<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 14:35:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 28 Jul 2026 14:35:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تعلیم کا اصل چیلنج</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289267/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کے حالیہ اجلاس میں بجا طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ نجی اسکول قانون کے مطابق اپنی 10 فیصد نشستیں مستحق طلبہ کے لیے مختص کرنے کی پابندی پر عمل کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک قانونی ذمہ داری کو اختیاری نہیں سمجھا جا سکتا، اور اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ بہت سے تعلیمی ادارے لازمی کوٹے پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں، تو متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ قانون پر بلا استثنا عمل کرایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کی حالیہ مداخلت نے بھی پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی  کی مؤثر نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ جہاں اسکولوں نے اپنی قانونی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی ہے، وہاں ان کا احتساب ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اگرچہ قائمہ کمیٹی کے خدشات قابلِ فہم ہیں، لیکن وسیع تر بحث ایک زیادہ بنیادی مسئلے سے بظاہر غافل ہو گئی ہے۔ پاکستان کے ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی کی ذمہ داری سب سے پہلے اور بنیادی طور پر ریاست پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ نجی تعلیمی اداروں پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مفت اور لازمی تعلیم کا آئینی وعدہ کئی دہائیوں سے بڑی حد تک پورا نہیں ہو سکا۔ اگرچہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کیا گیا آرٹیکل 25-اے واضح طور پر پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، لیکن اس عزم کی جڑیں 1973ء کے آئین میں شامل ان امنگوں تک جا پہنچتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان اب بھی دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں تعلیمی نتائج کے اعتبار سے بھی اس کی کارکردگی کمزور ترین ممالک میں شمار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پس منظر میں 10 فیصد اسکالرشپ کوٹے پر زور دینا کسی حد تک اصل مسئلے سے ہٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ قانون پر عمل درآمد یقیناً ضروری ہے، لیکن یہ ایک مضبوط سرکاری تعلیمی نظام کا متبادل نہیں بن سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہر نجی اسکول بھی اس کوٹے پر لفظ بہ لفظ اور روح کے مطابق مکمل عمل کرے، تب بھی صرف پسماندہ بچوں کی ایک محدود تعداد ہی اس سے فائدہ اٹھا سکے گی۔ تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کی بھاری اکثریت کا انحصار نجی شعبے کے اقدامات پر نہیں بلکہ ایسے سرکاری اسکولوں کی دستیابی پر ہے جو آسانی سے قابلِ رسائی، مناسب مالی وسائل سے آراستہ اور مؤثر انداز میں چلائے جا رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برسوں کے دوران یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سرکاری تعلیمی نظام کو وسعت دینے اور اسے بہتر بنانے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے، سرکاری اسکولوں کا انتظام غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور نجی اداروں کے سپرد کرنے پر زیادہ انحصار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سرکاری و نجی شراکت داری بعض مخصوص مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اسے ریاست کی آئینی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ خدمات کی فراہمی کسی اور کے سپرد کر دینے سے حکومت اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو جاتی کہ وہ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کی ضمانت دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی اسکولوں کو نہ صرف اپنی قانونی ذمہ داریوں بلکہ اپنی وسیع تر سماجی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ملک کے تعلیمی بحران کا حل صرف توجہ کا رخ نجی شعبے کی طرف موڑ دینے سے ممکن نہیں۔ اصل اور بنیادی مسئلہ بدستور ریاست کی وہ مسلسل ناکامی ہے کہ وہ ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر سکی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیم کو وہ سیاسی ترجیح اور مالی وسائل فراہم نہیں کرتیں جس کی یہ حقیقی طور پر مستحق ہے، اس وقت تک 10 فیصد کوٹے جیسے اقدامات، اگرچہ اہم ہیں، پاکستان کے گہرے اور دیرینہ تعلیمی بحران کا مستقل حل بننے کے بجائے محض محدود نوعیت کی مداخلتیں ہی ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کے حالیہ اجلاس میں بجا طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ نجی اسکول قانون کے مطابق اپنی 10 فیصد نشستیں مستحق طلبہ کے لیے مختص کرنے کی پابندی پر عمل کریں۔</strong></p>
<p>ایک قانونی ذمہ داری کو اختیاری نہیں سمجھا جا سکتا، اور اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ بہت سے تعلیمی ادارے لازمی کوٹے پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں، تو متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ قانون پر بلا استثنا عمل کرایا جائے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کی حالیہ مداخلت نے بھی پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی  کی مؤثر نگرانی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ جہاں اسکولوں نے اپنی قانونی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی ہے، وہاں ان کا احتساب ناگزیر ہے۔</p>
<p>تاہم اگرچہ قائمہ کمیٹی کے خدشات قابلِ فہم ہیں، لیکن وسیع تر بحث ایک زیادہ بنیادی مسئلے سے بظاہر غافل ہو گئی ہے۔ پاکستان کے ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی کی ذمہ داری سب سے پہلے اور بنیادی طور پر ریاست پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ نجی تعلیمی اداروں پر۔</p>
<p>مفت اور لازمی تعلیم کا آئینی وعدہ کئی دہائیوں سے بڑی حد تک پورا نہیں ہو سکا۔ اگرچہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے شامل کیا گیا آرٹیکل 25-اے واضح طور پر پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تمام بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، لیکن اس عزم کی جڑیں 1973ء کے آئین میں شامل ان امنگوں تک جا پہنچتی ہیں۔</p>
<p>نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود پاکستان اب بھی دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں تعلیمی نتائج کے اعتبار سے بھی اس کی کارکردگی کمزور ترین ممالک میں شمار ہوتی ہے۔</p>
<p>اس پس منظر میں 10 فیصد اسکالرشپ کوٹے پر زور دینا کسی حد تک اصل مسئلے سے ہٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ قانون پر عمل درآمد یقیناً ضروری ہے، لیکن یہ ایک مضبوط سرکاری تعلیمی نظام کا متبادل نہیں بن سکتا۔</p>
<p>اگر ہر نجی اسکول بھی اس کوٹے پر لفظ بہ لفظ اور روح کے مطابق مکمل عمل کرے، تب بھی صرف پسماندہ بچوں کی ایک محدود تعداد ہی اس سے فائدہ اٹھا سکے گی۔ تعلیم سے محروم رہ جانے والے بچوں کی بھاری اکثریت کا انحصار نجی شعبے کے اقدامات پر نہیں بلکہ ایسے سرکاری اسکولوں کی دستیابی پر ہے جو آسانی سے قابلِ رسائی، مناسب مالی وسائل سے آراستہ اور مؤثر انداز میں چلائے جا رہے ہوں۔</p>
<p>گزشتہ برسوں کے دوران یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتوں نے سرکاری تعلیمی نظام کو وسعت دینے اور اسے بہتر بنانے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے، سرکاری اسکولوں کا انتظام غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور نجی اداروں کے سپرد کرنے پر زیادہ انحصار کیا ہے۔</p>
<p>اگرچہ سرکاری و نجی شراکت داری بعض مخصوص مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اسے ریاست کی آئینی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ خدمات کی فراہمی کسی اور کے سپرد کر دینے سے حکومت اس ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو جاتی کہ وہ ہر بچے کو معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کی ضمانت دے۔</p>
<p>نجی اسکولوں کو نہ صرف اپنی قانونی ذمہ داریوں بلکہ اپنی وسیع تر سماجی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرنا چاہیے۔</p>
<p>تاہم، ملک کے تعلیمی بحران کا حل صرف توجہ کا رخ نجی شعبے کی طرف موڑ دینے سے ممکن نہیں۔ اصل اور بنیادی مسئلہ بدستور ریاست کی وہ مسلسل ناکامی ہے کہ وہ ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر سکی۔</p>
<p>جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعلیم کو وہ سیاسی ترجیح اور مالی وسائل فراہم نہیں کرتیں جس کی یہ حقیقی طور پر مستحق ہے، اس وقت تک 10 فیصد کوٹے جیسے اقدامات، اگرچہ اہم ہیں، پاکستان کے گہرے اور دیرینہ تعلیمی بحران کا مستقل حل بننے کے بجائے محض محدود نوعیت کی مداخلتیں ہی ثابت ہوں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289267</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 09:49:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2809473236613c5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2809473236613c5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
