<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 19:25:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Jul 2026 19:25:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لائڈز نے پاکستان کو جنگی خطرات کی سمندری فہرست سے نکال دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289390/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے سمندری شعبے میں اہم پیش رفت کے تحت ملک اور اس کے علاقائی پانیوں کو لائڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی (جے ڈبلیو سی) کی فہرست میں شامل علاقوں سے نکال دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے سمندری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ اس اقدام سے جنگی خطرے کے انشورنس پریمیم اور جہاز رانی کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔جوائنٹ وار کمیٹی کی فہرست میں شامل علاقے لندن کے میرین انشوررز کی طرف سے نامزد کردہ ہائی رسک سمندری زونز ہیں، جو خاص طور پر لائڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل انڈر رائٹنگ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس پیش رفت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلے سے پاکستانی برآمدات کی مسابقت میں بہتری اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کا ملک پر اعتماد مضبوط ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر عالمی شپنگ لائنز اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بن سکتے ہیں، جس سے علاقائی تجارت، کارگو ٹرانزٹ اور ٹرانہ شپمنٹ کے مواقع پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید چوہدری نے بتایا کہ اس معاملے کو 13 مارچ 2026 کو اٹھایا گیا تھا، جب یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان اور اس کے سمندری علاقے کئی دہائیوں سے جے ڈبلیو سی کی فہرست میں شامل علاقوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شمولیت کے باعث پاکستانی جہاز رانی اور تجارت کے لیے جنگی خطرے کے اضافی انشورنس پریمیم اور سرچارجز عائد ہوتے رہے ہیں۔اس کے بعد وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی جنید چوہدری کر رہے تھے، تاکہ اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ کمیٹی نے لائڈز کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے اور تکنیکی شواہد اور حقائق پر مبنی اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلسل مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کو اس فہرست سے نکال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ملک کی سمندری تجارت پر اضافی مالی بوجھ کم ہوگا اور پاکستانی برآمدات کو بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے سمندری شعبے میں اہم پیش رفت کے تحت ملک اور اس کے علاقائی پانیوں کو لائڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جوائنٹ وار کمیٹی (جے ڈبلیو سی) کی فہرست میں شامل علاقوں سے نکال دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر برائے سمندری امور محمد جنید انوار چوہدری نے بتایا کہ اس اقدام سے جنگی خطرے کے انشورنس پریمیم اور جہاز رانی کے اخراجات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔جوائنٹ وار کمیٹی کی فہرست میں شامل علاقے لندن کے میرین انشوررز کی طرف سے نامزد کردہ ہائی رسک سمندری زونز ہیں، جو خاص طور پر لائڈز مارکیٹ ایسوسی ایشن اور انٹرنیشنل انڈر رائٹنگ ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس پیش رفت کو ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے ایک بیان میں کہا کہ اس فیصلے سے پاکستانی برآمدات کی مسابقت میں بہتری اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کا ملک پر اعتماد مضبوط ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر عالمی شپنگ لائنز اور سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ پرکشش بن سکتے ہیں، جس سے علاقائی تجارت، کارگو ٹرانزٹ اور ٹرانہ شپمنٹ کے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
<p>جنید چوہدری نے بتایا کہ اس معاملے کو 13 مارچ 2026 کو اٹھایا گیا تھا، جب یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان اور اس کے سمندری علاقے کئی دہائیوں سے جے ڈبلیو سی کی فہرست میں شامل علاقوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شمولیت کے باعث پاکستانی جہاز رانی اور تجارت کے لیے جنگی خطرے کے اضافی انشورنس پریمیم اور سرچارجز عائد ہوتے رہے ہیں۔اس کے بعد وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی جنید چوہدری کر رہے تھے، تاکہ اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ کمیٹی نے لائڈز کے حکام کے ساتھ مذاکرات کیے اور تکنیکی شواہد اور حقائق پر مبنی اعداد و شمار کی بنیاد پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلسل مذاکرات کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کو اس فہرست سے نکال دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ملک کی سمندری تجارت پر اضافی مالی بوجھ کم ہوگا اور پاکستانی برآمدات کو بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289390</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 17:58:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/3017425823f113a.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/3017425823f113a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
