<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 22:24:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 22:24:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قراقرم : 10 لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 4 کی لاشیں مل گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289420/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی ذرائع کے مطابق براڈ پیک پر مبینہ برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتا ہونے والے کم از کم 10 کوہ پیماؤں میں سے چار کی لاشوں کا سراغ جمعہ کو سرچ ٹیموں نے لگا لیا، تاہم انہیں تاحال نکالا نہیں جا سکا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے مطابق لاپتا کوہ پیماؤں میں 43 سالہ نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا بھی شامل ہیں، جن کے پاس دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو کم ترین وقت میں سر کرنے کا عالمی ریکارڈ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق جمعرات کو دوپہر کے قریب 8,051 میٹر بلند براڈ پیک، جو دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے، پر برفانی تودہ گرنے سے کوہ پیماؤں کا گروپ اس کی زد میں آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد حسین نے رائٹرز کو بتایا کہ جمعہ کو بھی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سرچ آپریشن ایک دور افتادہ اور انتہائی دشوار گزار علاقے میں جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق چار لاشوں کا سراغ تو مل گیا ہے، تاہم انہیں ابھی تک وہاں سے نکالا نہیں جا سکا، جبکہ لاشوں کے مقام کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق پاک فوج کے ایوی ایشن ونگ کے دو ریسکیو ہیلی کاپٹر بھی امدادی کارروائیوں کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلب نے اپنے بیان میں کہا، ”ہم لاپتا کوہ پیماؤں کی بحفاظت بازیابی کے لیے پُرامید ہیں۔ برفانی تودہ گرنے کے بعد سے پوری ٹیم سے رابطہ منقطع ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے سی پی کے مطابق مہم میں نرمل پرجا سمیت نیپال، پاکستان، عمان، امریکا اور چین سے تعلق رکھنے والے 10 کوہ پیما شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے جمعہ کو پریس بریفنگ میں کہا کہ چینی حکام صورتحال کی فوری تصدیق اور معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں اور پاکستان کی ضرورت کے مطابق ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیپال کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ لاپتا 10 کوہ پیماؤں میں سے چھ نیپالی شہری ہیں۔ وزارت کے مطابق پاکستانی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بروقت تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریکنگ کمپنی سیون سمٹ ٹریکس کے بورڈ ڈائریکٹر چھانگ داوا شیرپا نے رائٹرز کو بتایا کہ لاپتا افراد میں کمپنی کے تین شیرپا گائیڈز بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ برفانی تودہ گرنے کے وقت ٹیم کا آخری معلوم مقام 6,600 میٹر کی بلندی پر تھا، جہاں سے وہ سیدھے نیچے جا گرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلگت بلتستان میں واقع براڈ پیک پاکستان کی مشکل ترین کوہ پیمائی چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نرمل پرجا نے 23 اپریل 2019 کو دنیا کی دسویں بلند ترین چوٹی اناپورنا سر کرنے کے بعد دیگر آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سال بعد ان کے کوہ پیمائی کے سفر پر مبنی نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم ریلیز ہونے کے بعد انہیں عالمی سطح پر مزید شہرت حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ نیپال، پانچ پاکستان اور ایک تبت میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اب تک تین درجن سے کچھ زائد کوہ پیما ہی دنیا کی تمام 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی ذرائع کے مطابق براڈ پیک پر مبینہ برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتا ہونے والے کم از کم 10 کوہ پیماؤں میں سے چار کی لاشوں کا سراغ جمعہ کو سرچ ٹیموں نے لگا لیا، تاہم انہیں تاحال نکالا نہیں جا سکا۔</strong></p>
<p>الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کے مطابق لاپتا کوہ پیماؤں میں 43 سالہ نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا بھی شامل ہیں، جن کے پاس دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں کو کم ترین وقت میں سر کرنے کا عالمی ریکارڈ ہے۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق جمعرات کو دوپہر کے قریب 8,051 میٹر بلند براڈ پیک، جو دنیا کی بارہویں بلند ترین چوٹی ہے، پر برفانی تودہ گرنے سے کوہ پیماؤں کا گروپ اس کی زد میں آ گیا۔</p>
<p>گلگت بلتستان کے محکمہ سیاحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد حسین نے رائٹرز کو بتایا کہ جمعہ کو بھی تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سرچ آپریشن ایک دور افتادہ اور انتہائی دشوار گزار علاقے میں جاری ہے۔</p>
<p>پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق چار لاشوں کا سراغ تو مل گیا ہے، تاہم انہیں ابھی تک وہاں سے نکالا نہیں جا سکا، جبکہ لاشوں کے مقام کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔</p>
<p>الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق پاک فوج کے ایوی ایشن ونگ کے دو ریسکیو ہیلی کاپٹر بھی امدادی کارروائیوں کے لیے روانہ کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>کلب نے اپنے بیان میں کہا، ”ہم لاپتا کوہ پیماؤں کی بحفاظت بازیابی کے لیے پُرامید ہیں۔ برفانی تودہ گرنے کے بعد سے پوری ٹیم سے رابطہ منقطع ہے۔“</p>
<p>اے سی پی کے مطابق مہم میں نرمل پرجا سمیت نیپال، پاکستان، عمان، امریکا اور چین سے تعلق رکھنے والے 10 کوہ پیما شامل تھے۔</p>
<p>چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے جمعہ کو پریس بریفنگ میں کہا کہ چینی حکام صورتحال کی فوری تصدیق اور معلومات اکٹھی کرنے میں مصروف ہیں اور پاکستان کی ضرورت کے مطابق ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔</p>
<p>نیپال کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ لاپتا 10 کوہ پیماؤں میں سے چھ نیپالی شہری ہیں۔ وزارت کے مطابق پاکستانی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بروقت تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔</p>
<p>ٹریکنگ کمپنی سیون سمٹ ٹریکس کے بورڈ ڈائریکٹر چھانگ داوا شیرپا نے رائٹرز کو بتایا کہ لاپتا افراد میں کمپنی کے تین شیرپا گائیڈز بھی شامل ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ برفانی تودہ گرنے کے وقت ٹیم کا آخری معلوم مقام 6,600 میٹر کی بلندی پر تھا، جہاں سے وہ سیدھے نیچے جا گرے۔</p>
<p>گلگت بلتستان میں واقع براڈ پیک پاکستان کی مشکل ترین کوہ پیمائی چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔</p>
<p>نرمل پرجا نے 23 اپریل 2019 کو دنیا کی دسویں بلند ترین چوٹی اناپورنا سر کرنے کے بعد دیگر آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔</p>
<p>دو سال بعد ان کے کوہ پیمائی کے سفر پر مبنی نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم ریلیز ہونے کے بعد انہیں عالمی سطح پر مزید شہرت حاصل ہوئی۔</p>
<p>دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیوں میں سے آٹھ نیپال، پانچ پاکستان اور ایک تبت میں واقع ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اب تک تین درجن سے کچھ زائد کوہ پیما ہی دنیا کی تمام 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289420</guid>
      <pubDate>Fri, 31 Jul 2026 17:21:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/311409312158866.webp" type="image/webp" medium="image" height="677" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/311409312158866.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
