<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 18:50:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 28 Jul 2026 18:50:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آذربائیجان کی پاکستان کے توانائی منصوبوں پر جلد پیش رفت کی امید</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289272/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آذربائیجان کے سبکدوش ہونے والے سفیر خضر فرہادوف نے کہا ہے کہ آذربائیجان کو توقع ہے کہ پاکستان کے توانائی شعبے میں مجوزہ سرمایہ کاری سے متعلق جاری مذاکرات جلد ٹھوس منصوبوں کی صورت اختیار کر لیں گے، دونوں ممالک باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت وزارتِ تجارت میں پاکستان میں تعینات آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سفیر کی مدتِ تعیناتی کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت جام کمال خان نے خضر فرہادوف کی دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں نمایاں خدمات کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مضبوط ہم آہنگی نے سیاسی خیرسگالی کو عملی معاشی نتائج میں تبدیل کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سیاحت، ٹرانسپورٹ، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں آذربائیجان کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے کئی اہم کامیابیوں کا ذکر کیا جن میں پاکستان۔آذربائیجان مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کا کامیاب انعقاد اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط شامل ہیں۔ دونوں جانب سے اس معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پیش رفت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اہم پیش رفتوں نے اقتصادی تعاون کے فروغ، مشترکہ منصوبوں کے قیام اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مستحکم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت نے حالیہ عرصے میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کے دوران 15 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کو بھی نمایاں قرار دیا۔ یہ معاہدے تجارت و کاروبار، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، سائنس و ٹیکنالوجی، سول ایوی ایشن، میڈیا تعاون، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں ، ثقافتی تبادلوں اور قونصلر امور سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں نے وسیع تر اسٹریٹجک تعاون اور طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین نے پاکستان میں آذربائیجان ٹریڈ ہاؤسز کے قیام، پاکستان۔آذربائیجان مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آغاز، باقاعدگی سے بزنس ٹو بزنس  فورمز کے انعقاد اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کی جانب ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ اقدامات باہمی سیاسی تعلقات کو نمایاں معاشی فوائد میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر خضر فرہادوف نے اپنی مدتِ تعیناتی کے دوران ہونے والی نمایاں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان روابط میں اضافہ، براہِ راست فضائی رابطوں کی توسیع، ادارہ جاتی تعاون کا فروغ اور باہمی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات نے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس مثبت پیش رفت اور تعاون کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیر نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ آذربائیجان کے سرمایہ کاروں، چیمبرز آف کامرس اور کاروباری وفود کے لیے خصوصی اقتصادی زونز، صنعتی کلسٹرز اور برآمدی صنعتوں کے باقاعدہ دوروں کا اہتمام کرے، تاکہ وہ پاکستان کی صنعتی استعداد اور سرمایہ کاری کے مواقع کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے کاروباری ماحول کے ساتھ براہِ راست تعلقات سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کریں گے اور طویل مدتی شراکت داری کو فروغ دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں توانائی، انفرااسٹرکچر، مینوفیکچرنگ، سیاحت اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور اس میں نہ صرف آذربائیجان بلکہ ترکیہ، قازقستان، جاپان اور دیگر دوست ممالک کے سرمایہ کاروں کو بھی راغب کرنے کی صلاحیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آذربائیجان کی جانب سے پاکستان میں متوقع سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترجیحی منصوبوں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں جاری بات چیت جلد عملی شکل اختیار کر لے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ حکومتیں سازگار پالیسیاں بناتی ہیں اور تعاون کو آسان بناتی ہیں تاہم پائیدار سرمایہ کاری کا دارومدار بالآخر نجی شعبے پر ہوتا ہے جو تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل مواقع کے ذریعے اسے آگے بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے بہتر علاقائی رابطوں کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں بہتر حالات وسیع تر خطے کے ذریعے پاکستان کو آذربائیجان سے ملانے والے زمینی نقل و حمل اور تجارتی راہداریوں کو آسان بنائیں گے جس سے تجارت، لاجسٹکس اور علاقائی معاشی انضمام کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے ایک شفاف اور سرمایہ کار دوست کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور یقین دلایا کہ وزارتِ تجارت دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھرپور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آذربائیجان کے سبکدوش ہونے والے سفیر خضر فرہادوف نے کہا ہے کہ آذربائیجان کو توقع ہے کہ پاکستان کے توانائی شعبے میں مجوزہ سرمایہ کاری سے متعلق جاری مذاکرات جلد ٹھوس منصوبوں کی صورت اختیار کر لیں گے، دونوں ممالک باہمی اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرگرم ہیں۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت وزارتِ تجارت میں پاکستان میں تعینات آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف اور وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سفیر کی مدتِ تعیناتی کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔</p>
<p>وزیر تجارت جام کمال خان نے خضر فرہادوف کی دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں نمایاں خدمات کو سراہا۔</p>
<p>وزیر تجارت نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مضبوط ہم آہنگی نے سیاسی خیرسگالی کو عملی معاشی نتائج میں تبدیل کیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، سیاحت، ٹرانسپورٹ، بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں آذربائیجان کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے کئی اہم کامیابیوں کا ذکر کیا جن میں پاکستان۔آذربائیجان مشترکہ وزارتی کمیشن کے آٹھویں اجلاس کا کامیاب انعقاد اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر دستخط شامل ہیں۔ دونوں جانب سے اس معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے پیش رفت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اہم پیش رفتوں نے اقتصادی تعاون کے فروغ، مشترکہ منصوبوں کے قیام اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط بنانے کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مزید مستحکم کیا ہے۔</p>
<p>وزیر تجارت نے حالیہ عرصے میں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کے دوران 15 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کو بھی نمایاں قرار دیا۔ یہ معاہدے تجارت و کاروبار، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، سائنس و ٹیکنالوجی، سول ایوی ایشن، میڈیا تعاون، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں ، ثقافتی تبادلوں اور قونصلر امور سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان معاہدوں نے وسیع تر اسٹریٹجک تعاون اور طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔</p>
<p>فریقین نے پاکستان میں آذربائیجان ٹریڈ ہاؤسز کے قیام، پاکستان۔آذربائیجان مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آغاز، باقاعدگی سے بزنس ٹو بزنس  فورمز کے انعقاد اور دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے کی جانب ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ اقدامات باہمی سیاسی تعلقات کو نمایاں معاشی فوائد میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔</p>
<p>سفیر خضر فرہادوف نے اپنی مدتِ تعیناتی کے دوران ہونے والی نمایاں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان روابط میں اضافہ، براہِ راست فضائی رابطوں کی توسیع، ادارہ جاتی تعاون کا فروغ اور باہمی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط سیاسی تعلقات نے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس مثبت پیش رفت اور تعاون کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھیں۔</p>
<p>سفیر نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ آذربائیجان کے سرمایہ کاروں، چیمبرز آف کامرس اور کاروباری وفود کے لیے خصوصی اقتصادی زونز، صنعتی کلسٹرز اور برآمدی صنعتوں کے باقاعدہ دوروں کا اہتمام کرے، تاکہ وہ پاکستان کی صنعتی استعداد اور سرمایہ کاری کے مواقع کا براہِ راست مشاہدہ کر سکیں۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے کاروباری ماحول کے ساتھ براہِ راست تعلقات سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کریں گے اور طویل مدتی شراکت داری کو فروغ دیں گے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں توانائی، انفرااسٹرکچر، مینوفیکچرنگ، سیاحت اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور اس میں نہ صرف آذربائیجان بلکہ ترکیہ، قازقستان، جاپان اور دیگر دوست ممالک کے سرمایہ کاروں کو بھی راغب کرنے کی صلاحیت ہے۔</p>
<p>آذربائیجان کی جانب سے پاکستان میں متوقع سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترجیحی منصوبوں، خصوصاً توانائی کے شعبے میں جاری بات چیت جلد عملی شکل اختیار کر لے گی۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ حکومتیں سازگار پالیسیاں بناتی ہیں اور تعاون کو آسان بناتی ہیں تاہم پائیدار سرمایہ کاری کا دارومدار بالآخر نجی شعبے پر ہوتا ہے جو تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل مواقع کے ذریعے اسے آگے بڑھاتا ہے۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے بہتر علاقائی رابطوں کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ خطے میں بہتر حالات وسیع تر خطے کے ذریعے پاکستان کو آذربائیجان سے ملانے والے زمینی نقل و حمل اور تجارتی راہداریوں کو آسان بنائیں گے جس سے تجارت، لاجسٹکس اور علاقائی معاشی انضمام کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔</p>
<p>جام کمال نے ایک شفاف اور سرمایہ کار دوست کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور یقین دلایا کہ وزارتِ تجارت دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھرپور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289272</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 11:51:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/281124404af8e3c.webp" type="image/webp" medium="image" height="458" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/281124404af8e3c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
