<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 22:12:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 31 Jul 2026 22:12:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا میں مہنگائی کا اہم اشاریہ جولائی میں 7.3 فیصد، 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289431/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سری لنکا میں مہنگائی کے اہم اشاریے میں جولائی کے دوران سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو جون میں 6.8 فیصد تھا۔ شماریات کے محکمے نے جمعہ کو بتایا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مہنگائی کی یہ شرح گزشتہ تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولمبو کنزیومر پرائس انڈیکس، جو ملک گیر قیمتوں کے رجحان کا ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے، سری لنکا کے تجارتی دارالحکومت کولمبو میں مہنگائی کی پیمائش کرتا ہے۔ سری لنکا کا مرکزی بینک شرح سود کے تعین میں بھی اس اشاریے کو مدنظر رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں غذائی اشیا کی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 6.3 فیصد رہی، جو جون میں 3.6 فیصد تھی، جبکہ غیر غذائی اشیا کے شعبے میں مہنگائی 7.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ ماہ 8.4 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا چار سال قبل زرمبادلہ کے ذخائر کی شدید کمی سے پیدا ہونے والے مالی بحران سے بتدریج نکل رہا ہے، جس میں 2.9 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام نے اہم کردار ادا کیا۔ اس بحران کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 70 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، تاہم اس کے بعد سے اس میں بتدریج کمی آتی رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2023 میں مہنگائی 12 فیصد ریکارڈ ہونے کے بعد یہ اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا کے مرکزی بینک نے مہنگائی کا ہدف 5 فیصد مقرر کر رکھا ہے اور اسے توقع ہے کہ درمیانی مدت میں افراطِ زر کی شرح بتدریج کم ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرسٹ کیپیٹل کے ریسرچ کے نائب صدر رنجن راناٹنگا نے کہا، ”یہ پیش گوئی بالکل درست ثابت ہو رہی ہے۔ ہمیں مہنگائی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے، بلکہ آئندہ چند ماہ کے دوران اس میں مزید اضافہ متوقع ہے اور نومبر میں یہ بڑھ کر 8.7 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”مہنگائی میں اس اضافے کی بنیادی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس کے اثرات معیشت کے تمام شعبوں، خصوصاً خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ رواں سال اوسط سالانہ مہنگائی 6.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا میں مارچ کے دوران مہنگائی کی شرح 2.2 فیصد تھی، تاہم ایران جنگ کے باعث ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد اس میں تیزی آنا شروع ہوئی۔ حکومت نے اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 35 فیصد اضافہ کیا، ایندھن کی راشن بندی نافذ کی اور کھپت پر قابو پانے کے لیے بدھ کو سرکاری تعطیل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی میں بلند قیمتوں کے باعث سری لنکا کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہوئے اور جون میں 6.3 فیصد کمی کے بعد 6.4 ارب ڈالر رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیزی سے بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر سری لنکا کے مرکزی بینک نے مئی میں اپنی بنیادی پالیسی شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 8.75 فیصد کر دی، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس اضافے کے اثرات منڈی تک پہنچنے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سری لنکا میں مہنگائی کے اہم اشاریے میں جولائی کے دوران سالانہ بنیاد پر 7.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو جون میں 6.8 فیصد تھا۔ شماریات کے محکمے نے جمعہ کو بتایا کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث مہنگائی کی یہ شرح گزشتہ تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔</strong></p>
<p>کولمبو کنزیومر پرائس انڈیکس، جو ملک گیر قیمتوں کے رجحان کا ایک اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے، سری لنکا کے تجارتی دارالحکومت کولمبو میں مہنگائی کی پیمائش کرتا ہے۔ سری لنکا کا مرکزی بینک شرح سود کے تعین میں بھی اس اشاریے کو مدنظر رکھتا ہے۔</p>
<p>تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں غذائی اشیا کی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 6.3 فیصد رہی، جو جون میں 3.6 فیصد تھی، جبکہ غیر غذائی اشیا کے شعبے میں مہنگائی 7.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ ماہ 8.4 فیصد تھی۔</p>
<p>سری لنکا چار سال قبل زرمبادلہ کے ذخائر کی شدید کمی سے پیدا ہونے والے مالی بحران سے بتدریج نکل رہا ہے، جس میں 2.9 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام نے اہم کردار ادا کیا۔ اس بحران کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 70 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، تاہم اس کے بعد سے اس میں بتدریج کمی آتی رہی ہے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2023 میں مہنگائی 12 فیصد ریکارڈ ہونے کے بعد یہ اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی ہے۔</p>
<p>سری لنکا کے مرکزی بینک نے مہنگائی کا ہدف 5 فیصد مقرر کر رکھا ہے اور اسے توقع ہے کہ درمیانی مدت میں افراطِ زر کی شرح بتدریج کم ہو جائے گی۔</p>
<p>فرسٹ کیپیٹل کے ریسرچ کے نائب صدر رنجن راناٹنگا نے کہا، ”یہ پیش گوئی بالکل درست ثابت ہو رہی ہے۔ ہمیں مہنگائی میں کمی کے آثار نظر نہیں آ رہے، بلکہ آئندہ چند ماہ کے دوران اس میں مزید اضافہ متوقع ہے اور نومبر میں یہ بڑھ کر 8.7 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”مہنگائی میں اس اضافے کی بنیادی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جس کے اثرات معیشت کے تمام شعبوں، خصوصاً خوراک اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر منتقل ہو رہے ہیں۔ رواں سال اوسط سالانہ مہنگائی 6.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔“</p>
<p>سری لنکا میں مارچ کے دوران مہنگائی کی شرح 2.2 فیصد تھی، تاہم ایران جنگ کے باعث ایندھن کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے بعد اس میں تیزی آنا شروع ہوئی۔ حکومت نے اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 35 فیصد اضافہ کیا، ایندھن کی راشن بندی نافذ کی اور کھپت پر قابو پانے کے لیے بدھ کو سرکاری تعطیل قرار دیا۔</p>
<p>عالمی منڈی میں بلند قیمتوں کے باعث سری لنکا کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی متاثر ہوئے اور جون میں 6.3 فیصد کمی کے بعد 6.4 ارب ڈالر رہ گئے۔</p>
<p>تیزی سے بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر سری لنکا کے مرکزی بینک نے مئی میں اپنی بنیادی پالیسی شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 8.75 فیصد کر دی، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس اضافے کے اثرات منڈی تک پہنچنے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289431</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 19:15:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/31191012d54cc0a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/31191012d54cc0a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
