<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 16:50:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 30 Jul 2026 16:50:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بمپر فصل کے باوجود گندم بحران کا سامنا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289380/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی گندم کی ضروریات تحریری طور پر فراہم کریں جس پر صوبوں نے 22 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی طلب ظاہر کی۔ گندم کی قیمت 150 روپے فی کلوگرام تک پہنچنے کے باعث اب گندم درآمد کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کو فصل کی کٹائی کے محض چار ماہ بعد گندم کی قلت، ممکنہ درآمدات اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے مسائل پر بحث نہیں کرنی چاہیے، خصوصاً جب ملک نے اپنی بڑی فصلوں میں سے ایک فصل حاصل کی ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکومتی پالیسی نے ملک کو عین اسی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ رواں سیزن میں تقریباً 3 کروڑ ٹن گندم پیدا کرنے کے باوجود پنجاب اور سندھ اب ہنگامی بنیادوں پر گندم کی فراہمی کے لیے کوششیں کررہے ہیں، قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور پالیسی ساز ایک بار پھر درآمدات کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ سرکاری پالیسی کی اس سے زیادہ سخت تنقید شاید ہی ممکن ہو کیونکہ اتنی بڑی پیداوار کے باوجود ملک کو گندم کے بحران اور درآمدی فیصلوں کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران اس لیے پیدا نہیں ہوا کہ پاکستان اچانک گندم سے محروم ہوگیا ہو۔ سرکاری اندازوں کے مطابق دستیاب ذخائر کم از کم کاغذات کی حد تک ملک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے  کافی ہیں۔ اصل مسئلہ کہیں اور ہے۔ کمزور خریداری فیصلے، ناقص ذخیرہ کاری کا نظام، پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور حکومتوں کی جانب سے مارکیٹ کے مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی رویے کو سمجھنے میں ناکامی نے ایک بار پھر مل کر ایسے بحران کو جنم دیا جس سے بچا جا سکتا تھا۔ گندم کا معاملہ ایک بار پھر اس حقیقت کی مثال بن گیا ہے کہ انتظامی ناکامی کو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا نام دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعات کی ترتیب خاص طور پر تشویشناک ہے۔ کسانوں نے اپنی فصل کا بڑا حصہ کٹائی کے فوراً بعد فروخت کردیا کیونکہ ان کے پاس ذخیرہ کرنے کی سہولتیں موجود نہیں تھیں، انہیں قرضوں کی ادائیگی کیلئے فوری نقد رقم درکار تھی اور انہیں یہ اعتماد نہیں تھا کہ فصل روک کر رکھنا ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب حکومتوں نے مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کیلئے اس بڑے پیمانے پر گندم خریداری کا فیصلہ نہیں کیا جسے ماضی میں ضروری سمجھا جاتا رہا تھا، نتیجتاً نجی شعبے میں ذخیرہ اندوزی بڑھی، رسد محدود ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ شروع ہوگیا۔ اب صارفین کو بڑھتی ہوئی آٹے کی قیمتوں کا سامنا ہے جبکہ کاشتکار فصل کی کٹائی کے وقت کم نرخوں پر فروخت کرنے کے باعث اس اضافے کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکے۔ اس سے زیادہ ناقص نظام تشکیل دینا مشکل ہے جو بیک وقت پیداوار کنندگان اور صارفین دونوں کے مفادات کو اتنا متاثر کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار اس ناکامی کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب نے تقریباً 30 لاکھ ٹن کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں صرف 4 لاکھ 80 ہزار ٹن کے لگ بھگ گندم خریدی جبکہ حکام یہ بھی تسلیم کررہے ہیں کہ لاکھوں ٹن گندم جو مبینہ طور پر نجی شعبے کے پاس موجود ہے کا کوئی واضح حساب موجود نہیں، اب پنجاب اور سندھ دونوں وفاقی ذخائر سے گندم کے حصول کے خواہاں ہیں جبکہ رواں سال کے آخر میں مزید گندم درآمد کرنے کے امکان پر بھی بات چیت شروع ہوچکی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب سرکاری سطح پر ریکارڈ پیداوار کے دعوے کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تضاد کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ حکومتیں بیک وقت ریکارڈ پیداوار کا جشن نہیں مناسکتیں اور چند ماہ بعد قلت کا سامنا کرنے کی شکایت بھی نہیں کرسکتیں، بغیر اس کے کہ ان کی پالیسی سازی کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات نہ اٹھیں۔ اگر واقعی پیداوار گزشتہ سال کی سطح سے زیادہ تھی تو پھر خریداری، ذخیرہ اندوزی کے انتظام اور منڈی کی نگرانی کا نظام موجودہ قلت کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟ اگر وافر ذخائر موجود تھے تو پھر منڈی ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائیوں کے لیے اتنی کمزور کیوں ثابت ہوئی؟ یہ کوئی ایسے حالات نہیں تھے جن کا اندازہ نہ لگایا جا سکتا ہو۔ یہی وہ ممکنہ صورتحال ہیں جن کا پیشگی اندازہ لگانا اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانا غذائی تحفظ کی پالیسی کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدقسمتی سے موجودہ صورتحال ایک ایسے بڑھتے ہوئے مانوس طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ حکومتیں اکثر قابلِ پیش گوئی معاشی چیلنجز کا اس وقت جواب دیتی ہیں جب وہ مسائل بحران کی شکل اختیار کرچکے ہوتے ہیں۔ منڈیوں کو بے سمت چھوڑ دیا جاتا ہے، پالیسی کے اشارے غیر مستقل اور غیر واضح رہتے ہیں جبکہ نگرانی اور عمل درآمد اس وقت شروع ہوتا ہے جب بگاڑ اپنی جڑیں مضبوط کرچکا ہوتا ہے۔ اس کے بعد حکام ہنگامی اجلاسوں، عارضی اقدامات اور درآمدات سے متعلق فیصلوں کا سہارا لیتے ہیں جن سے اکثر بروقت منصوبہ بندی کے ذریعے بچا جا سکتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بحران سے نمٹنے کا طریقہ کار مؤثر اور ذمہ دار انتظامی نظام کی جگہ لیتا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ گندم کا آٹا لاکھوں گھرانوں کے لیے سب سے اہم غذائی ضرورت ہے۔ گندم کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی فوری زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافے کا باعث بنتا ہے، خصوصاً ان کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے جو پہلے ہی مسلسل مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ کسانوں کی صورتحال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ وہ فصل کی کٹائی کے وقت نقصان برداشت کرتے ہیں جبکہ بعد ازاں قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا فائدہ عموماً بیچ کے عناصر اٹھاتے ہیں۔ یہ اضافہ اکثر حقیقی قلت کے بجائے پالیسی کی ناکامیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بار بار دہرایا جانے والا چکر نہ صرف معاشی نقصان کا باعث بن چکا ہے بلکہ ادارہ جاتی نظام کو بھی کمزور کررہا ہے۔ پاکستان کے پاس تجربہ کار کسان، مناسب پیداواری صلاحیت اور اہم غذائی ذخائر کے انتظام کے لیے درکار انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ ان صلاحیتوں کو بار بار کمزور کرنے والی بنیادی وجہ ناقص حکمرانی ہے۔ گندم کی خریداری کے فیصلوں میں تسلسل کا فقدان ہے، ذخائر کے انتظام میں شفافیت کی کمی ہے اور عملدرآمد میں فوری اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ ایسے میں یہ حیرت کی بات نہیں کہ جہاں پالیسی میں خامیاں اور کمزوریاں موجود ہوں وہاں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے لیے راستے کھل جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کٹائی کے فوراً بعد گندم کا ایک اور بحران پیدا ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہیے تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ زراعت کی ناکامی نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔ جب تک حکومتیں غذائی تحفظ کو وقتی بحرانوں سے نمٹنے کے بجائے مؤثر منصوبہ بندی کا متقاضی معاملہ نہیں سمجھیں گی، پاکستان کاغذوں پر تو وافر مقدار میں گندم پیدا کرتا رہے گا لیکن عملی طور پر وہاں کمی کا سامنا کرتا رہے گا جہاں سب سے زیادہ اہمیت ہے: یعنی منڈی میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی گندم کی ضروریات تحریری طور پر فراہم کریں جس پر صوبوں نے 22 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی طلب ظاہر کی۔ گندم کی قیمت 150 روپے فی کلوگرام تک پہنچنے کے باعث اب گندم درآمد کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے پاکستان کو فصل کی کٹائی کے محض چار ماہ بعد گندم کی قلت، ممکنہ درآمدات اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے مسائل پر بحث نہیں کرنی چاہیے، خصوصاً جب ملک نے اپنی بڑی فصلوں میں سے ایک فصل حاصل کی ہو۔</strong></p>
<p>تاہم حکومتی پالیسی نے ملک کو عین اسی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ رواں سیزن میں تقریباً 3 کروڑ ٹن گندم پیدا کرنے کے باوجود پنجاب اور سندھ اب ہنگامی بنیادوں پر گندم کی فراہمی کے لیے کوششیں کررہے ہیں، قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور پالیسی ساز ایک بار پھر درآمدات کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ سرکاری پالیسی کی اس سے زیادہ سخت تنقید شاید ہی ممکن ہو کیونکہ اتنی بڑی پیداوار کے باوجود ملک کو گندم کے بحران اور درآمدی فیصلوں کا سامنا ہے۔</p>
<p>یہ بحران اس لیے پیدا نہیں ہوا کہ پاکستان اچانک گندم سے محروم ہوگیا ہو۔ سرکاری اندازوں کے مطابق دستیاب ذخائر کم از کم کاغذات کی حد تک ملک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے  کافی ہیں۔ اصل مسئلہ کہیں اور ہے۔ کمزور خریداری فیصلے، ناقص ذخیرہ کاری کا نظام، پالیسی میں غیر یقینی صورتحال اور حکومتوں کی جانب سے مارکیٹ کے مکمل طور پر قابلِ پیش گوئی رویے کو سمجھنے میں ناکامی نے ایک بار پھر مل کر ایسے بحران کو جنم دیا جس سے بچا جا سکتا تھا۔ گندم کا معاملہ ایک بار پھر اس حقیقت کی مثال بن گیا ہے کہ انتظامی ناکامی کو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا نام دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>واقعات کی ترتیب خاص طور پر تشویشناک ہے۔ کسانوں نے اپنی فصل کا بڑا حصہ کٹائی کے فوراً بعد فروخت کردیا کیونکہ ان کے پاس ذخیرہ کرنے کی سہولتیں موجود نہیں تھیں، انہیں قرضوں کی ادائیگی کیلئے فوری نقد رقم درکار تھی اور انہیں یہ اعتماد نہیں تھا کہ فصل روک کر رکھنا ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔</p>
<p>دوسری جانب حکومتوں نے مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کیلئے اس بڑے پیمانے پر گندم خریداری کا فیصلہ نہیں کیا جسے ماضی میں ضروری سمجھا جاتا رہا تھا، نتیجتاً نجی شعبے میں ذخیرہ اندوزی بڑھی، رسد محدود ہوئی اور قیمتوں میں اضافہ شروع ہوگیا۔ اب صارفین کو بڑھتی ہوئی آٹے کی قیمتوں کا سامنا ہے جبکہ کاشتکار فصل کی کٹائی کے وقت کم نرخوں پر فروخت کرنے کے باعث اس اضافے کا کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکے۔ اس سے زیادہ ناقص نظام تشکیل دینا مشکل ہے جو بیک وقت پیداوار کنندگان اور صارفین دونوں کے مفادات کو اتنا متاثر کرے۔</p>
<p>اعداد و شمار اس ناکامی کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب نے تقریباً 30 لاکھ ٹن کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں صرف 4 لاکھ 80 ہزار ٹن کے لگ بھگ گندم خریدی جبکہ حکام یہ بھی تسلیم کررہے ہیں کہ لاکھوں ٹن گندم جو مبینہ طور پر نجی شعبے کے پاس موجود ہے کا کوئی واضح حساب موجود نہیں، اب پنجاب اور سندھ دونوں وفاقی ذخائر سے گندم کے حصول کے خواہاں ہیں جبکہ رواں سال کے آخر میں مزید گندم درآمد کرنے کے امکان پر بھی بات چیت شروع ہوچکی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آرہی ہے جب سرکاری سطح پر ریکارڈ پیداوار کے دعوے کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>اس تضاد کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ حکومتیں بیک وقت ریکارڈ پیداوار کا جشن نہیں مناسکتیں اور چند ماہ بعد قلت کا سامنا کرنے کی شکایت بھی نہیں کرسکتیں، بغیر اس کے کہ ان کی پالیسی سازی کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات نہ اٹھیں۔ اگر واقعی پیداوار گزشتہ سال کی سطح سے زیادہ تھی تو پھر خریداری، ذخیرہ اندوزی کے انتظام اور منڈی کی نگرانی کا نظام موجودہ قلت کو روکنے میں کیوں ناکام رہا؟ اگر وافر ذخائر موجود تھے تو پھر منڈی ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائیوں کے لیے اتنی کمزور کیوں ثابت ہوئی؟ یہ کوئی ایسے حالات نہیں تھے جن کا اندازہ نہ لگایا جا سکتا ہو۔ یہی وہ ممکنہ صورتحال ہیں جن کا پیشگی اندازہ لگانا اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی بنانا غذائی تحفظ کی پالیسی کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔</p>
<p>بدقسمتی سے موجودہ صورتحال ایک ایسے بڑھتے ہوئے مانوس طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے جو بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ حکومتیں اکثر قابلِ پیش گوئی معاشی چیلنجز کا اس وقت جواب دیتی ہیں جب وہ مسائل بحران کی شکل اختیار کرچکے ہوتے ہیں۔ منڈیوں کو بے سمت چھوڑ دیا جاتا ہے، پالیسی کے اشارے غیر مستقل اور غیر واضح رہتے ہیں جبکہ نگرانی اور عمل درآمد اس وقت شروع ہوتا ہے جب بگاڑ اپنی جڑیں مضبوط کرچکا ہوتا ہے۔ اس کے بعد حکام ہنگامی اجلاسوں، عارضی اقدامات اور درآمدات سے متعلق فیصلوں کا سہارا لیتے ہیں جن سے اکثر بروقت منصوبہ بندی کے ذریعے بچا جا سکتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بحران سے نمٹنے کا طریقہ کار مؤثر اور ذمہ دار انتظامی نظام کی جگہ لیتا جا رہا ہے۔</p>
<p>یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ گندم کا آٹا لاکھوں گھرانوں کے لیے سب سے اہم غذائی ضرورت ہے۔ گندم کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی فوری زندگی گزارنے کے اخراجات میں اضافے کا باعث بنتا ہے، خصوصاً ان کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے جو پہلے ہی مسلسل مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ کسانوں کی صورتحال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں۔ وہ فصل کی کٹائی کے وقت نقصان برداشت کرتے ہیں جبکہ بعد ازاں قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا فائدہ عموماً بیچ کے عناصر اٹھاتے ہیں۔ یہ اضافہ اکثر حقیقی قلت کے بجائے پالیسی کی ناکامیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ بار بار دہرایا جانے والا چکر نہ صرف معاشی نقصان کا باعث بن چکا ہے بلکہ ادارہ جاتی نظام کو بھی کمزور کررہا ہے۔ پاکستان کے پاس تجربہ کار کسان، مناسب پیداواری صلاحیت اور اہم غذائی ذخائر کے انتظام کے لیے درکار انتظامی ڈھانچہ موجود ہے۔ ان صلاحیتوں کو بار بار کمزور کرنے والی بنیادی وجہ ناقص حکمرانی ہے۔ گندم کی خریداری کے فیصلوں میں تسلسل کا فقدان ہے، ذخائر کے انتظام میں شفافیت کی کمی ہے اور عملدرآمد میں فوری اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے۔ ایسے میں یہ حیرت کی بات نہیں کہ جہاں پالیسی میں خامیاں اور کمزوریاں موجود ہوں وہاں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے لیے راستے کھل جاتے ہیں۔</p>
<p>کٹائی کے فوراً بعد گندم کا ایک اور بحران پیدا ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دینی چاہیے تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسا ہوا ہے تو یہ زراعت کی ناکامی نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی ہے۔ جب تک حکومتیں غذائی تحفظ کو وقتی بحرانوں سے نمٹنے کے بجائے مؤثر منصوبہ بندی کا متقاضی معاملہ نہیں سمجھیں گی، پاکستان کاغذوں پر تو وافر مقدار میں گندم پیدا کرتا رہے گا لیکن عملی طور پر وہاں کمی کا سامنا کرتا رہے گا جہاں سب سے زیادہ اہمیت ہے: یعنی منڈی میں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289380</guid>
      <pubDate>Thu, 30 Jul 2026 15:08:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/3014412667e84a5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/3014412667e84a5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
