<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 23:45:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 23:45:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 600 سے زائد پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289270/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید اتار چڑھاؤ پر مبنی تجارتی سیشن دیکھا گیا جہاں 100 انڈیکس میں تیزی و مندی کی لہر دیکھنے کو ملی اور بالآخر مارکیٹ 600 سے زائد پوائنٹس کی کمی پر بند ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--right  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/1uwivqybDU8'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/1uwivqybDU8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 179,123.00 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا، تاہم مارکیٹ میں فروخت کے شدید دباؤ کے باعث انڈیکس اپنی مثبت رفت برقرار نہ رکھ سکا اور نیچے کی جانب گرنے لگا۔ دوپہر کے بعد انڈیکس 177,434.96 کی نچلی ترین سطح تک چلا گیا جس کے بعد اختتام پر معمولی بحالی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 638.45 پوائنٹس یعنی 0.36 فیصد کی کمی سے 177,623.88 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار کے باوجود اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرق وسطیٰ میں تنازع کے دوبارہ ابھرنے کے بعد بیرونی خطرات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیر کو پی ایس ایکس میں ایک تاریخی تیزی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی حملوں کے معطل ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جس سے مشرق وسطیٰ تنازع کے سفارتی حل اور اہم بحری راستوں کے دوبارہ کھلنے کی امیدیں روشن ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 7,241.13 پوائنٹس یا 4.23 فیصد اضافے سے178,262.34 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر منگل کو ایشیائی مارکیٹوں میں گراوٹ دیکھی گئی جس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی ضروریات سے پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں کمی تھی جبکہ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ نے بانڈز کی صورتحال پر کچھ خاص مثبت اثر نہیں ڈالا اور تاجروں کو امریکی شرح سود میں اضافے کے امکان کے پیش نظر پریشان رکھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس میں 2.2 فیصد کمی کے بعد جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 8 فیصد سے زائد گر کر تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا جس پر سرکٹ بریکر فعال کرنا پڑا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 4 فیصد نیچے آ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد این ویڈیا کے حصص میں راتوں رات 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی ایک بڑے ڈیٹا سینٹر منصوبے کے تحت اوپن اے آئی کو تقریباً 250 ارب ڈالر کی مالی ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگھائی میں سی ایکس ایم ٹی کارپوریشن کے حصص میں لسٹنگ کے پہلے ہی روز 466 فیصد کا شاندار اضافہ چین کے سیمی کنڈکٹر شعبے میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور چینی حریف کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے مسابقتی خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دی انفارمیشن نے پیر کو رپورٹ کیا کہ چین نے مقامی طور پر تیار کردہ امیریشن ڈیپ الٹرا وائلٹ لیتھوگرافی مشینوں کی پیداوار بھی شروع کر دی ہے۔ یہ چِپ سازی کا ایسا اہم آلہ ہے جس پر طویل عرصے سے ڈچ کمپنی اے ایس ایم ایل کی اجارہ داری رہی ہے۔ اس خبر کے بعد اے ایس ایم ایل کے حصص میں 8.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کی ایس کے ہائنکس کے حصص میں تقریباً 11 فیصد جبکہ سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص میں 9 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ادھر ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے حصص میں کیوکسیا شامل رہی جس کے حصص 18 فیصد گر گئے جبکہ ٹوکیو الیکٹرون کے حصص میں 9.8 فیصد کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی اسٹاکس بھی فروخت کے دباؤ کی زد میں رہے جہاں سی ایکس ایم ٹی کے حصص ابتدائی کاروبار میں 7 فیصد گرگئے جبکہ چِپ سازی سے متعلق انڈیکسز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.85 روپے پر بند ہوئی۔تمام شیئرز کے انڈیکس میں تجارتی حجم (والیوم) گزشتہ سیشن کے 1.032 ارب شیئرز کے مقابلے میں کم ہو کر 95 کروڑ 80 لاکھ (958.01 ملین) شیئرز رہا۔ تجارتی شیئرز کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 41.02 ارب روپے سے بڑھ کر 41.57 ارب روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنرجیکو پی کے 27 کروڑ 30 لاکھ (273.05 ملین) شیئرز کا کاروبار کرکے سرفہرست رہی، جبکہ ورلڈ کال ٹیلی کام 7 کروڑ 22 لاکھ (72.25 ملین) شیئرز اور ٹرسٹ بروکریج 6 کروڑ 36 لاکھ (63.66 ملین) شیئرز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے شیئرز میں لین دین ہوا، جن میں سے 156 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ، 306 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 33 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/28185256c261f06.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/28185256c261f06.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید اتار چڑھاؤ پر مبنی تجارتی سیشن دیکھا گیا جہاں 100 انڈیکس میں تیزی و مندی کی لہر دیکھنے کو ملی اور بالآخر مارکیٹ 600 سے زائد پوائنٹس کی کمی پر بند ہوئی۔</strong></p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--right  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/1uwivqybDU8'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/1uwivqybDU8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 179,123.00 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا، تاہم مارکیٹ میں فروخت کے شدید دباؤ کے باعث انڈیکس اپنی مثبت رفت برقرار نہ رکھ سکا اور نیچے کی جانب گرنے لگا۔ دوپہر کے بعد انڈیکس 177,434.96 کی نچلی ترین سطح تک چلا گیا جس کے بعد اختتام پر معمولی بحالی دیکھی گئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک 100 انڈیکس 638.45 پوائنٹس یعنی 0.36 فیصد کی کمی سے 177,623.88 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کے آثار کے باوجود اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مشرق وسطیٰ میں تنازع کے دوبارہ ابھرنے کے بعد بیرونی خطرات میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے پیر کو پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھا۔</p>
<p>یاد رہے کہ پیر کو پی ایس ایکس میں ایک تاریخی تیزی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی حملوں کے معطل ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا جس سے مشرق وسطیٰ تنازع کے سفارتی حل اور اہم بحری راستوں کے دوبارہ کھلنے کی امیدیں روشن ہوئیں۔</p>
<p>گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 7,241.13 پوائنٹس یا 4.23 فیصد اضافے سے178,262.34 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر منگل کو ایشیائی مارکیٹوں میں گراوٹ دیکھی گئی جس کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی ضروریات سے پیدا ہونے والی بے چینی کے باعث چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں کمی تھی جبکہ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ نے بانڈز کی صورتحال پر کچھ خاص مثبت اثر نہیں ڈالا اور تاجروں کو امریکی شرح سود میں اضافے کے امکان کے پیش نظر پریشان رکھا۔</p>
<p>فلڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس میں 2.2 فیصد کمی کے بعد جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 8 فیصد سے زائد گر کر تین ماہ کی کم ترین سطح پر آ گیا جس پر سرکٹ بریکر فعال کرنا پڑا، جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 4 فیصد نیچے آ گیا۔</p>
<p>وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے بعد این ویڈیا کے حصص میں راتوں رات 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی ایک بڑے ڈیٹا سینٹر منصوبے کے تحت اوپن اے آئی کو تقریباً 250 ارب ڈالر کی مالی ضمانتیں فراہم کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔</p>
<p>شنگھائی میں سی ایکس ایم ٹی کارپوریشن کے حصص میں لسٹنگ کے پہلے ہی روز 466 فیصد کا شاندار اضافہ چین کے سیمی کنڈکٹر شعبے میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور چینی حریف کمپنیوں سے بڑھتے ہوئے مسابقتی خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔</p>
<p>دی انفارمیشن نے پیر کو رپورٹ کیا کہ چین نے مقامی طور پر تیار کردہ امیریشن ڈیپ الٹرا وائلٹ لیتھوگرافی مشینوں کی پیداوار بھی شروع کر دی ہے۔ یہ چِپ سازی کا ایسا اہم آلہ ہے جس پر طویل عرصے سے ڈچ کمپنی اے ایس ایم ایل کی اجارہ داری رہی ہے۔ اس خبر کے بعد اے ایس ایم ایل کے حصص میں 8.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>جنوبی کوریا کی ایس کے ہائنکس کے حصص میں تقریباً 11 فیصد جبکہ سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص میں 9 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ادھر ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے حصص میں کیوکسیا شامل رہی جس کے حصص 18 فیصد گر گئے جبکہ ٹوکیو الیکٹرون کے حصص میں 9.8 فیصد کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>چینی اسٹاکس بھی فروخت کے دباؤ کی زد میں رہے جہاں سی ایکس ایم ٹی کے حصص ابتدائی کاروبار میں 7 فیصد گرگئے جبکہ چِپ سازی سے متعلق انڈیکسز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>دریں اثناء منگل کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.85 روپے پر بند ہوئی۔تمام شیئرز کے انڈیکس میں تجارتی حجم (والیوم) گزشتہ سیشن کے 1.032 ارب شیئرز کے مقابلے میں کم ہو کر 95 کروڑ 80 لاکھ (958.01 ملین) شیئرز رہا۔ تجارتی شیئرز کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 41.02 ارب روپے سے بڑھ کر 41.57 ارب روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>سنرجیکو پی کے 27 کروڑ 30 لاکھ (273.05 ملین) شیئرز کا کاروبار کرکے سرفہرست رہی، جبکہ ورلڈ کال ٹیلی کام 7 کروڑ 22 لاکھ (72.25 ملین) شیئرز اور ٹرسٹ بروکریج 6 کروڑ 36 لاکھ (63.66 ملین) شیئرز کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>منگل کو مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے شیئرز میں لین دین ہوا، جن میں سے 156 کمپنیوں کے شیئرز میں اضافہ، 306 میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 33 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/28185256c261f06.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/28185256c261f06.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289270</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 19:41:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/281104482533215.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/281104482533215.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
