<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 14:01:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 05 Aug 2026 14:01:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیٹریوں کی بڑھتی طلب، سولر انقلاب کا نیا مرحلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289579/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دو سال قبل پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب کو محض سولر پینلز کی درآمد کی کہانی سمجھا جا سکتا تھا۔ لیکن آج کسٹمز کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تیزی سے توانائی ذخیرہ کرنے (اسٹوریج) کی کہانی میں تبدیل ہو رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ ترین درآمدی اعداد و شمار میں اس حوالے سے بہت کم گنجائش باقی رہ گئی ہے کہ صورتحال کو نظر انداز کیا جا سکے۔ جولائی میں لیتھیم بیٹریوں کی درآمدات 88 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جو ماضی کے تمام ماہانہ ریکارڈز سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب سولر پینلز کی درآمدات میں بھی بہتری آئی ہے، جو رواں سال کے آغاز میں رفتار کھونے کے بعد دوبارہ بحال ہوئی ہیں۔ یہی بات حالیہ اعداد و شمار کو اہم بناتی ہے۔ بیٹریاں سولر کو تبدیل نہیں کر رہیں، بلکہ اب سولر کے ساتھ رفتار ملا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/05080815af44bb0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/05080815af44bb0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے مجموعی مالیت کے بجائے ایک تناسب کو دیکھنا زیادہ بہتر ہے۔ دو سال قبل پاکستان ہر ایک ڈالر کی لیتھیم بیٹری درآمد کے مقابلے میں تقریباً 80 سے 85 ڈالر کے سولر پینلز درآمد کرتا تھا۔ جولائی 2026 میں یہ فرق کم ہو کر بمشکل 2.5 ڈالر رہ گیا ہے۔ اتنے کم عرصے میں درآمدی رجحانات میں اتنی بڑی تبدیلی بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ اب ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ پاکستان کے شمسی انقلاب کا پہلا مرحلہ دن کے اوقات میں سستی بجلی پیدا کرنے کے گرد گھومتا تھا۔ صارفین نے بڑی تعداد میں سولر پینلز لگوائے کیونکہ بجلی کے نرخ مسلسل بڑھ رہے تھے اور سولر ماڈیولز کی قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی تھیں۔ اس کا معاشی فائدہ واضح تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولت اس پورے تصور کو تبدیل کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سولر پینل بجلی کے بل میں کمی کرتا ہے، جبکہ بیٹری اس بات پر انحصار کم کرتی ہے کہ بجلی کب دستیاب ہے۔ بیٹری صارفین کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ غروب آفتاب کے بعد بھی اپنی پیدا کردہ بجلی استعمال کر سکیں، بجائے اس کے کہ  شام کے اوقات والی مہنگی بجلی گرڈ سے خریدیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مقصد صرف سستی بجلی حاصل کرنا نہیں رہا بلکہ بجلی کے استعمال پر زیادہ اختیار حاصل کرنا بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے مارکیٹ کا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔ شمسی انقلاب کی پہلی لہر تقریباً مکمل طور پر سولر پینلز کی گرتی ہوئی قیمتوں سے چل رہی تھی۔ 2017 میں سولر پینلز کی قیمت تقریباً 0.38 ڈالر فی واٹ تھی جو 2026 تک کم ہو کر تقریباً 0.10 ڈالر فی واٹ رہ گئی ہے۔ اس کے بعد قیمتوں میں مزید کمی سے پیدا ہونے والی خریداری کی گنجائش بتدریج کم ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس بیٹریاں ابھی بھی بڑے پیمانے پر استعمال کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہی ہیں اور ان کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی اعداد و شمار بھی اسی حقیقت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ سولر پینلز کی درآمدات اب بھی نمایاں ہیں اور گزشتہ چند ماہ میں ابتدائی سست روی کے بعد دوبارہ رفتار پکڑ چکی ہیں۔ نئی سولر صلاحیت کی مارکیٹ بدستور فعال ہے، تاہم سب سے تیزی سے بڑھنے والا موقع اب صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ اسے محفوظ کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تبدیلی کے اثرات صرف درآمدی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی گیگا واٹ صلاحیت کے سولر پینلز درآمد کیے جا چکے ہیں، جو سرکاری طور پر نیٹ میٹرنگ کے تحت رجسٹرڈ صلاحیت سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے بڑی تعداد مستقبل میں بیٹری اسٹوریج کی ممکنہ طلب بن سکتی ہے۔ ہر چھت پر نصب سولر نظام مستقبل میں ایک ممکنہ بیٹری صارف ہے، جب بیٹری کی معاشیات مزید بہتر ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے جولائی کے اعداد و شمار خاص توجہ کے مستحق ہیں۔ ماہانہ 88 ملین ڈالر کی بیٹری درآمدات اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہیں، لیکن اس سے بھی بڑی کہانی یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس رجحان کی نمائندگی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسا لگتا ہے کہ صارفین کا سوال اب یہ نہیں رہا کہ سستی بجلی کیسے پیدا کی جائے، بلکہ یہ بن گیا ہے کہ اپنی پیدا کردہ بجلی کو اپنی مرضی کے وقت کیسے استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے شمسی انقلاب کے پہلے مرحلے نے دن کے اوقات میں گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کے معاشی ماڈل کو چیلنج کیا تھا۔ دوسرا مرحلہ سورج غروب ہونے کے بعد بھی گرڈ پر انحصار کو چیلنج کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر جولائی کے اعداد و شمار کوئی اشارہ دیتے ہیں تو یہ تبدیلی پالیسی سازوں، بجلی کی کمپنیوں اور خود مارکیٹ کی توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے سامنے آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دو سال قبل پاکستان میں شمسی توانائی کے انقلاب کو محض سولر پینلز کی درآمد کی کہانی سمجھا جا سکتا تھا۔ لیکن آج کسٹمز کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تیزی سے توانائی ذخیرہ کرنے (اسٹوریج) کی کہانی میں تبدیل ہو رہا ہے۔</strong></p>
<p>تازہ ترین درآمدی اعداد و شمار میں اس حوالے سے بہت کم گنجائش باقی رہ گئی ہے کہ صورتحال کو نظر انداز کیا جا سکے۔ جولائی میں لیتھیم بیٹریوں کی درآمدات 88 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جو ماضی کے تمام ماہانہ ریکارڈز سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب سولر پینلز کی درآمدات میں بھی بہتری آئی ہے، جو رواں سال کے آغاز میں رفتار کھونے کے بعد دوبارہ بحال ہوئی ہیں۔ یہی بات حالیہ اعداد و شمار کو اہم بناتی ہے۔ بیٹریاں سولر کو تبدیل نہیں کر رہیں، بلکہ اب سولر کے ساتھ رفتار ملا رہی ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  ' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/05080815af44bb0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/08/05080815af44bb0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>اس تبدیلی کو سمجھنے کے لیے مجموعی مالیت کے بجائے ایک تناسب کو دیکھنا زیادہ بہتر ہے۔ دو سال قبل پاکستان ہر ایک ڈالر کی لیتھیم بیٹری درآمد کے مقابلے میں تقریباً 80 سے 85 ڈالر کے سولر پینلز درآمد کرتا تھا۔ جولائی 2026 میں یہ فرق کم ہو کر بمشکل 2.5 ڈالر رہ گیا ہے۔ اتنے کم عرصے میں درآمدی رجحانات میں اتنی بڑی تبدیلی بہت کم دیکھنے میں آتی ہے۔</p>
<p>یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ اب ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ پاکستان کے شمسی انقلاب کا پہلا مرحلہ دن کے اوقات میں سستی بجلی پیدا کرنے کے گرد گھومتا تھا۔ صارفین نے بڑی تعداد میں سولر پینلز لگوائے کیونکہ بجلی کے نرخ مسلسل بڑھ رہے تھے اور سولر ماڈیولز کی قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی تھیں۔ اس کا معاشی فائدہ واضح تھا۔</p>
<p>لیکن توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولت اس پورے تصور کو تبدیل کر دیتی ہے۔</p>
<p>سولر پینل بجلی کے بل میں کمی کرتا ہے، جبکہ بیٹری اس بات پر انحصار کم کرتی ہے کہ بجلی کب دستیاب ہے۔ بیٹری صارفین کو یہ سہولت دیتی ہے کہ وہ غروب آفتاب کے بعد بھی اپنی پیدا کردہ بجلی استعمال کر سکیں، بجائے اس کے کہ  شام کے اوقات والی مہنگی بجلی گرڈ سے خریدیں۔</p>
<p>اب مقصد صرف سستی بجلی حاصل کرنا نہیں رہا بلکہ بجلی کے استعمال پر زیادہ اختیار حاصل کرنا بن گیا ہے۔</p>
<p>یہ فرق اس لیے اہم ہے کیونکہ اس سے مارکیٹ کا رخ تبدیل ہو رہا ہے۔ شمسی انقلاب کی پہلی لہر تقریباً مکمل طور پر سولر پینلز کی گرتی ہوئی قیمتوں سے چل رہی تھی۔ 2017 میں سولر پینلز کی قیمت تقریباً 0.38 ڈالر فی واٹ تھی جو 2026 تک کم ہو کر تقریباً 0.10 ڈالر فی واٹ رہ گئی ہے۔ اس کے بعد قیمتوں میں مزید کمی سے پیدا ہونے والی خریداری کی گنجائش بتدریج کم ہو رہی ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس بیٹریاں ابھی بھی بڑے پیمانے پر استعمال کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہی ہیں اور ان کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>درآمدی اعداد و شمار بھی اسی حقیقت کی عکاسی کر رہے ہیں۔ سولر پینلز کی درآمدات اب بھی نمایاں ہیں اور گزشتہ چند ماہ میں ابتدائی سست روی کے بعد دوبارہ رفتار پکڑ چکی ہیں۔ نئی سولر صلاحیت کی مارکیٹ بدستور فعال ہے، تاہم سب سے تیزی سے بڑھنے والا موقع اب صرف بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے کے ساتھ اسے محفوظ کرنا ہے۔</p>
<p>اس تبدیلی کے اثرات صرف درآمدی اعداد و شمار تک محدود نہیں ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی گیگا واٹ صلاحیت کے سولر پینلز درآمد کیے جا چکے ہیں، جو سرکاری طور پر نیٹ میٹرنگ کے تحت رجسٹرڈ صلاحیت سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔</p>
<p>ان میں سے بڑی تعداد مستقبل میں بیٹری اسٹوریج کی ممکنہ طلب بن سکتی ہے۔ ہر چھت پر نصب سولر نظام مستقبل میں ایک ممکنہ بیٹری صارف ہے، جب بیٹری کی معاشیات مزید بہتر ہو جائے گی۔</p>
<p>اسی لیے جولائی کے اعداد و شمار خاص توجہ کے مستحق ہیں۔ ماہانہ 88 ملین ڈالر کی بیٹری درآمدات اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت ہیں، لیکن اس سے بھی بڑی کہانی یہ ہے کہ یہ تبدیلی کس رجحان کی نمائندگی کرتی ہے۔</p>
<p>ایسا لگتا ہے کہ صارفین کا سوال اب یہ نہیں رہا کہ سستی بجلی کیسے پیدا کی جائے، بلکہ یہ بن گیا ہے کہ اپنی پیدا کردہ بجلی کو اپنی مرضی کے وقت کیسے استعمال کیا جائے۔</p>
<p>پاکستان کے شمسی انقلاب کے پہلے مرحلے نے دن کے اوقات میں گرڈ سے حاصل ہونے والی بجلی کے معاشی ماڈل کو چیلنج کیا تھا۔ دوسرا مرحلہ سورج غروب ہونے کے بعد بھی گرڈ پر انحصار کو چیلنج کر سکتا ہے۔</p>
<p>اگر جولائی کے اعداد و شمار کوئی اشارہ دیتے ہیں تو یہ تبدیلی پالیسی سازوں، بجلی کی کمپنیوں اور خود مارکیٹ کی توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے سامنے آ سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289579</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Aug 2026 10:26:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/0510240496e8c7f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/0510240496e8c7f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
