<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 18:29:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Jul 2026 18:29:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فباٹی کا عالمی مسابقت پر توجہ دینے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289385/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بی ایریا ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے صدر شیخ تحسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئندہ تجارتی اور برآمدی پالیسی کا محور صرف برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ عالمی مسابقت ہونا چاہیے، کیونکہ موجودہ عالمی معاشی ماحول میں مستقل کامیابی صرف ان ممالک کو حاصل ہو رہی ہے جو معیار، ٹیکنالوجی، جدت، پائیداری اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں شیخ تحسین نے کہا کہ پاکستان کو روایتی برآمدی حکمت عملی سے آگےبڑھتے ہوئے ایسی پالیسی اختیار کرنا ہوگی جو ملکی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صرف نئی منڈیاں تلاش کرنا کافی نہیں، بلکہ پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور بروقت ترسیل کے تقاضوں پر پورا اترنا ہوگا تاکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی موجودگی مستحکم اور دیرپا بن سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ تحسین نے کہا کہ دنیا کی تجارت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور مستقبل کی معیشت مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور علم پر مبنی صنعتوں کے گرد گھوم رہی ہے، ایسے میں پاکستان کو بھی اپنی صنعتی اور برآمدی حکمت عملی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ ملکی برآمدات عالمی ویلیو چین میں مؤثر مقام حاصل کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر فباٹی نے کہا کہ عالمی خریدار اب صرف کم قیمت کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ مصنوعات کے معیار، پائیداری، ماحول دوست پیداواری طریقوں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور بروقت سپلائی کو فیصلہ کن عوامل کےطور پر دیکھتے ہیں، اگر پاکستان ان تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتا تو عالمی مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیخ تحسین نےاس بات پر زور دیا کہ صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، ڈیجیٹلائزیشن، افرادی قوت کی تربیت اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت، صنعتی صلاحیت اور قدرتی وسائل کی صورت میں مضبوط بنیاد موجود ہے، تاہم ان صلاحیتوں کو مؤثر پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور برآمدی اصلاحات کے ذریعے عالمی مسابقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان مستقبل کے عالمی تجارتی تقاضوں کے مطابق اپنی برآمدی حکمت عملی تشکیل دے صنعتوں کی پیداواری استعداد بہتر بنائے اور ٹیکنالوجی و جدت کو فروغ دے تو نہ صرف برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے بلکہ ملک عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آئندہ تجارتی پالیسی میں ایکسپورٹ کمپیٹیٹیونس کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ پاکستان پائیدار اقتصادی ترقی، زرمبادلہ میں اضافے اور عالمی تجارتی نظام میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بن سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بی ایریا ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے صدر شیخ تحسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئندہ تجارتی اور برآمدی پالیسی کا محور صرف برآمدات میں اضافہ نہیں بلکہ عالمی مسابقت ہونا چاہیے، کیونکہ موجودہ عالمی معاشی ماحول میں مستقل کامیابی صرف ان ممالک کو حاصل ہو رہی ہے جو معیار، ٹیکنالوجی، جدت، پائیداری اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ دے رہے ہیں۔</strong></p>
<p>اپنے بیان میں شیخ تحسین نے کہا کہ پاکستان کو روایتی برآمدی حکمت عملی سے آگےبڑھتے ہوئے ایسی پالیسی اختیار کرنا ہوگی جو ملکی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال سکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ صرف نئی منڈیاں تلاش کرنا کافی نہیں، بلکہ پاکستانی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، اختراع اور بروقت ترسیل کے تقاضوں پر پورا اترنا ہوگا تاکہ عالمی منڈی میں پاکستان کی موجودگی مستحکم اور دیرپا بن سکے۔</p>
<p>شیخ تحسین نے کہا کہ دنیا کی تجارت تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور مستقبل کی معیشت مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، آٹومیشن اور علم پر مبنی صنعتوں کے گرد گھوم رہی ہے، ایسے میں پاکستان کو بھی اپنی صنعتی اور برآمدی حکمت عملی کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ ملکی برآمدات عالمی ویلیو چین میں مؤثر مقام حاصل کرسکیں۔</p>
<p>صدر فباٹی نے کہا کہ عالمی خریدار اب صرف کم قیمت کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ مصنوعات کے معیار، پائیداری، ماحول دوست پیداواری طریقوں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور بروقت سپلائی کو فیصلہ کن عوامل کےطور پر دیکھتے ہیں، اگر پاکستان ان تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتا تو عالمی مارکیٹ میں مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔</p>
<p>شیخ تحسین نےاس بات پر زور دیا کہ صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، ڈیجیٹلائزیشن، افرادی قوت کی تربیت اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p>انکا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس نوجوان افرادی قوت، صنعتی صلاحیت اور قدرتی وسائل کی صورت میں مضبوط بنیاد موجود ہے، تاہم ان صلاحیتوں کو مؤثر پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور برآمدی اصلاحات کے ذریعے عالمی مسابقت میں تبدیل کرنا ہوگا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان مستقبل کے عالمی تجارتی تقاضوں کے مطابق اپنی برآمدی حکمت عملی تشکیل دے صنعتوں کی پیداواری استعداد بہتر بنائے اور ٹیکنالوجی و جدت کو فروغ دے تو نہ صرف برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے بلکہ ملک عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن بھی مضبوط بنا سکتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ آئندہ تجارتی پالیسی میں ایکسپورٹ کمپیٹیٹیونس کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ پاکستان پائیدار اقتصادی ترقی، زرمبادلہ میں اضافے اور عالمی تجارتی نظام میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بن سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289385</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 16:41:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/30162516de90833.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/30162516de90833.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
