<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 21:07:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 01 Aug 2026 21:07:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ درجنوں ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا بانڈ پروگرام مستقل کرے گا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289449/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے ویزا بانڈ پروگرام کو مستقل بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت زیادہ تر افریقی ممالک سمیت 50 ممالک کے شہریوں کو امریکی ویزا حاصل کرنے کے لیے 20 ہزار ڈالر تک کا بانڈ جمع کرانے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بات جمعہ کو آن لائن جاری کیے گئے وفاقی نوٹس میں بتائی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والے نوٹس کے مطابق یہ پروگرام بی ون (B1) اور بی ٹو (B2) ویزوں پر لاگو ہوگا، جو بالترتیب کاروباری اور سیاحتی سفر کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس میں کہا گیا ہے کہ قونصلر افسران ضرورت محسوس ہونے پر ویزا جاری کرنے کی شرط کے طور پر متعلقہ غیر تارکینِ وطن ویزا درخواست گزاروں سے 20 ہزار ڈالر تک کا بانڈ طلب کر سکتے ہیں، اور اس بارے میں فیصلہ ان کی صوابدید پر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوٹس کے مطابق 2025 کے ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام نے امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اور محکمہ خزانہ کو اس پروگرام کے عملی نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے مؤثر بنیاد فراہم کی۔ حاصل شدہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ ویزا بانڈ پروگرام، بانڈ جمع کرانے والے ویزا ہولڈرز کو مقررہ شرائط کا پابند رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پائلٹ پروگرام کے تحت قونصلر افسران درخواست گزاروں سے 5 ہزار، 10 ہزار یا زیادہ سے زیادہ 15 ہزار ڈالر تک کا بانڈ طلب کر سکتے تھے، تاہم حتمی ضابطے میں 5 ہزار ڈالر کے بانڈ کا اختیار ختم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رقم بڑھا کر 20 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حتمی ضابطہ 3 اگست سے نافذ العمل ہوگا، جس روز اسے فیڈرل رجسٹر میں باضابطہ طور پر شائع کیا جائے گا۔ اس پروگرام کا اطلاق جن 50 ممالک کے شہریوں پر ہوگا، ان میں 30 افریقی ممالک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ویزے کی مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام (ویزا اوور اسٹے) کے رجحان کو کم کرنا ہے، جبکہ امیگریشن کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس سے امریکا کا جائز سفر کرنے کے خواہش مند افراد بھی حوصلہ شکنی کا شکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی اظہارِ رائے کی آزادی اور قانونی تقاضوں (ڈیو پراسیس) کی خلاف ورزی ہے، جبکہ اس سے نسلی اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہو رہا ہے اور نسلی بنیادوں پر امتیازی برتاؤ (ریشل پروفائلنگ) کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانا چاہتے ہیں، تاہم ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن بھی مزید مشکل بنا دی ہے۔ اس مقصد کے لیے بعض اقسام کے ویزوں کے درخواست گزاروں پر نئی اور زیادہ فیسیں عائد کی گئی ہیں، جبکہ ویزا درخواست دہندگان اور امریکا میں پہلے سے مقیم تارکینِ وطن کی سوشل میڈیا جانچ پڑتال (سوشل میڈیا ویٹنگ) بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی محکمہ خارجہ نے ویزا بانڈ پروگرام کو مستقل بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت زیادہ تر افریقی ممالک سمیت 50 ممالک کے شہریوں کو امریکی ویزا حاصل کرنے کے لیے 20 ہزار ڈالر تک کا بانڈ جمع کرانے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بات جمعہ کو آن لائن جاری کیے گئے وفاقی نوٹس میں بتائی گئی۔</strong></p>
<p>فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والے نوٹس کے مطابق یہ پروگرام بی ون (B1) اور بی ٹو (B2) ویزوں پر لاگو ہوگا، جو بالترتیب کاروباری اور سیاحتی سفر کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>نوٹس میں کہا گیا ہے کہ قونصلر افسران ضرورت محسوس ہونے پر ویزا جاری کرنے کی شرط کے طور پر متعلقہ غیر تارکینِ وطن ویزا درخواست گزاروں سے 20 ہزار ڈالر تک کا بانڈ طلب کر سکتے ہیں، اور اس بارے میں فیصلہ ان کی صوابدید پر ہوگا۔</p>
<p>نوٹس کے مطابق 2025 کے ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام نے امریکی محکمہ خارجہ، محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی اور محکمہ خزانہ کو اس پروگرام کے عملی نفاذ کا جائزہ لینے کے لیے مؤثر بنیاد فراہم کی۔ حاصل شدہ اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ ویزا بانڈ پروگرام، بانڈ جمع کرانے والے ویزا ہولڈرز کو مقررہ شرائط کا پابند رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا ہے۔</p>
<p>پائلٹ پروگرام کے تحت قونصلر افسران درخواست گزاروں سے 5 ہزار، 10 ہزار یا زیادہ سے زیادہ 15 ہزار ڈالر تک کا بانڈ طلب کر سکتے تھے، تاہم حتمی ضابطے میں 5 ہزار ڈالر کے بانڈ کا اختیار ختم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رقم بڑھا کر 20 ہزار ڈالر کر دی گئی ہے۔</p>
<p>یہ حتمی ضابطہ 3 اگست سے نافذ العمل ہوگا، جس روز اسے فیڈرل رجسٹر میں باضابطہ طور پر شائع کیا جائے گا۔ اس پروگرام کا اطلاق جن 50 ممالک کے شہریوں پر ہوگا، ان میں 30 افریقی ممالک شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ویزے کی مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام (ویزا اوور اسٹے) کے رجحان کو کم کرنا ہے، جبکہ امیگریشن کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس سے امریکا کا جائز سفر کرنے کے خواہش مند افراد بھی حوصلہ شکنی کا شکار ہوں گے۔</p>
<p>دوسری جانب انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی اظہارِ رائے کی آزادی اور قانونی تقاضوں (ڈیو پراسیس) کی خلاف ورزی ہے، جبکہ اس سے نسلی اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہو رہا ہے اور نسلی بنیادوں پر امتیازی برتاؤ (ریشل پروفائلنگ) کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔</p>
<p>اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن پر قابو پانا چاہتے ہیں، تاہم ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن بھی مزید مشکل بنا دی ہے۔ اس مقصد کے لیے بعض اقسام کے ویزوں کے درخواست گزاروں پر نئی اور زیادہ فیسیں عائد کی گئی ہیں، جبکہ ویزا درخواست دہندگان اور امریکا میں پہلے سے مقیم تارکینِ وطن کی سوشل میڈیا جانچ پڑتال (سوشل میڈیا ویٹنگ) بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289449</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Aug 2026 16:34:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/08/011629582a6d1b9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/08/011629582a6d1b9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
