<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 23:37:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 01 Aug 2026 23:37:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی کوریا کی درخواست پر انڈونیشیا کے صدر شمالی کوریا سے مذاکرات کے لیے جانے کو تیار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289452/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا کے صدر پربوو سبیانتو نے جمعہ کو کہا کہ جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ شمالی کوریا جا کر مذاکرات کا آغاز کر سکتے ہیں، جس پر انہوں نے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست کی گئی تو وہ ضرور جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سبیانتو نے یہ بات انڈونیشین چیمبر آف کامرس سے خطاب کے دوران کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا تمام ممالک، بشمول چین اور امریکا، کے ساتھ یکساں اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے اپریل میں سیول کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی کوریا کے صدر نے ان سے شمالی کوریا کے ساتھ کسی نوعیت کے مذاکرات شروع کرانے کے لیے پیانگ یانگ جانے کے امکان پر بات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سبیانتو کے بقول، ”سیول کے اپنے گزشتہ دورے کے دوران جنوبی کوریا کے صدر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں شمالی کوریا جا کر کسی نوعیت کے مذاکرات کا آغاز کر سکتا ہوں۔ میں نے پورے احترام اور آمادگی کے ساتھ جواب دیا کہ اگر آپ مجھ سے یہ درخواست کریں گے تو میں ضرور جاؤں گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پربوو سبیانتو نے کہا، ”انڈونیشیا کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، اور ہم اس اصول پر مضبوطی سے قائم ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر نے کہا کہ سیول کا خیال ہے کہ انڈونیشیا اور دیگر وہ ممالک، جن کے تعلقات جنوبی اور شمالی کوریا دونوں کے ساتھ دوستانہ ہیں، جزیرہ نما کوریا میں پُرامن بقائے باہمی کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں، اور جنوبی کوریا اس سلسلے میں ان ممالک کے ساتھ تعاون کے مختلف امکانات کا جائزہ لیتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا روایتی طور پر غیر جانبدار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر پربوو سبیانتو نے ثالثی کی پیشکش کی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے مارچ میں کہا تھا کہ صدر پربوو ایران کی جنگ میں ثالثی کے لیے تیار ہیں تاکہ ”خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر لی جائے میونگ اور صدر پربوو سبیانتو نے توانائی کے تحفظ پر تبادلۂ خیال کیا اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال منصب سنبھالنے کے بعد سے صدر لی جائے میونگ نے پیانگ یانگ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم مذاکرات کے لیے ان کی بار بار کی گئی پیشکشوں کو شمالی کوریا مسترد کرتا آیا ہے۔ شمالی کوریا نے 2024 میں جنوبی کوریا کو ”دشمن ریاست“ قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا کے صدر پربوو سبیانتو نے جمعہ کو کہا کہ جنوبی کوریا کے صدر لی جائے میونگ نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا وہ شمالی کوریا جا کر مذاکرات کا آغاز کر سکتے ہیں، جس پر انہوں نے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر درخواست کی گئی تو وہ ضرور جائیں گے۔</strong></p>
<p>صدر سبیانتو نے یہ بات انڈونیشین چیمبر آف کامرس سے خطاب کے دوران کہی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا تمام ممالک، بشمول چین اور امریکا، کے ساتھ یکساں اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے اپریل میں سیول کے اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی کوریا کے صدر نے ان سے شمالی کوریا کے ساتھ کسی نوعیت کے مذاکرات شروع کرانے کے لیے پیانگ یانگ جانے کے امکان پر بات کی تھی۔</p>
<p>صدر سبیانتو کے بقول، ”سیول کے اپنے گزشتہ دورے کے دوران جنوبی کوریا کے صدر نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں شمالی کوریا جا کر کسی نوعیت کے مذاکرات کا آغاز کر سکتا ہوں۔ میں نے پورے احترام اور آمادگی کے ساتھ جواب دیا کہ اگر آپ مجھ سے یہ درخواست کریں گے تو میں ضرور جاؤں گا۔“</p>
<p>صدر پربوو سبیانتو نے کہا، ”انڈونیشیا کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، اور ہم اس اصول پر مضبوطی سے قائم ہیں۔“</p>
<p>اس پر جنوبی کوریا کے صدر کے دفتر نے کہا کہ سیول کا خیال ہے کہ انڈونیشیا اور دیگر وہ ممالک، جن کے تعلقات جنوبی اور شمالی کوریا دونوں کے ساتھ دوستانہ ہیں، جزیرہ نما کوریا میں پُرامن بقائے باہمی کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کر سکتے ہیں، اور جنوبی کوریا اس سلسلے میں ان ممالک کے ساتھ تعاون کے مختلف امکانات کا جائزہ لیتا رہا ہے۔</p>
<p>انڈونیشیا روایتی طور پر غیر جانبدار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے۔</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں کہ صدر پربوو سبیانتو نے ثالثی کی پیشکش کی ہو۔</p>
<p>انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے مارچ میں کہا تھا کہ صدر پربوو ایران کی جنگ میں ثالثی کے لیے تیار ہیں تاکہ ”خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔“</p>
<p>اپریل میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر لی جائے میونگ اور صدر پربوو سبیانتو نے توانائی کے تحفظ پر تبادلۂ خیال کیا اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>گزشتہ سال منصب سنبھالنے کے بعد سے صدر لی جائے میونگ نے پیانگ یانگ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم مذاکرات کے لیے ان کی بار بار کی گئی پیشکشوں کو شمالی کوریا مسترد کرتا آیا ہے۔ شمالی کوریا نے 2024 میں جنوبی کوریا کو ”دشمن ریاست“ قرار دے دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289452</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 17:11:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/011707192425893.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/011707192425893.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
