<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 16:55:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 04 Aug 2026 16:55:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک کو اب بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا نہیں، وفاقی وزیر توانائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289559/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاکستان کو اب بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا نہیں ہے، لیکن دوپہر کی زائد سولر توانائی کو سنبھالنے اور شام کے وقت بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بیٹری اسٹوریج اور گرڈ کی لچک میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں سولر اسٹوریج فلیکسیبلٹی 2026 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب بجلی کی پیداوار کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ گرڈ کی لچک کا ہے، یعنی ہم دوپہر کے وقت وافر مقدار میں بننے والی سولر توانائی کو شام کے وقت استعمال میں لانے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ بیرونی واقعات کس طرح توانائی کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتوار چڑھاؤ، آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہاز رانی کے خطرات اور عالمی ایندھن کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اپنے تھرمل پاور پلانٹس چلانے کے لیے زیادہ تر ایندھن باہر سے منگواتا ہے، براہ راست مالیاتی استحکام اور عوام کے اخراجاتِ زندگی کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل میں جب قطر سے آر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی تو پاکستان ایک بڑے امتحان سے گزرا۔ اس دوران ملک کو رات کے وقت پھر سے لوڈشیڈنگ کی طرف جانا پڑا، تاہم سولرائزیشن کی وجہ سے دن کے وقت وافر بجلی موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ توانائی کا کہنا تھا کہ جب ہم آج بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی بات کرتے ہیں تو ہم صرف گرڈ کو متوازن رکھنے کی کسی تکنیک کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ہم پاکستان کی معیشت کو دنیا کی غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔اویس لغاری نے بتایا کہ پاکستان کے مجموعی بجلی کے تناسب میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2035ء تک اس تناسب کو 90 فیصد پاکیزہ توانائی پر لے جایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج اس پرعزم ہدف کو ایک عملی، بااعتماد اور قابلِ حصول منصوبے میں تبدیل کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں اسٹوریج کے بغیر ہماری سولر کی کامیابی ضائع ہونے کا خطرہ بن سکتی ہے، جبکہ اسٹوریج کے ساتھ یہ ہمارا قومی اثاثہ بن جاتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت صرف باہر سے منگوائی گئی بیٹریاں لگانے کے بجائے ملک کے اندر ہی بیٹری پیکس کی مقامی اسمبلنگ دیکھنا چاہتی ہے۔پاکستان میں بیٹری مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے سردار اویس لغاری نے بتایا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار ایک بہترین لوکل مینوفیکچرنگ پالیسی تشکیل دے رہی ہے، جسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی اور اس سے مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز پر ایک قومی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے، جو ریگولیٹرز، ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور تکنیکی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر اس شعبے کو ایک ہم آہنگ قومی سمت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ پاکستان کو اب بجلی کی پیداوار میں کمی کا سامنا نہیں ہے، لیکن دوپہر کی زائد سولر توانائی کو سنبھالنے اور شام کے وقت بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے بیٹری اسٹوریج اور گرڈ کی لچک میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔</strong></p>
<p>اسلام آباد میں سولر اسٹوریج فلیکسیبلٹی 2026 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان کے پاس اب بجلی کی پیداوار کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ گرڈ کی لچک کا ہے، یعنی ہم دوپہر کے وقت وافر مقدار میں بننے والی سولر توانائی کو شام کے وقت استعمال میں لانے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ بیرونی واقعات کس طرح توانائی کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتوار چڑھاؤ، آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہاز رانی کے خطرات اور عالمی ایندھن کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اپنے تھرمل پاور پلانٹس چلانے کے لیے زیادہ تر ایندھن باہر سے منگواتا ہے، براہ راست مالیاتی استحکام اور عوام کے اخراجاتِ زندگی کے لیے خطرہ ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اپریل میں جب قطر سے آر ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی تو پاکستان ایک بڑے امتحان سے گزرا۔ اس دوران ملک کو رات کے وقت پھر سے لوڈشیڈنگ کی طرف جانا پڑا، تاہم سولرائزیشن کی وجہ سے دن کے وقت وافر بجلی موجود تھی۔</p>
<p>وزیرِ توانائی کا کہنا تھا کہ جب ہم آج بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی بات کرتے ہیں تو ہم صرف گرڈ کو متوازن رکھنے کی کسی تکنیک کی بات نہیں کر رہے، بلکہ ہم پاکستان کی معیشت کو دنیا کی غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رکھنے کی بات کر رہے ہیں۔اویس لغاری نے بتایا کہ پاکستان کے مجموعی بجلی کے تناسب میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 55 فیصد تک پہنچ گیا ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ 2035ء تک اس تناسب کو 90 فیصد پاکیزہ توانائی پر لے جایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بیٹری اسٹوریج اس پرعزم ہدف کو ایک عملی، بااعتماد اور قابلِ حصول منصوبے میں تبدیل کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں اسٹوریج کے بغیر ہماری سولر کی کامیابی ضائع ہونے کا خطرہ بن سکتی ہے، جبکہ اسٹوریج کے ساتھ یہ ہمارا قومی اثاثہ بن جاتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت صرف باہر سے منگوائی گئی بیٹریاں لگانے کے بجائے ملک کے اندر ہی بیٹری پیکس کی مقامی اسمبلنگ دیکھنا چاہتی ہے۔پاکستان میں بیٹری مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے سردار اویس لغاری نے بتایا کہ وزارتِ صنعت و پیداوار ایک بہترین لوکل مینوفیکچرنگ پالیسی تشکیل دے رہی ہے، جسے جلد حتمی شکل دے دی جائے گی اور اس سے مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز پر ایک قومی اسٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی ہے، جو ریگولیٹرز، ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور تکنیکی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر اس شعبے کو ایک ہم آہنگ قومی سمت فراہم کرے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289559</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Aug 2026 13:51:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/kYYJkuwwJ7E/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="720" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/kYYJkuwwJ7E/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=kYYJkuwwJ7E"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/041527139191213.webp" type="image/webp" medium="image" height="288" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/041527139191213.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
