<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 22:58:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Jul 2026 22:58:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین نے امریکا کو تازہ ترین تجارتی پابندیوں پر اپنی 'سنگین تشویش' سے آگاہ کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289397/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چین کے اعلیٰ تجارتی عہدیدار نے جمعرات کو اپنے امریکی ہم منصبوں سے کہا ہے کہ بیجنگ کو واشنگٹن کی جانب سے حالیہ عائد کردہ تجارتی پابندیوں پر ”سنگین تشویش“ ہے۔ یہ بات چینی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین اور امریکا گزشتہ سال کے بیشتر حصے میں بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ میں الجھے رہے، تاہم گزشتہ اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی آ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ تناؤ نے اس تعطل کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ نے گزشتہ ہفتے جبری مشقت سے متعلق خدشات کے تحت چین اور 59 دیگر ممالک پر امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) کی مذمت کرتے ہوئے واشنگٹن کو تجارتی جنگ سے گریز کرنے کا انتباہ بھی دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین نے بدھ کو امریکا پر چینی کمپنیوں کو ”دبانے“ کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا، جس کے بعد واشنگٹن نے بیرونِ ملک تیار کیے گئے ہیومنوئیڈ (انسان نما) اور چار ٹانگوں والے روبوٹس کی درآمد پر پابندی لگا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق جمعرات کو چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فنگ، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے درمیان ہونے والی ویڈیو کانفرنس میں ”چینی فریق نے چین کے خلاف امریکا کی حالیہ اقتصادی اور تجارتی پابندیوں پر اپنی سنگین تشویش کا اظہار کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنہوا کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان کھل کر، تفصیلی اور مثبت بات چیت ہوئی، جس کے دوران فریقین نے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے اور اگلے مرحلے میں باہمی خدشات کو مناسب انداز میں حل کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مئی میں بیجنگ کے دورے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ستمبر میں امریکا کے دورے کی دعوت دی تھی، تاہم اس دورے کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چین کے اعلیٰ تجارتی عہدیدار نے جمعرات کو اپنے امریکی ہم منصبوں سے کہا ہے کہ بیجنگ کو واشنگٹن کی جانب سے حالیہ عائد کردہ تجارتی پابندیوں پر ”سنگین تشویش“ ہے۔ یہ بات چینی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کی ہے۔</strong></p>
<p>چین اور امریکا گزشتہ سال کے بیشتر حصے میں بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ میں الجھے رہے، تاہم گزشتہ اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں عارضی کمی آ گئی تھی۔</p>
<p>تاہم حالیہ تناؤ نے اس تعطل کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔</p>
<p>بیجنگ نے گزشتہ ہفتے جبری مشقت سے متعلق خدشات کے تحت چین اور 59 دیگر ممالک پر امریکا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) کی مذمت کرتے ہوئے واشنگٹن کو تجارتی جنگ سے گریز کرنے کا انتباہ بھی دیا۔</p>
<p>چین نے بدھ کو امریکا پر چینی کمپنیوں کو ”دبانے“ کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا، جس کے بعد واشنگٹن نے بیرونِ ملک تیار کیے گئے ہیومنوئیڈ (انسان نما) اور چار ٹانگوں والے روبوٹس کی درآمد پر پابندی لگا دی۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق جمعرات کو چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فنگ، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے درمیان ہونے والی ویڈیو کانفرنس میں ”چینی فریق نے چین کے خلاف امریکا کی حالیہ اقتصادی اور تجارتی پابندیوں پر اپنی سنگین تشویش کا اظہار کیا۔“</p>
<p>شنہوا کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان کھل کر، تفصیلی اور مثبت بات چیت ہوئی، جس کے دوران فریقین نے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے اور اگلے مرحلے میں باہمی خدشات کو مناسب انداز میں حل کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>ادھر مئی میں بیجنگ کے دورے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شی جن پنگ کو ستمبر میں امریکا کے دورے کی دعوت دی تھی، تاہم اس دورے کی تاحال باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289397</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 21:19:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/302110090d67714.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/302110090d67714.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
