<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:54:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:54:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، 100 انڈیکس تقریباً ایک فیصد بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289634/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو بھی مثبت رجحان برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1 فیصد  سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس تیزی سے 181,500 سے اوپر نکل گیا۔ اس کے بعد پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان سامنے آیا، جس کے باعث صبح کے وقت انڈیکس میں بتدریج کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوپہر کے قریب فروخت کے دباؤ میں شدت آئی، جس نے بینچ مارک کو 180,626.92 پوائنٹس کی دن کی نچلی ترین سطح پر دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دوپہر کے بعد سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بحال ہوئی اور انہوں نے اہم شعبوں کے شیئرز کی خریداری شروع کر دی۔ دوپہر کے بعد بحالی کے عمل میں تیزی آئی اور انڈیکس مسلسل اوپر کی جانب بڑھتا ہوا تجارتی سیشن کے آخری گھنٹے میں 182,007.03 پوائنٹس کی دن کی اعلیٰ ترین سطح کو چھو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,761.66 پوائنٹس یا 0.98 فیصد اضافے کے ساتھ 181,776.59 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مارکیٹ گزشتہ دو سیشنز کے دوران تقریباً 4,700 پوائنٹس بحال کر چکی ہے، جس سے اس ہفتے کے آغاز میں ہونے والے نمایاں نقصان کے ایک بڑے حصے کی تلافی ہو گئی ہے۔ اس تیز رفتاری سے ہونے والی بحالی کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خدشات کم ہونے سے سرمایہ کاروں کے رسک ایپٹائٹ کے رجحان میں بہتری ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نے اہم شعبوں میں خریداری کی حوصلہ افزائی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن کے مطابق مثبت پہلو یہ رہا کہ یو بی ایل، ماری، ایف ایف سی، لک  اور بی اے ایچ ایل بینچ مارک انڈیکس میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے اداروں کے طور پر سامنے آئے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 717 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست بحالی دیکھی گئی جہاں 100 انڈیکس 16 کاروباری سیشنز کے بعد نفسیاتی طور پر اہم 180,000 پوائنٹس کی سطح دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری کا رجحان رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز 100 انڈیکس 2,931.71 پوائنٹس یا 1.66 فیصد اضافے کے بعد 180,014.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر گزشتہ روز مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں تیزی کے بعد جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں قدرے وقفہ دیکھا گیا جبکہ مارکیٹس کی جانب سے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے باعث تیل کی قیمتیں محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.69 فیصد کمی ہوئی جس کی قیادت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ نے کی۔ جنوبی کوریا کے حصص 3.64 فیصد جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 1.57 فیصد گر گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیول میں سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص 2.44 فیصد اور حریف ایس کے ہائینکس کے حصص 6.95 فیصد گر گئے۔ ٹوکیو میں کائیوکسیا کے حصص 9.61 فیصد جبکہ ٹوکیو الیکٹرون کے حصص 4.61 فیصد تنزلی کا شکار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کمی گزشتہ شب وال اسٹریٹ میں کمزور کاروبار کے بعد ہوئی جہاں نیسڈیک کئی روز سے جاری مسلسل تیزی کا سلسلہ توڑ بیٹھا۔ سہ ماہی مالی نتائج کے بعد ایلون مسک کی قیادت میں اسپیس ایکس اور ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز کے حصص میں گراوٹ نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ کمپنی نے اے آئی پر ہونے والی سرمایہ کاری سے توقعات سے زیادہ تیزی سے منافع حاصل ہونے کو نمایاں کیا تاہم سرمایہ کار اس بات پر بدستور تشویش میں مبتلا رہے کہ اس کا منافع بخش اسٹارلنک کاروبار ڈیٹا سینٹرز میں ہونے والی مہنگی سرمایہ کاری کے اخراجات کو مزید کتنے عرصے تک برداشت کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اے ایم ڈی کے مالی نتائج تجزیہ کاروں کی توقعات سے بہتر رہے تاہم وہ سرمایہ کاروں کی بلند توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاکستانی روپے نے معمولی بہتری کے سلسلے کو برقرار رکھا اور جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 فیصد کا اضافہ حاصل کیا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کی بہتری کے بعد 277.72 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئرز انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 740.56 ملین شیئرز کے مقابلے میں بڑھ کر 793.35 ملین شیئرز ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 35.91 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 40.31 ارب روپے تک پہنچ گئی۔بینک آف پنجاب 66.02 ملین شیئرز کی خرید و فروخت کے ساتھ والیوم لیڈر رہا، جس کے بعد یونٹی فوڈز لمیٹڈ 62.51 ملین شیئرز اور سنرجیکو پی کے 56.22 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 283 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 180 میں کمی اور 32 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/08/0618404403b3c8f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/08/0618404403b3c8f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو بھی مثبت رجحان برقرار رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1 فیصد  سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا۔</strong></p>
<p>مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس تیزی سے 181,500 سے اوپر نکل گیا۔ اس کے بعد پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان سامنے آیا، جس کے باعث صبح کے وقت انڈیکس میں بتدریج کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوپہر کے قریب فروخت کے دباؤ میں شدت آئی، جس نے بینچ مارک کو 180,626.92 پوائنٹس کی دن کی نچلی ترین سطح پر دھکیل دیا۔</p>
<p>تاہم دوپہر کے بعد سرمایہ کاروں کی دلچسپی دوبارہ بحال ہوئی اور انہوں نے اہم شعبوں کے شیئرز کی خریداری شروع کر دی۔ دوپہر کے بعد بحالی کے عمل میں تیزی آئی اور انڈیکس مسلسل اوپر کی جانب بڑھتا ہوا تجارتی سیشن کے آخری گھنٹے میں 182,007.03 پوائنٹس کی دن کی اعلیٰ ترین سطح کو چھو گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,761.66 پوائنٹس یا 0.98 فیصد اضافے کے ساتھ 181,776.59 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مارکیٹ گزشتہ دو سیشنز کے دوران تقریباً 4,700 پوائنٹس بحال کر چکی ہے، جس سے اس ہفتے کے آغاز میں ہونے والے نمایاں نقصان کے ایک بڑے حصے کی تلافی ہو گئی ہے۔ اس تیز رفتاری سے ہونے والی بحالی کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خدشات کم ہونے سے سرمایہ کاروں کے رسک ایپٹائٹ کے رجحان میں بہتری ہے، جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نے اہم شعبوں میں خریداری کی حوصلہ افزائی کی۔</p>
<p>ٹاپ لائن کے مطابق مثبت پہلو یہ رہا کہ یو بی ایل، ماری، ایف ایف سی، لک  اور بی اے ایچ ایل بینچ مارک انڈیکس میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے اداروں کے طور پر سامنے آئے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 717 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔</p>
<p>بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست بحالی دیکھی گئی جہاں 100 انڈیکس 16 کاروباری سیشنز کے بعد نفسیاتی طور پر اہم 180,000 پوائنٹس کی سطح دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باعث اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر خریداری کا رجحان رہا۔</p>
<p>گزشتہ روز 100 انڈیکس 2,931.71 پوائنٹس یا 1.66 فیصد اضافے کے بعد 180,014.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر گزشتہ روز مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں تیزی کے بعد جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں قدرے وقفہ دیکھا گیا جبکہ مارکیٹس کی جانب سے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے امکانات کا جائزہ لینے کے باعث تیل کی قیمتیں محدود دائرے میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.69 فیصد کمی ہوئی جس کی قیادت ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ نے کی۔ جنوبی کوریا کے حصص 3.64 فیصد جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس 1.57 فیصد گر گیا۔</p>
<p>سیول میں سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص 2.44 فیصد اور حریف ایس کے ہائینکس کے حصص 6.95 فیصد گر گئے۔ ٹوکیو میں کائیوکسیا کے حصص 9.61 فیصد جبکہ ٹوکیو الیکٹرون کے حصص 4.61 فیصد تنزلی کا شکار ہوئے۔</p>
<p>یہ کمی گزشتہ شب وال اسٹریٹ میں کمزور کاروبار کے بعد ہوئی جہاں نیسڈیک کئی روز سے جاری مسلسل تیزی کا سلسلہ توڑ بیٹھا۔ سہ ماہی مالی نتائج کے بعد ایلون مسک کی قیادت میں اسپیس ایکس اور ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز کے حصص میں گراوٹ نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔</p>
<p>اگرچہ مصنوعی ذہانت اور سیٹلائٹ کمپنی نے اے آئی پر ہونے والی سرمایہ کاری سے توقعات سے زیادہ تیزی سے منافع حاصل ہونے کو نمایاں کیا تاہم سرمایہ کار اس بات پر بدستور تشویش میں مبتلا رہے کہ اس کا منافع بخش اسٹارلنک کاروبار ڈیٹا سینٹرز میں ہونے والی مہنگی سرمایہ کاری کے اخراجات کو مزید کتنے عرصے تک برداشت کر سکتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب اے ایم ڈی کے مالی نتائج تجزیہ کاروں کی توقعات سے بہتر رہے تاہم وہ سرمایہ کاروں کی بلند توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔</p>
<p>دریں اثنا پاکستانی روپے نے معمولی بہتری کے سلسلے کو برقرار رکھا اور جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 فیصد کا اضافہ حاصل کیا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 3 پیسے کی بہتری کے بعد 277.72 پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئرز انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 740.56 ملین شیئرز کے مقابلے میں بڑھ کر 793.35 ملین شیئرز ہو گیا۔</p>
<p>شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 35.91 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 40.31 ارب روپے تک پہنچ گئی۔بینک آف پنجاب 66.02 ملین شیئرز کی خرید و فروخت کے ساتھ والیوم لیڈر رہا، جس کے بعد یونٹی فوڈز لمیٹڈ 62.51 ملین شیئرز اور سنرجیکو پی کے 56.22 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>جمعرات کو مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا، جن میں سے 283 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 180 میں کمی اور 32 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/08/0618404403b3c8f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/08/0618404403b3c8f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289634</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Aug 2026 18:53:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/06112045d20dca5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/06112045d20dca5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
