<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 20:15:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 05 Aug 2026 20:15:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مجوزہ آبنائے ہرمز معاہدے سے ایران کو آنے والی بحری آمدورفت کا کنٹرول مل جائے گا، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289612/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک سینئر ایرانی ذریعے اور خطے کے دو عہدیداروں نے بدھ کو رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور ایک مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کا کنٹرول تہران کو دیا جا سکتا ہے، جو ایران کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی رعایتوں میں سے ایک ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اگرچہ یہ پیش رفت ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ قریب الوقوع ہے۔ ان کے بقول کئی اہم نکات پر اب بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی ذرائع میں سے ایک نے رائٹرز کو بتایا، ”آبنائے ہرمز پر کسی نہ کسی شکل میں ایران کے کنٹرول سے متعلق رعایت پہلے ہی دی جا چکی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے علاقائی ذریعے کے مطابق اب بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ”کنٹرول“ کی عملی نوعیت کیا ہوگی۔ خلیجی ممالک کے مذاکرات کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری جہازوں کی تلاشی کی نگرانی علاقائی ممالک کریں، جبکہ کسی بھی قسم کی فیس کی ادائیگی رضاکارانہ بنیادوں پر ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ زیر غور معاہدے کے مسودے میں یہ تجویز شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر ایران کو اختیار حاصل ہوگا، جبکہ سب سے بڑا اختلاف اس بات پر ہے کہ خلیج سے باہر جانے والے بحری جہازوں پر ایران کا کردار کیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ معاہدے سے متعلق ان انکشافات پر واشنگٹن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے انتظام کو قبول نہیں کریں گے جس کے تحت دنیا کی توانائی کی رسد کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ تک رسائی کا اختیار ایران کو مل جائے۔ تاہم ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام حالیہ دنوں میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، حالانکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی ووٹروں کی اکثریت اس جنگ کی مخالف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="بحیرہ-احمر-میں-حملے-کے-بعد-تیل-مہنگا" href="#بحیرہ-احمر-میں-حملے-کے-بعد-تیل-مہنگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;بحیرہ احمر میں حملے کے بعد تیل مہنگا&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد یمن میں ایران نواز حوثی تحریک نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحیرہ احمر میں سعودی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں پر ہونے والا تازہ حملہ ہے جس نے عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عالمی خام تیل کی قیمتیں اب بھی جولائی کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب ہیں، کیونکہ گزشتہ دو روز کے دوران ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملے روکنے اور مذاکرات شروع ہونے کے دعوے کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ایران عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے گزشتہ ہفتے عمان کی ایک سابقہ تجویز یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ اس میں اسے بہت کم اختیارات دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ٹرمپ-مذاکرات-درست-سمت-میں-آگے-بڑھ-رہے-ہیں" href="#ٹرمپ-مذاکرات-درست-سمت-میں-آگے-بڑھ-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹرمپ: مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات ”اچھی پیش رفت کر رہے ہیں“ اور منگل کو ”پورا دن مذاکرات جاری رہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔ اگر وہ ایک بار پھر پیچھے ہٹے تو انہیں سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی ٹرمپ نے ایران پر ”بڑے پیمانے کے حملے“ روکنے کے فیصلے کی وجہ یہی مذاکرات قرار دی تھی، اور جنگ کے دوران وہ متعدد مرتبہ یہی مؤقف دہراتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم سینئر ایرانی ذریعے نے جلد معاہدہ طے پانے کے امکان کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت تعطیلات پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ”مذاکرات جاری ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ایرانی ذریعے نے کہا، ”اصل معاملہ تفصیلات کا ہے۔ ٹرمپ کی ایک ہی ٹویٹ پورا معاہدہ سبوتاژ کر سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز تک رسائی پر ایران کو کسی بھی نوعیت کا اختیار مل جاتا ہے تو یہ اس بات کا مظہر ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن نمایاں طور پر ایران کے حق میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس کے آزادانہ طور پر کھلی ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ٹرمپ، جنہوں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ”آپریشن ایپک فیوری“ ایران کی ”غیر مشروط ہتھیار ڈالنے“ پر ختم ہوگا اور ایران کی قیادت کے بارے میں بھی فیصلہ وہ خود کریں گے، اب ایسی جنگ سے نکلنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جس کی امریکی ووٹروں کی دو تہائی اکثریت مخالفت کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں کے مال بردار سامان کی مالیت کا 5 سے 7 فیصد بطور فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔ عمان تقریباً 3 فیصد فیس کی تجویز پر بات کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کسی بھی قسم کی فیس کے سخت خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، فیس کی ادائیگی کو کم از کم بظاہر رضاکارانہ قرار دینا تعطل ختم کرنے کا ایک راستہ بن سکتا ہے، تاہم ایران کی ممکنہ کارروائیوں کے خدشے کے باعث جہاز راں کمپنیاں فیس ادا کیے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کا خطرہ مول لینے سے گریز کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی کئی ماہ پر محیط فوجی کارروائیاں، جن میں جولائی کے دوران دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی بمباری بھی شامل ہے، آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کمزور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ امریکی فوجی کمانڈروں نے جولائی میں ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ بعض اہم ہتھیاروں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ رائٹرز نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے تقریباً تمام جدید میزائل استعمال کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوجی دباؤ میں ہر وقفے وقفے سے ہونے والے اضافے کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادیوں نے مزید سخت ردعمل دیا، جن میں یمن کے بڑے حصے اور بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک اور اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول رکھنے والے حوثی جنگجو بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو حوثیوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی تیل بردار ترسیل روکنے کے لیے نافذ کی گئی اس ناکہ بندی کا حصہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے پر قائم کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بھارتی حکام کے مطابق منگل کو یمن کے قریب بھارتی پرچم بردار ایک بحری جہاز ایک گولے کی زد میں آ کر ڈوب گیا۔ جہاز کے تمام 14 عملہ ارکان، جن میں 13 بھارتی شہری شامل تھے، کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ یمن میں حوثیوں کے مخالف اور ملک کے جنوبی حصے میں قائم حکومت نے اس حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک سینئر ایرانی ذریعے اور خطے کے دو عہدیداروں نے بدھ کو رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور ایک مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل ہونے والے بحری جہازوں کا کنٹرول تہران کو دیا جا سکتا ہے، جو ایران کے لیے اب تک کی سب سے بڑی سفارتی رعایتوں میں سے ایک ہوگی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق اگرچہ یہ پیش رفت ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاہدہ قریب الوقوع ہے۔ ان کے بقول کئی اہم نکات پر اب بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔</p>
<p>علاقائی ذرائع میں سے ایک نے رائٹرز کو بتایا، ”آبنائے ہرمز پر کسی نہ کسی شکل میں ایران کے کنٹرول سے متعلق رعایت پہلے ہی دی جا چکی ہے۔“</p>
<p>دوسرے علاقائی ذریعے کے مطابق اب بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ ”کنٹرول“ کی عملی نوعیت کیا ہوگی۔ خلیجی ممالک کے مذاکرات کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بحری جہازوں کی تلاشی کی نگرانی علاقائی ممالک کریں، جبکہ کسی بھی قسم کی فیس کی ادائیگی رضاکارانہ بنیادوں پر ہو۔</p>
<p>سینئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ زیر غور معاہدے کے مسودے میں یہ تجویز شامل ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر ایران کو اختیار حاصل ہوگا، جبکہ سب سے بڑا اختلاف اس بات پر ہے کہ خلیج سے باہر جانے والے بحری جہازوں پر ایران کا کردار کیا ہوگا۔</p>
<p>مجوزہ معاہدے سے متعلق ان انکشافات پر واشنگٹن کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>امریکی حکام متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ کسی ایسے انتظام کو قبول نہیں کریں گے جس کے تحت دنیا کی توانائی کی رسد کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ تک رسائی کا اختیار ایران کو مل جائے۔ تاہم ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام حالیہ دنوں میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، حالانکہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی ووٹروں کی اکثریت اس جنگ کی مخالف ہے۔</p>
<h3><a id="بحیرہ-احمر-میں-حملے-کے-بعد-تیل-مہنگا" href="#بحیرہ-احمر-میں-حملے-کے-بعد-تیل-مہنگا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>بحیرہ احمر میں حملے کے بعد تیل مہنگا</h3>
<p>بدھ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد یمن میں ایران نواز حوثی تحریک نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحیرہ احمر میں سعودی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر پر حملہ کیا ہے۔ یہ مشرقِ وسطیٰ میں بحری جہازوں پر ہونے والا تازہ حملہ ہے جس نے عالمی توانائی کی رسد کو متاثر کیا ہے۔</p>
<p>تاہم عالمی خام تیل کی قیمتیں اب بھی جولائی کے اوائل کے بعد اپنی کم ترین سطح کے قریب ہیں، کیونکہ گزشتہ دو روز کے دوران ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملے روکنے اور مذاکرات شروع ہونے کے دعوے کے بعد قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔</p>
<p>اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم ایران عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، جو آبنائے ہرمز کے دوسرے کنارے پر واقع ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے گزشتہ ہفتے عمان کی ایک سابقہ تجویز یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ اس میں اسے بہت کم اختیارات دیے گئے تھے۔</p>
<h3><a id="ٹرمپ-مذاکرات-درست-سمت-میں-آگے-بڑھ-رہے-ہیں" href="#ٹرمپ-مذاکرات-درست-سمت-میں-آگے-بڑھ-رہے-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹرمپ: مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں</h3>
<p>ٹرمپ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات ”اچھی پیش رفت کر رہے ہیں“ اور منگل کو ”پورا دن مذاکرات جاری رہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔ اگر وہ ایک بار پھر پیچھے ہٹے تو انہیں سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔“</p>
<p>گزشتہ ہفتے کے آخر میں بھی ٹرمپ نے ایران پر ”بڑے پیمانے کے حملے“ روکنے کے فیصلے کی وجہ یہی مذاکرات قرار دی تھی، اور جنگ کے دوران وہ متعدد مرتبہ یہی مؤقف دہراتے رہے ہیں۔</p>
<p>تاہم سینئر ایرانی ذریعے نے جلد معاہدہ طے پانے کے امکان کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس وقت تعطیلات پر ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق ”مذاکرات جاری ہیں، لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے۔“</p>
<p>ایک اور ایرانی ذریعے نے کہا، ”اصل معاملہ تفصیلات کا ہے۔ ٹرمپ کی ایک ہی ٹویٹ پورا معاہدہ سبوتاژ کر سکتی ہے۔“</p>
<p>اگر ایسا معاہدہ طے پا جاتا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز تک رسائی پر ایران کو کسی بھی نوعیت کا اختیار مل جاتا ہے تو یہ اس بات کا مظہر ہوگا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے نتیجے میں خطے میں طاقت کا توازن نمایاں طور پر ایران کے حق میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے بغیر کسی فیس کے آزادانہ طور پر کھلی ہوئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب ٹرمپ، جنہوں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ”آپریشن ایپک فیوری“ ایران کی ”غیر مشروط ہتھیار ڈالنے“ پر ختم ہوگا اور ایران کی قیادت کے بارے میں بھی فیصلہ وہ خود کریں گے، اب ایسی جنگ سے نکلنے کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جس کی امریکی ووٹروں کی دو تہائی اکثریت مخالفت کر رہی ہے۔</p>
<p>سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق، ایران آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں کے مال بردار سامان کی مالیت کا 5 سے 7 فیصد بطور فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔ عمان تقریباً 3 فیصد فیس کی تجویز پر بات کر رہا ہے، جبکہ واشنگٹن کسی بھی قسم کی فیس کے سخت خلاف ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، فیس کی ادائیگی کو کم از کم بظاہر رضاکارانہ قرار دینا تعطل ختم کرنے کا ایک راستہ بن سکتا ہے، تاہم ایران کی ممکنہ کارروائیوں کے خدشے کے باعث جہاز راں کمپنیاں فیس ادا کیے بغیر آبنائے ہرمز سے گزرنے کا خطرہ مول لینے سے گریز کریں گی۔</p>
<p>امریکہ کی کئی ماہ پر محیط فوجی کارروائیاں، جن میں جولائی کے دوران دو ہفتوں تک جاری رہنے والی فضائی بمباری بھی شامل ہے، آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کمزور کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ امریکی فوجی کمانڈروں نے جولائی میں ٹرمپ کو آگاہ کیا تھا کہ بعض اہم ہتھیاروں کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ رائٹرز نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے تقریباً تمام جدید میزائل استعمال کر چکی ہے۔</p>
<p>امریکی فوجی دباؤ میں ہر وقفے وقفے سے ہونے والے اضافے کے جواب میں ایران اور اس کے اتحادیوں نے مزید سخت ردعمل دیا، جن میں یمن کے بڑے حصے اور بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک اور اہم بحری گزرگاہ پر کنٹرول رکھنے والے حوثی جنگجو بھی شامل ہیں۔</p>
<p>بدھ کو حوثیوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی سعودی عرب کی تیل بردار ترسیل روکنے کے لیے نافذ کی گئی اس ناکہ بندی کا حصہ ہے، جو آبنائے ہرمز کے متبادل بحری راستے پر قائم کی گئی ہے۔</p>
<p>ادھر بھارتی حکام کے مطابق منگل کو یمن کے قریب بھارتی پرچم بردار ایک بحری جہاز ایک گولے کی زد میں آ کر ڈوب گیا۔ جہاز کے تمام 14 عملہ ارکان، جن میں 13 بھارتی شہری شامل تھے، کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ یمن میں حوثیوں کے مخالف اور ملک کے جنوبی حصے میں قائم حکومت نے اس حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289612</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 18:27:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/051819548366413.webp" type="image/webp" medium="image" height="359" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/051819548366413.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
