اور ”ان کے لیے طویل المدتی قید کی سزاؤں کا مطالبہ کیا جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سی این این نے رپورٹ کیا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی قلت نے ایران سے متعلق ٹرمپ کی حکمت عملی کو متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اپنے تھاڈ ( ٹی ایچ اے اے ڈی) فضائی دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز استعمال کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن پوسٹ نے مزید رپورٹ کیا کہ اسی قلت کے باعث ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا منصوبہ منسوخ کر دیا، حالانکہ اس سے قبل وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ”انتہائی سخت“ حملوں کی دھمکی دے چکے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ٹرمپ اور پیٹ ہیگستھ کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق میڈیا کوریج کو ”فیک نیوز“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”میں صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں موجود تھی۔ ایسا کوئی واقعہ ہرگز پیش نہیں آیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے بھی ٹرمپ اور ہیگستھ کے درمیان مبینہ تلخ کلامی اور گولہ بارود کی قلت سے متعلق رپورٹس کو ”یکساں طور پر من گھڑت“ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات جاری نہیں، حالانکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکا کے پاس گولہ بارود کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ انہوں نے اس کے برعکس دعویٰ کرنے والوں کو جیل بھیجنے کی دھمکی بھی دی، جبکہ ایران سے جنگ کے معاملے پر ان کی برہمی کھل کر سامنے آگئی ہے۔</strong></p>
<p>ریپبلکن صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اسلحے کے ذخائر میں کمی سے متعلق میڈیا رپورٹس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس ”خصوصاً بعض اقسام کے گولہ بارود کی بہت بڑی مقدار موجود ہے“، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے مزید کہا، ”ضرورت کے مطابق بڑی مقدار میں گولہ بارود تیار کرکے امریکا بھیجا جا رہا ہے۔ دفاعی کمپنیاں ہمارے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ نئے پلانٹس اور کارخانے قائم کر رہی ہیں۔“</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے گولہ بارود کی قلت سے متعلق رپورٹس پر وضاحت طلب کی تھی۔</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ نے پیٹ ہیگستھ سے کہا کہ ان کے خیال میں گولہ بارود کی قلت کا مسئلہ ”حل ہو چکا تھا“۔ اخبار نے یہ دعویٰ اس گفتگو سے آگاہ دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ ”ان غداری پر مبنی بیانات لیک کرنے والوں کا سراغ لگایا جا رہا ہے“ اور ”ان کے لیے طویل المدتی قید کی سزاؤں کا مطالبہ کیا جائے گا۔“</p>
<p>دوسری جانب سی این این نے رپورٹ کیا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کی قلت نے ایران سے متعلق ٹرمپ کی حکمت عملی کو متاثر کیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اپنے تھاڈ ( ٹی ایچ اے اے ڈی) فضائی دفاعی نظام کے تقریباً 80 فیصد انٹرسیپٹرز استعمال کر چکی ہے۔</p>
<p>واشنگٹن پوسٹ نے مزید رپورٹ کیا کہ اسی قلت کے باعث ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا منصوبہ منسوخ کر دیا، حالانکہ اس سے قبل وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ”انتہائی سخت“ حملوں کی دھمکی دے چکے تھے۔</p>
<p>ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ٹرمپ اور پیٹ ہیگستھ کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق میڈیا کوریج کو ”فیک نیوز“ قرار دیا۔</p>
<p>کیرولین لیویٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ”میں صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں موجود تھی۔ ایسا کوئی واقعہ ہرگز پیش نہیں آیا۔“</p>
<p>پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنل نے بھی ٹرمپ اور ہیگستھ کے درمیان مبینہ تلخ کلامی اور گولہ بارود کی قلت سے متعلق رپورٹس کو ”یکساں طور پر من گھڑت“ قرار دیا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات جاری نہیں، حالانکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران کسی معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289656</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 19:01:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/06185229aaddfc8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/06185229aaddfc8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
