<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 16:48:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 06 Aug 2026 16:48:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیا مودی کے سیاسی زوال کا آغاز ہو چکا ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289646/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شاید تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ”سچائی“ کے ایسے ریکارڈ کی پابندی پر قائم رہے جو ایسے حقائق پر مبنی ہو جو بنیادی طور پر مضبوط اور ناقابلِ تردید ہوں۔ مؤرخین کا زیادہ تخیل استعمال کرنا معمول کے مطابق واقعات کو مسخ کر دیتا ہے۔ تاریخ کو وہ افسانہ نہیں ہونا چاہیے جو جان بوجھ کر سچائی کو چھوڑ دے۔ تاریخ ایک حقیقت ہے، کوئی انسان یا ملک ایسا نہیں جس کی تاریخ نہ ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرے اور کئی دوسرے لوگوں کے افسوس کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی 2012 سے اپنے عہدے پر قائم ہیں۔ اگر کچھ نہ ہوا تو وہ جواہر لال نہرو کا ریکارڈ توڑ کر بھارت کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیراعظم بن جائیں گے۔ ان دو بالکل  متضاد سیاسی کرداروں کا ایک ہی جملے میں ذکر کرنا ایک سیاسی اور تاریخی  گستاخی ہے۔ ایک سیکیولر بھارت کے لیے کھڑا تھا جبکہ دوسرا ہندوتوا کے لیے جدوجہد کررہاہے۔ ایک امن کا داعی انسان بمقابلہ ایک ایسا شخص جو نفرت سے بھرا ہوا ہے اور جو کمزوروں اور مظلوموں کے خلاف تشدد کے استعمال کو خوشی سے بروئے کار لاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نہرو اپنی جیو اور جینے دو کی وابستگی کی وجہ سے مقبول تھے۔ وہ ایک پکے سیکیولر تھے۔ مودی ایک سیاسی اور مذہبی جنونی ہیں۔ ان کی سیاست بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی اقلیت کے خلاف نفرت کو فروغ دینا رہی ہے۔ مودی بھارت کے سیکیولر آئین کو سبوتاژ کرنے کی اپنی تخریبی سیاست میں مسلسل مصروف رہے ہیں۔ انہوں نے حقیقت میں ہندو مت کو اس کی اصل شکل یعنی امن اور رواداری کا مذہب ہونے کی بجائے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہزار سال سے زائد کی حکمرانی کا حوالہ دے کر تاریخ کا ایک مظلوم بنا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے مسلمانوں کے خلاف انتقام کی اپنی سیاست کو کبھی نہیں چھپایا اور نہ ہی اس پر پچھتاوا ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے منظم طریقے سے نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا آغاز گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی سے ہوا جہاں مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کبھی دکھ یا پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔ درحقیقت اس واقعے نے انہیں اپنے تعصب کو آگے بڑھانے کے لیے مزید دلیر بنا دیا۔ انہوں نے اپنے سیاسی ساتھیوں جیسے امیت شاہ کے ساتھ مل کر بھارت کے نوجوانوں میں ہندوتوا کے تصور کو راسخ کیا۔ اب تک وہ کامیاب رہے ہیں، لیکن قدرت کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کا مقصد ہندو بھارت بنانا ہے۔ آر ایس ایس جس کے کارکن گوڈسے نے گاندھی کا قتل کیا تھا، جن سنگھ پارٹی کی پیش رو (بنیاد) تھی جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں تبدیل ہو گئی۔ ایم ایس گولولکر، جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک آر ایس ایس کی قیادت کی، کا ماننا تھا کہ بھارت ہندوؤں کی مقدس زمین ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ہندوستان ہندوؤں کی سر زمین ہے اور یہ صرف ہندو قوم کے پھلنے پھولنے کے لیے ہی ایک بنیاد ہے۔یہ مودی سوچ کی اس دھار کے ایک سرگرم پیروکار ہیں۔ یہ بات ان کے اقدامات اور اعمال سے ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخ حال کے بارے میں ہوتی ہے نہ کہ مستقبل کے بارے میں۔ یہ لمحہ جو اب ہے ایک لمحے بعد تاریخ بن جائے گا۔ ایک ایماندارانہ تجزیے میں مودی کو ہندوستانی سیاست پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کا کریڈٹ دینے کی ضرورت ہے، باوجود اس کے کہ وہ عدم برداشت کے علمبردار ہیں اور جن کی سیاست نفرت میں لپٹی ہوئی ہے۔ ان کا سیاسی جذبہ اور اصول  اکھنڈ بھارت میں پوشیدہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نے معاشی طور پر اچھی ترقی کی ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر بھی وہ بہترین کام کر رہے تھے۔ مودی نے مشرق وسطیٰ میں ہمارے  بھائیوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات استوار کیے، جن میں سے کچھ ہمارے لیے نقصان دہ رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کا غیر ضروری دورہ کرنے تک سفارتی طور پر بہترین جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کو تل ابیب میں لال قالین پر خوش آمدید کہا گیا اور ممکنہ طور پر کوئی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو الگ تھلگ کر دیا۔ اس سفارتی جارحیت کے باوجود مودی کو مشرق وسطیٰ کے ہمارے دوست ممالک کی طرف سے اب بھی  توجہ اور اہمیت دی جا رہی تھی۔ نیتن یاہو اور مودی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ چونکہ مودی اور نیتن یاہو گجرات اور غزہ کے قصائی ہونے کے خطابات کا اشتراک کرتے ہیں، اس لیے وہ  گریٹر اسرائیل اور گریٹر انڈیا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سوچ کی یکسانیت بھی رکھتے ہیں۔ بھارت نیپال، بنگلہ دیش، میانمار اور مالدیپ کے ساتھ دھونس کا رویہ رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے مودی کو جنگی مہارت کا ایک سبق سکھایا۔ ہم نے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی والہانہ قیادت میں بھارتیوں کو ششدر (حیران) کر دیا۔ بھارتی طیاروں کو گرایا جانا کسی بھی فضائیہ کے لیے باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے، فرانسیسی ساختہ رافیل طیارہ ایک ایسا گہرا زخم ہے جسے مودی  سہلا رہے ہیں۔ ہمیں اس سپیرے سے ہوشیار رہنا چاہیے، جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والا اور دیگر زہریلی خصلتوں کا حامل ہے۔ شکست کا یہ زخم امریکی صدر کی جانب سے مسلسل تازہ کیا جاتا ہے، جو اس محدود تصادم میں آسمان سے گرنے والے طیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ کے آخری شمار کے مطابق یہ تعداد گیارہ تھی!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفرت کی سیاست کو بلا تعطل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ جب نظام ناانصافیوں پر استوار کیے جاتے ہیں تو قدرت کا عمل میں آنا اور غلطیوں کی اصلاح کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بد اعمالیوں کا مکافاتِ عمل ایک فطری نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شاید اب مودی کے احتساب کا وقت آ پہنچا ہے، کیونکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے حالات کی سمت درست طور پر نہیں سمجھی اور میرا خیال ہے کہ وہ آئندہ بھی یہی غلطی دہراتے رہیں گے۔ اڈیشہ، مغربی بنگال اور بہار میں کامیابیوں کے بعد مودی خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے تھے۔ تاہم جس احتجاجی تحریک کو کاکروچ کا نام دیا گیا، غالب امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید قوت پکڑے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 سالہ ابھیجیت دیپکے کو کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام اور اس کا نام رکھنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ پارٹی کا نام اس توہین آمیز لفظ سے اخذ کیا گیا، جو بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے استعمال کیا تھا۔ چیف جسٹس نے سوشل میڈیا پر سرگرم بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور طفیلی سے تشبیہ دی تھی۔ اس کے بعد دیپکے نے تمام  کاکروچز سے متحد ہونے کی اپیل کی اور وہ متحد ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس کے ایک توہین آمیز جملے نے بھارت کے نوجوانوں کے لیے ایک نقطۂ اتحاد کی شکل اختیار کر لی، جیسا کہ دیپکے کا کہنا ہے کاکروچ صرف ایک بوسیدہ اور سڑے ہوئے ماحول ہی میں پھلتے پھولتے ہیں، اس لیے جنریشن زی  کی قیادت میں پورے نظام کی تبدیلی  کی ضرورت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ  کاکروچ جنتا پارٹی عام آدمی پارٹی  کی طرح ناکامی یا لڑکھڑاہٹ کا شکار نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچ چِپٹا، رات کے وقت متحرک رہنے والا ایک ایسا کیڑا ہے جس کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ تاہم ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ ان سب کا خول سخت، اینٹینا طویل اور چھ مضبوط ٹانگیں ہوتی ہیں۔ انہی کیڑوں نے ڈھاکا میں حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ یہ ممکنہ سیاسی کاکروچ روشنی سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ مرکزِ نگاہ  اور مرکزی اسٹیج کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ سرد خون والے ہوتے ہیں، وہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک بغیر خوراک کے زندہ رہ سکتے ہیں اور چالیس منٹ سے زیادہ دیر تک سانس روک سکتے ہیں۔ ان کا کاٹنا سوجن پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ بھارت کی  کاکروچ پارٹی نے بلا شک و شبہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی کاکروچز کی ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچ جنتا پارٹی نے 25 سال سے کم عمر کے ان 40 فیصد سے زائد ہندوستانی گریجویٹس کی توجہ حاصل کر لی ہے جو بے روزگار ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں امتحانی پیپرز کے  لیک ہونے کے مسئلے پر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ منوایا۔ سی جے پی اپنے مظاہروں کو دوبارہ شروع کر سکتی ہے کیونکہ ان کے سرکاری ایجنڈے کا مرکزی نقطہ سخت کرپشن مخالف قوانین، عدالتی اصلاحات اور شدید ادارہ جاتی تبدیلیاں ہیں۔ مودی حکومت کو اس کاکروچ انقلاب سے خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں جنریشن زی کی تحریک، جس نے 15 سال سے زائد عرصے سے مضبوطی سے اقتدار پر براجمان حکومت کا تختہ الٹ دیا، نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں کی پیامبر بن چکی ہے۔ سیاسی احیاء (بیداری) کے اس سفر میں نئی دہلی دوسرا پڑاؤ تھا۔ 1968 کی تحریک کے بعد سے نوجوانوں نے ہمیشہ موجودہ نظام (اسٹیٹس کو) کو چیلنج کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی نے نفرت کی جو زہریلی فصل بوئی ہے وہ غالباً جلد یا بدیر اس کے نتیجے میں اٹھنے والے طوفان کا سامنا کریں گے اور اسے بھگتیں گے۔ ایک سوراخ جہاز کو ڈبو دیتا ہے اور ایک گناہ گنہگار کو تباہ کر دیتا ہے۔(جان بنین، ڈراما ’پلگرمز پروگریس)۔ ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“ایک آزمودہ کہاوت ہے۔ تاریخ انسانوں کی حماقتوں کا ایک بڑا ڈھیر اور امبار ہے۔ کاک روچ جنتا پارٹی  مودی کی سیاست کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب بہار ارادے کی کمی اور بے وفائی کی وجہ سے سڑکوں پر دم توڑ گئی تھی۔ سی جے پی ایک ایسی تحریک ہے جو مودی کی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو متحرک کرنے کا امکان رکھتی ہے۔ تخمینہ ہے کہ بھارت کی تقریباً 30 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج پر پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد کیا گیا، جس میں ایک طالب علم کی موت بھی واقع ہوئی۔ پاکستان نے سرکاری طور پر پیلٹ کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور جنتر منتر کا ماحول اس کی تمام وسعتوں میں آسانی سے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود سی جے پی  کی تحریک نے جنوب میں تلنگانہ تک زلزلے کے جھٹکے بھیجے۔ سی جے پی اور اس کا منشور کانگریس پارٹی کے ساتھ مل کر نریندر مودی کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ بہرحال اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی قدرتی اصلاح ہو کر رہے گی، یہ بس وقت کی بات ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاکروچز اکٹھے ہو رہے ہیں اور مودی کے خلاف وقت کی ٹک ٹک جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شاید تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ”سچائی“ کے ایسے ریکارڈ کی پابندی پر قائم رہے جو ایسے حقائق پر مبنی ہو جو بنیادی طور پر مضبوط اور ناقابلِ تردید ہوں۔ مؤرخین کا زیادہ تخیل استعمال کرنا معمول کے مطابق واقعات کو مسخ کر دیتا ہے۔ تاریخ کو وہ افسانہ نہیں ہونا چاہیے جو جان بوجھ کر سچائی کو چھوڑ دے۔ تاریخ ایک حقیقت ہے، کوئی انسان یا ملک ایسا نہیں جس کی تاریخ نہ ہو۔</strong></p>
<p>میرے اور کئی دوسرے لوگوں کے افسوس کی بات یہ ہے کہ نریندر مودی 2012 سے اپنے عہدے پر قائم ہیں۔ اگر کچھ نہ ہوا تو وہ جواہر لال نہرو کا ریکارڈ توڑ کر بھارت کے سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والے وزیراعظم بن جائیں گے۔ ان دو بالکل  متضاد سیاسی کرداروں کا ایک ہی جملے میں ذکر کرنا ایک سیاسی اور تاریخی  گستاخی ہے۔ ایک سیکیولر بھارت کے لیے کھڑا تھا جبکہ دوسرا ہندوتوا کے لیے جدوجہد کررہاہے۔ ایک امن کا داعی انسان بمقابلہ ایک ایسا شخص جو نفرت سے بھرا ہوا ہے اور جو کمزوروں اور مظلوموں کے خلاف تشدد کے استعمال کو خوشی سے بروئے کار لاتا ہے۔</p>
<p>نہرو اپنی جیو اور جینے دو کی وابستگی کی وجہ سے مقبول تھے۔ وہ ایک پکے سیکیولر تھے۔ مودی ایک سیاسی اور مذہبی جنونی ہیں۔ ان کی سیاست بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی اقلیت کے خلاف نفرت کو فروغ دینا رہی ہے۔ مودی بھارت کے سیکیولر آئین کو سبوتاژ کرنے کی اپنی تخریبی سیاست میں مسلسل مصروف رہے ہیں۔ انہوں نے حقیقت میں ہندو مت کو اس کی اصل شکل یعنی امن اور رواداری کا مذہب ہونے کی بجائے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک ہزار سال سے زائد کی حکمرانی کا حوالہ دے کر تاریخ کا ایک مظلوم بنا کر پیش کیا ہے۔ انہوں نے بھارت کے مسلمانوں کے خلاف انتقام کی اپنی سیاست کو کبھی نہیں چھپایا اور نہ ہی اس پر پچھتاوا ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے منظم طریقے سے نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔</p>
<p>اس کا آغاز گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی سے ہوا جہاں مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے کبھی دکھ یا پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا۔ درحقیقت اس واقعے نے انہیں اپنے تعصب کو آگے بڑھانے کے لیے مزید دلیر بنا دیا۔ انہوں نے اپنے سیاسی ساتھیوں جیسے امیت شاہ کے ساتھ مل کر بھارت کے نوجوانوں میں ہندوتوا کے تصور کو راسخ کیا۔ اب تک وہ کامیاب رہے ہیں، لیکن قدرت کے اپنے منصوبے ہوتے ہیں۔</p>
<p>مودی کا مقصد ہندو بھارت بنانا ہے۔ آر ایس ایس جس کے کارکن گوڈسے نے گاندھی کا قتل کیا تھا، جن سنگھ پارٹی کی پیش رو (بنیاد) تھی جو بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں تبدیل ہو گئی۔ ایم ایس گولولکر، جنہوں نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک آر ایس ایس کی قیادت کی، کا ماننا تھا کہ بھارت ہندوؤں کی مقدس زمین ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ ہندوستان ہندوؤں کی سر زمین ہے اور یہ صرف ہندو قوم کے پھلنے پھولنے کے لیے ہی ایک بنیاد ہے۔یہ مودی سوچ کی اس دھار کے ایک سرگرم پیروکار ہیں۔ یہ بات ان کے اقدامات اور اعمال سے ظاہر ہوتی ہے۔</p>
<p>تاریخ حال کے بارے میں ہوتی ہے نہ کہ مستقبل کے بارے میں۔ یہ لمحہ جو اب ہے ایک لمحے بعد تاریخ بن جائے گا۔ ایک ایماندارانہ تجزیے میں مودی کو ہندوستانی سیاست پر مکمل غلبہ حاصل کرنے کا کریڈٹ دینے کی ضرورت ہے، باوجود اس کے کہ وہ عدم برداشت کے علمبردار ہیں اور جن کی سیاست نفرت میں لپٹی ہوئی ہے۔ ان کا سیاسی جذبہ اور اصول  اکھنڈ بھارت میں پوشیدہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت نے معاشی طور پر اچھی ترقی کی ہے۔ بین الاقوامی محاذ پر بھی وہ بہترین کام کر رہے تھے۔ مودی نے مشرق وسطیٰ میں ہمارے  بھائیوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات استوار کیے، جن میں سے کچھ ہمارے لیے نقصان دہ رہے ہیں۔ وہ اسرائیل کا غیر ضروری دورہ کرنے تک سفارتی طور پر بہترین جا رہے تھے۔</p>
<p>مودی کو تل ابیب میں لال قالین پر خوش آمدید کہا گیا اور ممکنہ طور پر کوئی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو الگ تھلگ کر دیا۔ اس سفارتی جارحیت کے باوجود مودی کو مشرق وسطیٰ کے ہمارے دوست ممالک کی طرف سے اب بھی  توجہ اور اہمیت دی جا رہی تھی۔ نیتن یاہو اور مودی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ چونکہ مودی اور نیتن یاہو گجرات اور غزہ کے قصائی ہونے کے خطابات کا اشتراک کرتے ہیں، اس لیے وہ  گریٹر اسرائیل اور گریٹر انڈیا کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے سوچ کی یکسانیت بھی رکھتے ہیں۔ بھارت نیپال، بنگلہ دیش، میانمار اور مالدیپ کے ساتھ دھونس کا رویہ رکھتا ہے۔</p>
<p>پاکستان نے مودی کو جنگی مہارت کا ایک سبق سکھایا۔ ہم نے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی والہانہ قیادت میں بھارتیوں کو ششدر (حیران) کر دیا۔ بھارتی طیاروں کو گرایا جانا کسی بھی فضائیہ کے لیے باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے، فرانسیسی ساختہ رافیل طیارہ ایک ایسا گہرا زخم ہے جسے مودی  سہلا رہے ہیں۔ ہمیں اس سپیرے سے ہوشیار رہنا چاہیے، جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والا اور دیگر زہریلی خصلتوں کا حامل ہے۔ شکست کا یہ زخم امریکی صدر کی جانب سے مسلسل تازہ کیا جاتا ہے، جو اس محدود تصادم میں آسمان سے گرنے والے طیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ٹرمپ کے آخری شمار کے مطابق یہ تعداد گیارہ تھی!</p>
<p>نفرت کی سیاست کو بلا تعطل آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ جب نظام ناانصافیوں پر استوار کیے جاتے ہیں تو قدرت کا عمل میں آنا اور غلطیوں کی اصلاح کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ بد اعمالیوں کا مکافاتِ عمل ایک فطری نتیجہ ہے۔</p>
<p>شاید اب مودی کے احتساب کا وقت آ پہنچا ہے، کیونکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے حالات کی سمت درست طور پر نہیں سمجھی اور میرا خیال ہے کہ وہ آئندہ بھی یہی غلطی دہراتے رہیں گے۔ اڈیشہ، مغربی بنگال اور بہار میں کامیابیوں کے بعد مودی خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگے تھے۔ تاہم جس احتجاجی تحریک کو کاکروچ کا نام دیا گیا، غالب امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ مزید قوت پکڑے گی۔</p>
<p>30 سالہ ابھیجیت دیپکے کو کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام اور اس کا نام رکھنے کا سہرا دیا جاتا ہے۔ پارٹی کا نام اس توہین آمیز لفظ سے اخذ کیا گیا، جو بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے استعمال کیا تھا۔ چیف جسٹس نے سوشل میڈیا پر سرگرم بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ اور طفیلی سے تشبیہ دی تھی۔ اس کے بعد دیپکے نے تمام  کاکروچز سے متحد ہونے کی اپیل کی اور وہ متحد ہو گئے۔</p>
<p>چیف جسٹس کے ایک توہین آمیز جملے نے بھارت کے نوجوانوں کے لیے ایک نقطۂ اتحاد کی شکل اختیار کر لی، جیسا کہ دیپکے کا کہنا ہے کاکروچ صرف ایک بوسیدہ اور سڑے ہوئے ماحول ہی میں پھلتے پھولتے ہیں، اس لیے جنریشن زی  کی قیادت میں پورے نظام کی تبدیلی  کی ضرورت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ  کاکروچ جنتا پارٹی عام آدمی پارٹی  کی طرح ناکامی یا لڑکھڑاہٹ کا شکار نہیں ہوگی۔</p>
<p>کاکروچ چِپٹا، رات کے وقت متحرک رہنے والا ایک ایسا کیڑا ہے جس کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ تاہم ان سب میں مشترک بات یہ ہے کہ ان سب کا خول سخت، اینٹینا طویل اور چھ مضبوط ٹانگیں ہوتی ہیں۔ انہی کیڑوں نے ڈھاکا میں حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ یہ ممکنہ سیاسی کاکروچ روشنی سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ مرکزِ نگاہ  اور مرکزی اسٹیج کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ سرد خون والے ہوتے ہیں، وہ ایک ماہ سے زائد عرصے تک بغیر خوراک کے زندہ رہ سکتے ہیں اور چالیس منٹ سے زیادہ دیر تک سانس روک سکتے ہیں۔ ان کا کاٹنا سوجن پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ بھارت کی  کاکروچ پارٹی نے بلا شک و شبہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھی کاکروچز کی ان تمام خصوصیات کے حامل ہیں۔</p>
<p>کاکروچ جنتا پارٹی نے 25 سال سے کم عمر کے ان 40 فیصد سے زائد ہندوستانی گریجویٹس کی توجہ حاصل کر لی ہے جو بے روزگار ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں امتحانی پیپرز کے  لیک ہونے کے مسئلے پر وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ منوایا۔ سی جے پی اپنے مظاہروں کو دوبارہ شروع کر سکتی ہے کیونکہ ان کے سرکاری ایجنڈے کا مرکزی نقطہ سخت کرپشن مخالف قوانین، عدالتی اصلاحات اور شدید ادارہ جاتی تبدیلیاں ہیں۔ مودی حکومت کو اس کاکروچ انقلاب سے خطرہ لاحق ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش میں جنریشن زی کی تحریک، جس نے 15 سال سے زائد عرصے سے مضبوطی سے اقتدار پر براجمان حکومت کا تختہ الٹ دیا، نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں کی پیامبر بن چکی ہے۔ سیاسی احیاء (بیداری) کے اس سفر میں نئی دہلی دوسرا پڑاؤ تھا۔ 1968 کی تحریک کے بعد سے نوجوانوں نے ہمیشہ موجودہ نظام (اسٹیٹس کو) کو چیلنج کیا ہے۔</p>
<p>نریندر مودی نے نفرت کی جو زہریلی فصل بوئی ہے وہ غالباً جلد یا بدیر اس کے نتیجے میں اٹھنے والے طوفان کا سامنا کریں گے اور اسے بھگتیں گے۔ ایک سوراخ جہاز کو ڈبو دیتا ہے اور ایک گناہ گنہگار کو تباہ کر دیتا ہے۔(جان بنین، ڈراما ’پلگرمز پروگریس)۔ ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“ایک آزمودہ کہاوت ہے۔ تاریخ انسانوں کی حماقتوں کا ایک بڑا ڈھیر اور امبار ہے۔ کاک روچ جنتا پارٹی  مودی کی سیاست کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہو سکتی ہے۔</p>
<p>عرب بہار ارادے کی کمی اور بے وفائی کی وجہ سے سڑکوں پر دم توڑ گئی تھی۔ سی جے پی ایک ایسی تحریک ہے جو مودی کی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی صلاحیتوں کو متحرک کرنے کا امکان رکھتی ہے۔ تخمینہ ہے کہ بھارت کی تقریباً 30 فیصد آبادی 15 سے 29 سال کی عمر کے درمیان ہے۔</p>
<p>جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج پر پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد کیا گیا، جس میں ایک طالب علم کی موت بھی واقع ہوئی۔ پاکستان نے سرکاری طور پر پیلٹ کے استعمال کی مذمت کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت ایک بڑا ملک ہے اور جنتر منتر کا ماحول اس کی تمام وسعتوں میں آسانی سے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود سی جے پی  کی تحریک نے جنوب میں تلنگانہ تک زلزلے کے جھٹکے بھیجے۔ سی جے پی اور اس کا منشور کانگریس پارٹی کے ساتھ مل کر نریندر مودی کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ بہرحال اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی قدرتی اصلاح ہو کر رہے گی، یہ بس وقت کی بات ہے۔</p>
<p>کاکروچز اکٹھے ہو رہے ہیں اور مودی کے خلاف وقت کی ٹک ٹک جاری ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289646</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 14:14:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدین عزیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/061329045283a8e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/061329045283a8e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
