<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 15:45:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 05 Aug 2026 15:45:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر کے نامکمل امور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289586/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے پاور سیکٹر سے متعلق تازہ بحث اس امر کی ایک مفید یاد دہانی ہے کہ اصلاحات کا عمل شاذ ہی کبھی سیدھی لکیر میں آگے بڑھتا ہے۔ چند ہی روز میں پاور ڈویژن نے گزشتہ دو برس کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں نمایاں کمی کو اپنی اصلاحاتی حکمتِ عملی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا تاہم ساتھ ہی مالی سال 2025-26 کے دوران گردشی قرضے میں 61 ارب روپے اضافے کا بھی اعتراف کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیپرا نے سوال اٹھایا کہ نقصانات میں رپورٹ کی جانے والی بہتری حقیقی کارکردگی میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے یا محض طویل لوڈشیڈنگ کے ذریعے زیادہ بجلی چوری والے علاقوں کے نقصانات کو دوسرے علاقوں کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ تضاد بظاہر نمایاں ہے، تاہم ضروری نہیں کہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بات میں کوئی زیادہ شک نہیں کہ نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ پاور سیکٹر کو کئی دہائیوں سے جمع ہونے والی ساختی کمزوریوں کا ورثہ ملا جن میں بڑھتا ہوا گردشی قرضہ، کمزور وصولیاں، غیر معمولی نقصانات اور ناقابلِ برداشت سبسڈی کا بوجھ شامل تھا۔ اس پس منظر میں ڈسکوز کے مالی معاملات میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط میں سختی اور گزشتہ مالی سال گردشی قرضے کے حجم میں نمایاں کمی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جہاں حق بنتا ہے، وہاں کریڈٹ دینا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصلاحات کو صرف حسابی نتائج کی بنیاد پر پرکھا نہیں جا سکتا۔ بالآخر ان اصلاحات کے نتیجے میں بجلی کا نظام زیادہ مؤثر، مالی نقصانات کم، خدمات کا معیار بہتر اور وقت کے ساتھ بجلی مزید سستی ہونی چاہیے۔ یہی وہ پیمانے ہیں جن پر اب بھی کئی مشکل سوالات اٹھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپرا کا یہ مشاہدہ کہ نقصانات میں رپورٹ کی جانے والی کمی کی ایک وجہ زیادہ نقصانات والے علاقوں میں زیادہ لوڈشیڈنگ بھی ہوسکتی ہے، نہ کہ حقیقی آپریشنل بہتری، سنجیدگی سے غور کا متقاضی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو ایسا طریقہ مختصر مدت میں مالیاتی اشاریوں کو بہتر بنا سکتا ہے، لیکن یہ جدید بجلی کے نیٹ ورک میں سرمایہ کاری، بہتر میٹرنگ، بجلی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی اور تقسیم کار کمپنیوں کے بہتر انتظام کا متبادل نہیں بن سکتا۔ مسلسل لوڈشیڈنگ محض بجلی کی طلب کو دبا دیتی ہے جبکہ کارکردگی میں کمی کی بنیادی وجوہات کو حل نہیں کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتنی ہی تشویش ناک بات ٹرانسمیشن نظام کی رکاوٹوں سے متعلق ریگولیٹر کے مشاہدات بھی ہیں۔ پاکستان نے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں توسیع پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس میں بڑی تعداد نسبتاً مؤثر ٹیکنالوجیز پر مبنی منصوبوں کی ہے۔ تاہم جنوب سے سستی بجلی کو مکمل طور پر منتقل کرنے میں ناکامی کے باعث پورے نظام میں دیگر مقامات پر نسبتاً مہنگی بجلی کی پیداوار پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس کی لاگت بالآخر صارفین کو وقتاً فوقتاً فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں برداشت کرنا پڑتی ہے جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ ویلیو چین کے ایک مرحلے پر حاصل ہونے والی کارکردگی میں بہتری کی تلافی دوسرے مرحلے کی رکاوٹوں کے باعث ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گردشی قرضے میں اضافہ بھی اس چیلنج کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس بگاڑ کی بنیادی وجہ آپریشنل کارکردگی میں کمی کے بجائے بجٹ میں مختص سبسڈی میں کمی ہے۔ اگر واقعی یہی بنیادی وجہ ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپریشنل اشاریوں میں بہتری کے باوجود بجلی کا شعبہ بروقت مالی معاونت پر کس حد تک انحصار کرتا ہے۔ مالی استحکام کا انحصار غیر معینہ مدت تک بجٹ سے مختص رقوم پر نہیں رہ سکتا، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں سرکاری مالی وسائل پہلے ہی محدود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال ایک وسیع تر حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات اب ایک زیادہ مشکل مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ نسبتاً آسان اقدامات، جن میں ٹیرف کی معقولیت، بجلی خریداری کے معاہدوں پر نظرثانی، وصولیوں میں بہتری اور مالی معاونت شامل ہیں، بڑی حد تک کیے جاچکے ہیں۔ اب باقی رہ جانے والی اصلاحات ادارہ جاتی اعتبار سے زیادہ مشکل ہیں۔ ان میں ٹرانسمیشن کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیمِ نو، گورننس کو مضبوط کرنا، آپریشنل خودمختاری بہتر بنانا اور ایسے مراعاتی نظام تشکیل دینا شامل ہے جو محض نقصانات کو محدود کرنے کے بجائے کارکردگی میں بہتری کی حوصلہ افزائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب سب سے بڑا چیلنج &lt;strong&gt;اعتبار اور ساکھ&lt;/strong&gt; کا ہے۔ پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور شعبے سے متعلق اداروں کو اب تیزی سے ایسے شفاف کارکردگی اشاریوں کے مشترکہ نظام پر انحصار کرنا ہوگا جو عوام کا اعتماد حاصل کر سکیں۔ نقصانات واقعی کم ہورہے ہیں یا محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جارہے ہیں، اس بارے میں متضاد بیانیے ان صارفین کے لیے کسی حد تک تسلی کا باعث نہیں بنتے جو پہلے ہی خطے میں بجلی کے بلند ترین نرخوں میں سے ایک کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ آزادانہ تصدیق، زیادہ شفافیت اور آپریشنل اعداد و شمار کی بروقت اشاعت عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کے اس فقدان کو کم کرنے میں نمایاں مدد دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات بھی دہرانا ضروری ہے کہ اصلاحات کو بذاتِ خود ایک مقصد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا حتمی مقصد صارفین کو کم سے کم پائیدار لاگت پر قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنا اور ساتھ ہی اس شعبے کو مالی طور پر مستحکم رکھنا ہے۔ اگر شعبے کے مالی معاملات میں بہتری کے باوجود بجلی کے نرخ مسلسل بڑھتے رہے تو صارفین لازماً یہ سوال اٹھائیں گے کہ آیا اصلاحات کے وعدہ کردہ فوائد ان تک پہنچ بھی رہے ہیں یا نہیں۔ یہ تاثر خواہ مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاور سیکٹر نے بلاشبہ گزشتہ دو برس کے دوران خاصا فاصلہ طے کیا ہے تاہم اصلاحات کا سفر ابھی بہت دور تک باقی ہے۔ اصلاحات کے اگلے مرحلے کو محض نمایاں اعدادوشمار میں کمی کے بجائے اس بات سے جانچا جائے گا کہ صارفین پر بدستور بوجھ بننے والی بنیادی غیر موثریتوں کو آخرکار کس حد تک دور کیا جاتا ہے۔ صرف اسی صورت میں پاور سیکٹر کی پیش رفت نہ صرف قابلِ پیمائش بلکہ وسیع پیمانے پر قابلِ اعتماد بھی بن سکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے پاور سیکٹر سے متعلق تازہ بحث اس امر کی ایک مفید یاد دہانی ہے کہ اصلاحات کا عمل شاذ ہی کبھی سیدھی لکیر میں آگے بڑھتا ہے۔ چند ہی روز میں پاور ڈویژن نے گزشتہ دو برس کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں نمایاں کمی کو اپنی اصلاحاتی حکمتِ عملی کی کامیابی کے طور پر پیش کیا تاہم ساتھ ہی مالی سال 2025-26 کے دوران گردشی قرضے میں 61 ارب روپے اضافے کا بھی اعتراف کیا۔</strong></p>
<p>اسی دوران بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیپرا نے سوال اٹھایا کہ نقصانات میں رپورٹ کی جانے والی بہتری حقیقی کارکردگی میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے یا محض طویل لوڈشیڈنگ کے ذریعے زیادہ بجلی چوری والے علاقوں کے نقصانات کو دوسرے علاقوں کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔ یہ تضاد بظاہر نمایاں ہے، تاہم ضروری نہیں کہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔</p>
<p>اس بات میں کوئی زیادہ شک نہیں کہ نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ پاور سیکٹر کو کئی دہائیوں سے جمع ہونے والی ساختی کمزوریوں کا ورثہ ملا جن میں بڑھتا ہوا گردشی قرضہ، کمزور وصولیاں، غیر معمولی نقصانات اور ناقابلِ برداشت سبسڈی کا بوجھ شامل تھا۔ اس پس منظر میں ڈسکوز کے مالی معاملات میں بہتری، مالیاتی نظم و ضبط میں سختی اور گزشتہ مالی سال گردشی قرضے کے حجم میں نمایاں کمی کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ جہاں حق بنتا ہے، وہاں کریڈٹ دینا چاہیے۔</p>
<p>تاہم اصلاحات کو صرف حسابی نتائج کی بنیاد پر پرکھا نہیں جا سکتا۔ بالآخر ان اصلاحات کے نتیجے میں بجلی کا نظام زیادہ مؤثر، مالی نقصانات کم، خدمات کا معیار بہتر اور وقت کے ساتھ بجلی مزید سستی ہونی چاہیے۔ یہی وہ پیمانے ہیں جن پر اب بھی کئی مشکل سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p>نیپرا کا یہ مشاہدہ کہ نقصانات میں رپورٹ کی جانے والی کمی کی ایک وجہ زیادہ نقصانات والے علاقوں میں زیادہ لوڈشیڈنگ بھی ہوسکتی ہے، نہ کہ حقیقی آپریشنل بہتری، سنجیدگی سے غور کا متقاضی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو ایسا طریقہ مختصر مدت میں مالیاتی اشاریوں کو بہتر بنا سکتا ہے، لیکن یہ جدید بجلی کے نیٹ ورک میں سرمایہ کاری، بہتر میٹرنگ، بجلی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی اور تقسیم کار کمپنیوں کے بہتر انتظام کا متبادل نہیں بن سکتا۔ مسلسل لوڈشیڈنگ محض بجلی کی طلب کو دبا دیتی ہے جبکہ کارکردگی میں کمی کی بنیادی وجوہات کو حل نہیں کرتی۔</p>
<p>اتنی ہی تشویش ناک بات ٹرانسمیشن نظام کی رکاوٹوں سے متعلق ریگولیٹر کے مشاہدات بھی ہیں۔ پاکستان نے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں توسیع پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس میں بڑی تعداد نسبتاً مؤثر ٹیکنالوجیز پر مبنی منصوبوں کی ہے۔ تاہم جنوب سے سستی بجلی کو مکمل طور پر منتقل کرنے میں ناکامی کے باعث پورے نظام میں دیگر مقامات پر نسبتاً مہنگی بجلی کی پیداوار پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس کی لاگت بالآخر صارفین کو وقتاً فوقتاً فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی صورت میں برداشت کرنا پڑتی ہے جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ ویلیو چین کے ایک مرحلے پر حاصل ہونے والی کارکردگی میں بہتری کی تلافی دوسرے مرحلے کی رکاوٹوں کے باعث ہو رہی ہے۔</p>
<p>گردشی قرضے میں اضافہ بھی اس چیلنج کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق اس بگاڑ کی بنیادی وجہ آپریشنل کارکردگی میں کمی کے بجائے بجٹ میں مختص سبسڈی میں کمی ہے۔ اگر واقعی یہی بنیادی وجہ ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپریشنل اشاریوں میں بہتری کے باوجود بجلی کا شعبہ بروقت مالی معاونت پر کس حد تک انحصار کرتا ہے۔ مالی استحکام کا انحصار غیر معینہ مدت تک بجٹ سے مختص رقوم پر نہیں رہ سکتا، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں سرکاری مالی وسائل پہلے ہی محدود ہیں۔</p>
<p>یہ صورتِ حال ایک وسیع تر حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات اب ایک زیادہ مشکل مرحلے میں داخل ہوچکی ہیں۔ نسبتاً آسان اقدامات، جن میں ٹیرف کی معقولیت، بجلی خریداری کے معاہدوں پر نظرثانی، وصولیوں میں بہتری اور مالی معاونت شامل ہیں، بڑی حد تک کیے جاچکے ہیں۔ اب باقی رہ جانے والی اصلاحات ادارہ جاتی اعتبار سے زیادہ مشکل ہیں۔ ان میں ٹرانسمیشن کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، تقسیم کار کمپنیوں کی تنظیمِ نو، گورننس کو مضبوط کرنا، آپریشنل خودمختاری بہتر بنانا اور ایسے مراعاتی نظام تشکیل دینا شامل ہے جو محض نقصانات کو محدود کرنے کے بجائے کارکردگی میں بہتری کی حوصلہ افزائی کرے۔</p>
<p>اب سب سے بڑا چیلنج <strong>اعتبار اور ساکھ</strong> کا ہے۔ پالیسی سازوں، ریگولیٹرز اور شعبے سے متعلق اداروں کو اب تیزی سے ایسے شفاف کارکردگی اشاریوں کے مشترکہ نظام پر انحصار کرنا ہوگا جو عوام کا اعتماد حاصل کر سکیں۔ نقصانات واقعی کم ہورہے ہیں یا محض ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جارہے ہیں، اس بارے میں متضاد بیانیے ان صارفین کے لیے کسی حد تک تسلی کا باعث نہیں بنتے جو پہلے ہی خطے میں بجلی کے بلند ترین نرخوں میں سے ایک کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ آزادانہ تصدیق، زیادہ شفافیت اور آپریشنل اعداد و شمار کی بروقت اشاعت عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کے اس فقدان کو کم کرنے میں نمایاں مدد دے سکتی ہے۔</p>
<p>یہ بات بھی دہرانا ضروری ہے کہ اصلاحات کو بذاتِ خود ایک مقصد نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا حتمی مقصد صارفین کو کم سے کم پائیدار لاگت پر قابلِ اعتماد بجلی فراہم کرنا اور ساتھ ہی اس شعبے کو مالی طور پر مستحکم رکھنا ہے۔ اگر شعبے کے مالی معاملات میں بہتری کے باوجود بجلی کے نرخ مسلسل بڑھتے رہے تو صارفین لازماً یہ سوال اٹھائیں گے کہ آیا اصلاحات کے وعدہ کردہ فوائد ان تک پہنچ بھی رہے ہیں یا نہیں۔ یہ تاثر خواہ مکمل طور پر درست ہو یا نہ ہو، نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p>پاکستان کے پاور سیکٹر نے بلاشبہ گزشتہ دو برس کے دوران خاصا فاصلہ طے کیا ہے تاہم اصلاحات کا سفر ابھی بہت دور تک باقی ہے۔ اصلاحات کے اگلے مرحلے کو محض نمایاں اعدادوشمار میں کمی کے بجائے اس بات سے جانچا جائے گا کہ صارفین پر بدستور بوجھ بننے والی بنیادی غیر موثریتوں کو آخرکار کس حد تک دور کیا جاتا ہے۔ صرف اسی صورت میں پاور سیکٹر کی پیش رفت نہ صرف قابلِ پیمائش بلکہ وسیع پیمانے پر قابلِ اعتماد بھی بن سکے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289586</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 12:33:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/05114411336a5a8.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/05114411336a5a8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
