<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 11:12:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 28 Jul 2026 11:12:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی وی اے آر اے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جدید ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے گا، وزیر خزانہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289264/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کا قیام حکومت کی اس حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل ہے جس کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کے طور پر آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ورچوئل اثاثوں کے لیے جدید ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے گا اور تیزی سے فروغ پانے والے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام منعقدہ اُڑان اوورسیز پاکستانیز سمر اسکالرز پروگرام کے شرکا سے ایک نشست میں گفتگو کی۔ یہ چھ ہفتوں پر مشتمل انٹرن شپ پروگرام ہے، جس کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانی طلبہ اور نوجوان محققین کو سرکاری اداروں سے جوڑنا اور انہیں پاکستان کی ترقی میں اپنا علمی اور تحقیقی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت بنانے کے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے شرکا کو پی وی اے آر اے کے قیام سے آگاہ کیا، جو ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جدید ریگولیٹری نظام مہیا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دے گا، ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنائے گا اور پاکستان کو ڈیجیٹل مالیات میں ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے فنانس ڈویژن میں شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پروگرام کو پاکستان کی عالمی سطح پر موجود نوجوان صلاحیتوں سے روابط مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک سے وابستہ رہیں اور اپنی تعلیم، اختراعی صلاحیتوں اور بین الاقوامی تجربے کو پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی صورتحال اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا بھی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے معاشی استحکام کو مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب توجہ پائیدار اقتصادی ترقی، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات پر مرکوز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی حکومت کی معاشی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل میں حالیہ بہتری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت بین الاقوامی سرمایہ جاتی منڈیوں سے روابط مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی عالمی سرمایہ جاتی منڈیوں میں کامیاب واپسی، خصوصاً پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جدید مالیاتی ذرائع کے ذریعے سرمایہ کاری کے وسائل میں تنوع لانے کی کوشش کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی معاشی سمت اور اصلاحاتی پروگرام پر عالمی اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے حکومت کے اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں ٹیکس نظام کو معقول بنانا، سستی مالی معاونت، توانائی کی مسابقتی قیمتیں اور برآمدات کی مسابقت بڑھانے کے لیے اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری صلاحیت، جدت طرازی اور برآمدات میں تنوع پاکستان کی مسابقت بڑھانے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوال و جواب کے سیشن کے دوران شرکا نے وزیر خزانہ سے معاشی اصلاحات، برآمدات کے فروغ، موسمیاتی مالیات اور سرمایہ کاری کے مواقع سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے نوجوان اسکالرز کو ترغیب دی کہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی تجربے کو پاکستان کی معاشی تبدیلی میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے ایسے مواقع پیدا کرتی رہے گی تاکہ وہ ملک کے مستقبل کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کا قیام حکومت کی اس حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل ہے جس کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کے طور پر آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ ورچوئل اثاثوں کے لیے جدید ریگولیٹری فریم ورک فراہم کرے گا اور تیزی سے فروغ پانے والے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے گا۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام منعقدہ اُڑان اوورسیز پاکستانیز سمر اسکالرز پروگرام کے شرکا سے ایک نشست میں گفتگو کی۔ یہ چھ ہفتوں پر مشتمل انٹرن شپ پروگرام ہے، جس کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانی طلبہ اور نوجوان محققین کو سرکاری اداروں سے جوڑنا اور انہیں پاکستان کی ترقی میں اپنا علمی اور تحقیقی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت بنانے کے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر خزانہ نے شرکا کو پی وی اے آر اے کے قیام سے آگاہ کیا، جو ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے جدید ریگولیٹری نظام مہیا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دے گا، ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنائے گا اور پاکستان کو ڈیجیٹل مالیات میں ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے فنانس ڈویژن میں شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس پروگرام کو پاکستان کی عالمی سطح پر موجود نوجوان صلاحیتوں سے روابط مضبوط بنانے کی ایک اہم کوشش قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ملک سے وابستہ رہیں اور اپنی تعلیم، اختراعی صلاحیتوں اور بین الاقوامی تجربے کو پاکستان کی طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں۔</p>
<p>گفتگو کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی صورتحال اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا بھی جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت نے معاشی استحکام کو مضبوط بنانے میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور اب توجہ پائیدار اقتصادی ترقی، برآمدات میں اضافے، سرمایہ کاری کے فروغ، مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات پر مرکوز ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے سازگار ماحول کی فراہمی حکومت کی معاشی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل میں حالیہ بہتری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ حکومت بین الاقوامی سرمایہ جاتی منڈیوں سے روابط مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی عالمی سرمایہ جاتی منڈیوں میں کامیاب واپسی، خصوصاً پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جدید مالیاتی ذرائع کے ذریعے سرمایہ کاری کے وسائل میں تنوع لانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت پاکستان کی معاشی سمت اور اصلاحاتی پروگرام پر عالمی اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے حکومت کے اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں ٹیکس نظام کو معقول بنانا، سستی مالی معاونت، توانائی کی مسابقتی قیمتیں اور برآمدات کی مسابقت بڑھانے کے لیے اصلاحات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری صلاحیت، جدت طرازی اور برآمدات میں تنوع پاکستان کی مسابقت بڑھانے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔</p>
<p>سوال و جواب کے سیشن کے دوران شرکا نے وزیر خزانہ سے معاشی اصلاحات، برآمدات کے فروغ، موسمیاتی مالیات اور سرمایہ کاری کے مواقع سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے نوجوان اسکالرز کو ترغیب دی کہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی تجربے کو پاکستان کی معاشی تبدیلی میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نوجوان پیشہ ور افراد کے لیے ایسے مواقع پیدا کرتی رہے گی تاکہ وہ ملک کے مستقبل کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289264</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 09:16:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2809135675e8d58.webp" type="image/webp" medium="image" height="483" width="925">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2809135675e8d58.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
