<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 20:15:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 05 Aug 2026 20:15:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی پارلیمانی پینل کا مودی کی ویڈیو ہٹانے پر میٹا سے جواب طلب</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289610/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بدھ کو میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سے وزیراعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں میٹا کے صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جہاں کروڑوں افراد فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 جولائی کو نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ سے خطاب پر مشتمل مودی کی ویڈیو کو میٹا کی ملکیت والے فیس بک اور انسٹاگرام سے کچھ دیر کے لیے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کا کہنا ہے کہ ویڈیو ہٹانا ایک تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پارلیمانی کمیٹی برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ نشی کانت دوبے نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے کا ذمہ دار میٹا کو قرار دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ دوبے نے کہا، ”وزیراعظم کی ویڈیو حذف کرنا کسی ثالث (انٹرمیڈیری) کا نہیں بلکہ ایک پبلشر کا عمل تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، ”مارک زکربرگ کو تین دن کے اندر معافی مانگنا ہوگی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیتی ہیں اور سرکاری حکام یا کمپنیوں کے عہدیداروں کو وضاحت کے لیے طلب کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان کمیٹیوں کو خود جرمانے عائد کرنے، قانونی تحفظ واپس لینے یا کسی کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل نہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف کوئی بھی کارروائی موجودہ قوانین کے تحت حکومت یا عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوبے نے بتایا کہ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”اگر زکربرگ نے معافی نہ مانگی تو ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حاصل تمام ’سیف ہاربر‘ قانونی تحفظات ختم کر دیے جانے چاہییں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ میٹا کے حکام کو ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے کی وضاحت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر میٹا نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی نے 23 جولائی کو، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے عروج کے دوران، براہِ راست کیمرے سے خطاب پر مشتمل یہ عمودی (ورٹیکل) ویڈیو پوسٹ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ احتجاج، جو نئی دہلی سے شروع ہوئے، ابتدا میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف تھا، تاہم بعد ازاں یہ روزگار، نوجوانوں کے مواقع اور ناقدین کے بقول مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے سرگرم صارف مودی نے نوجوانوں تک رسائی کے لیے پہلی مرتبہ انسٹاگرام پر ورٹیکل ویڈیوز کا سہارا لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویڈیو میں مودی نے طلبہ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت امتحانی پرچوں کے افشا (پیپر لیک) کے خلاف مزید سخت قوانین اور سخت سزائیں متعارف کرائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بدھ کو میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سے وزیراعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔</strong></p>
<p>دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں میٹا کے صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جہاں کروڑوں افراد فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>23 جولائی کو نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ سے خطاب پر مشتمل مودی کی ویڈیو کو میٹا کی ملکیت والے فیس بک اور انسٹاگرام سے کچھ دیر کے لیے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا۔</p>
<p>میٹا کا کہنا ہے کہ ویڈیو ہٹانا ایک تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا۔</p>
<p>تاہم پارلیمانی کمیٹی برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ نشی کانت دوبے نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے کا ذمہ دار میٹا کو قرار دیتی ہے۔</p>
<p>حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ دوبے نے کہا، ”وزیراعظم کی ویڈیو حذف کرنا کسی ثالث (انٹرمیڈیری) کا نہیں بلکہ ایک پبلشر کا عمل تھا۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا، ”مارک زکربرگ کو تین دن کے اندر معافی مانگنا ہوگی۔“</p>
<p>بھارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیتی ہیں اور سرکاری حکام یا کمپنیوں کے عہدیداروں کو وضاحت کے لیے طلب کر سکتی ہیں۔</p>
<p>تاہم ان کمیٹیوں کو خود جرمانے عائد کرنے، قانونی تحفظ واپس لینے یا کسی کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل نہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف کوئی بھی کارروائی موجودہ قوانین کے تحت حکومت یا عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔</p>
<p>دوبے نے بتایا کہ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”اگر زکربرگ نے معافی نہ مانگی تو ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حاصل تمام ’سیف ہاربر‘ قانونی تحفظات ختم کر دیے جانے چاہییں۔“</p>
<p>بھارتی میڈیا نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ میٹا کے حکام کو ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے کی وضاحت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر میٹا نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔</p>
<p>مودی نے 23 جولائی کو، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے عروج کے دوران، براہِ راست کیمرے سے خطاب پر مشتمل یہ عمودی (ورٹیکل) ویڈیو پوسٹ کی تھی۔</p>
<p>یہ احتجاج، جو نئی دہلی سے شروع ہوئے، ابتدا میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف تھا، تاہم بعد ازاں یہ روزگار، نوجوانوں کے مواقع اور ناقدین کے بقول مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہو گیا۔</p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے سرگرم صارف مودی نے نوجوانوں تک رسائی کے لیے پہلی مرتبہ انسٹاگرام پر ورٹیکل ویڈیوز کا سہارا لیا۔</p>
<p>ویڈیو میں مودی نے طلبہ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت امتحانی پرچوں کے افشا (پیپر لیک) کے خلاف مزید سخت قوانین اور سخت سزائیں متعارف کرائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289610</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 17:31:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0517282486fc7cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0517282486fc7cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
