<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Technology</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 20:39:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Jul 2026 20:39:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے 7 جدت مراکز پر مشتمل نیشنل اے آئی انیشیٹو متعارف کرا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289249/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) نے ملک بھر میں قومی مصنوعی ذہانت ترقیاتی اقدام (این اے اے آئی) کے تحت سات مصنوعی ذہانت (اے آئی) جدت مراکز قائم کرنے کے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد 560 اے آئی اسٹارٹ اپس کی سرپرستی، 150 اسٹارٹ اپس کو بغیر حصص کی شراکت (نان ڈائلیوٹو) پر ابتدائی مالی معاونت (سیڈ گرانٹس) فراہم کرنا اور پاکستان کو مصنوعی ذہانت پر مبنی جدت کا علاقائی مرکز بنانا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور حکومت کی جانب سے ایسا جامع منصوبہ ہے جس کا مقصد جامعات، صنعت، اسٹارٹ اپس، محققین، سرمایہ کاروں اور سرکاری اداروں کو ایک قومی فریم ورک کے تحت یکجا کرکے مصنوعی ذہانت کا مضبوط ادارہ جاتی ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کی سرکاری دستاویزات کے مطابق، ایم او آئی ٹی ٹی ایک واحد بولی دہندہ، خواہ وہ کوئی کمپنی ہو یا مشترکہ کاروباری اتحاد (جوائنٹ وینچر/کنسورشیم)، کا انتخاب کرے گی، جو اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد اور گلگت میں اے آئی جدت مراکز کے قیام، آپریشن اور پائیدار انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتخب ادارہ جدید دفتری سہولتوں، تیز رفتار انٹرنیٹ، اشتراکی ورک اسپیس، ملٹی میڈیا سہولتوں، رہنمائی کے کمروں، ہائبرڈ اجلاسوں کے نظام اور اے آئی اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص ورک اسپیس پر مشتمل مکمل فعال مراکز قائم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مراکز صحت، زراعت، تعلیم، مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک)، عوامی نظم و نسق، اسمارٹ اور پائیدار شہروں سمیت دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو فروغ دینے والے علاقائی جدت مراکز کے طور پر کام کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو سالہ پروگرام کے تحت ہر مرکز میں ہر مرحلے (کوہورٹ) میں 20 اے آئی اسٹارٹ اپس کو شامل کیا جائے گا، جبکہ سالانہ دو مراحل ہوں گے۔ اس طرح ہر مرکز میں سالانہ 40 اور تمام سات مراکز میں مجموعی طور پر 280 اسٹارٹ اپس شامل ہوں گے۔ دو سال کے دوران 560 اسٹارٹ اپس اس انکیوبیشن پروگرام سے استفادہ کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محض بنیادی ڈھانچے کی فراہمی تک محدود رہنے کے بجائے منتخب ادارے کو اے آئی بوٹ کیمپس، ایکسلریٹر پروگرامز، انکیوبیشن سہولت، موضوعاتی اے آئی چیلنجز، ہیکاتھونز اور اسٹارٹ اپس کی رہنمائی پر مشتمل جامع جدت کا نظام بھی تشکیل دینا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) میں تجارتی سطح پر کامیابی (کمرشلائزیشن) پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آپریٹر کو اسٹارٹ اپس کو وینچر کیپیٹل کمپنیوں، انکیوبیٹرز، ایکسلریٹرز، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے جوڑنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری کے حصول اور منڈی تک رسائی کے امکانات بہتر بنائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پروگرام کا ایک اہم ترین جزو 150 اے آئی اسٹارٹ اپس کو بغیر حصص کی شراکت پر سیڈ گرانٹس کی فراہمی ہے۔ اگرچہ یہ فنڈنگ وزارت الگ سے فراہم کرے گی اور اسے ٹھیکیدار کی مالی تجویز کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، تاہم منتخب ادارہ درخواستوں کی وصولی، تکنیکی جانچ، انتخاب، گرانٹس کی تقسیم، نگرانی اور بعد از گرانٹ معاونت کے لیے شفاف اور ملک گیر نظام وضع کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے ہدایت کی ہے کہ فنڈنگ پروگرام مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہو اور اس کے لیے واضح کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز)، اہداف کے مطابق مرحلہ وار فنڈز کی فراہمی اور مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے تاکہ شفافیت اور قابلِ پیمائش نتائج یقینی بنائے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں جدت کے فروغ کے لیے آپریٹر دو قومی اے آئی ہیکاتھونز اور چار اے آئی آگاہی سیشنز بھی منعقد کرے گا، جن میں طلبہ، کاروباری افراد، محققین، پالیسی سازوں اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مصنوعی ذہانت کے استعمال اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگاہی مہمات کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس، پیشہ ور افراد، جامعات کے طلبہ اور سرکاری ملازمین کی اے آئی مہارتوں میں اضافے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کی خواہش ہے کہ اے آئی جدت مراکز کے آپریٹر صنعت کے ساتھ شراکت داری، رکنیت پر مبنی پروگرامز، اسپانسر شدہ منصوبوں، تجارتی تربیتی خدمات اور گرانٹس کے ذریعے طویل المدتی مالی خود کفالت کا ماڈل تشکیل دیں تاکہ وقت کے ساتھ سرکاری فنڈنگ پر انحصار کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ منتخب ادارے کو نظم و نسق کا فریم ورک، آپریشنل تعمیل کا نظام، نگرانی کے آلات، اثرات کے جائزے کا طریقہ کار اور وزارت کی نگرانی سے ہم آہنگ باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ایف پی کے مطابق آپریٹر کو جامعات، تحقیقی مراکز، سرکاری اداروں، ملکی و غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی مصنوعی ذہانت تحقیقی نیٹ ورکس کے ساتھ تزویراتی شراکت داریاں بھی قائم کرنا ہوں گی تاکہ مشترکہ تحقیق، آزمائشی منصوبوں اور اے آئی مصنوعات کی تجارتی بنیادوں پر ترویج کو فروغ دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جامع اور مساوی ترقی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت نے ہدایت کی ہے کہ پروگرام پر عمل درآمد کے دوران خواتین اور دیہی و پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بامعنی شمولیت یقینی بنائی جائے، تاکہ یہ اقدام پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) سے بھی ہم آہنگ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر یہ معاہدہ ایک سال کے لیے دیا جائے گا، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر مزید ایک سال توسیع کی گنجائش ہوگی، تاہم بولی دہندگان کو پورے دو سالہ منصوبے کی مالی تجاویز جمع کرانا ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی مصنوعی ذہانت ترقیاتی اقدام (این اے اے آئی) کا آغاز اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت اب صرف پالیسی سازی تک محدود رہنے کے بجائے ایسی ادارہ جاتی بنیادیں استوار کرنا چاہتی ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں، افرادی صلاحیتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی تجارتی توسیع کو بڑے پیمانے پر فروغ دے سکیں۔ اگر اس منصوبے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے اے آئی ماحولیاتی نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بناتے ہوئے اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، جامعات اور صنعت کو ایک مربوط قومی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گا اور ملک کی علم پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقلی کو تیز کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی ٹی) نے ملک بھر میں قومی مصنوعی ذہانت ترقیاتی اقدام (این اے اے آئی) کے تحت سات مصنوعی ذہانت (اے آئی) جدت مراکز قائم کرنے کے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد 560 اے آئی اسٹارٹ اپس کی سرپرستی، 150 اسٹارٹ اپس کو بغیر حصص کی شراکت (نان ڈائلیوٹو) پر ابتدائی مالی معاونت (سیڈ گرانٹس) فراہم کرنا اور پاکستان کو مصنوعی ذہانت پر مبنی جدت کا علاقائی مرکز بنانا ہے۔</strong></p>
<p>یہ اقدام پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت پالیسی پر عمل درآمد کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور حکومت کی جانب سے ایسا جامع منصوبہ ہے جس کا مقصد جامعات، صنعت، اسٹارٹ اپس، محققین، سرمایہ کاروں اور سرکاری اداروں کو ایک قومی فریم ورک کے تحت یکجا کرکے مصنوعی ذہانت کا مضبوط ادارہ جاتی ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے۔</p>
<p>وزارت کی سرکاری دستاویزات کے مطابق، ایم او آئی ٹی ٹی ایک واحد بولی دہندہ، خواہ وہ کوئی کمپنی ہو یا مشترکہ کاروباری اتحاد (جوائنٹ وینچر/کنسورشیم)، کا انتخاب کرے گی، جو اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد اور گلگت میں اے آئی جدت مراکز کے قیام، آپریشن اور پائیدار انتظام کی ذمہ دار ہوگی۔</p>
<p>منتخب ادارہ جدید دفتری سہولتوں، تیز رفتار انٹرنیٹ، اشتراکی ورک اسپیس، ملٹی میڈیا سہولتوں، رہنمائی کے کمروں، ہائبرڈ اجلاسوں کے نظام اور اے آئی اسٹارٹ اپس کے لیے مخصوص ورک اسپیس پر مشتمل مکمل فعال مراکز قائم کرے گا۔</p>
<p>یہ مراکز صحت، زراعت، تعلیم، مالیاتی ٹیکنالوجی (فن ٹیک)، عوامی نظم و نسق، اسمارٹ اور پائیدار شہروں سمیت دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کو فروغ دینے والے علاقائی جدت مراکز کے طور پر کام کریں گے۔</p>
<p>دو سالہ پروگرام کے تحت ہر مرکز میں ہر مرحلے (کوہورٹ) میں 20 اے آئی اسٹارٹ اپس کو شامل کیا جائے گا، جبکہ سالانہ دو مراحل ہوں گے۔ اس طرح ہر مرکز میں سالانہ 40 اور تمام سات مراکز میں مجموعی طور پر 280 اسٹارٹ اپس شامل ہوں گے۔ دو سال کے دوران 560 اسٹارٹ اپس اس انکیوبیشن پروگرام سے استفادہ کریں گے۔</p>
<p>محض بنیادی ڈھانچے کی فراہمی تک محدود رہنے کے بجائے منتخب ادارے کو اے آئی بوٹ کیمپس، ایکسلریٹر پروگرامز، انکیوبیشن سہولت، موضوعاتی اے آئی چیلنجز، ہیکاتھونز اور اسٹارٹ اپس کی رہنمائی پر مشتمل جامع جدت کا نظام بھی تشکیل دینا ہوگا۔</p>
<p>درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) میں تجارتی سطح پر کامیابی (کمرشلائزیشن) پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آپریٹر کو اسٹارٹ اپس کو وینچر کیپیٹل کمپنیوں، انکیوبیٹرز، ایکسلریٹرز، تحقیقی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے جوڑنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری کے حصول اور منڈی تک رسائی کے امکانات بہتر بنائے جا سکیں۔</p>
<p>اس پروگرام کا ایک اہم ترین جزو 150 اے آئی اسٹارٹ اپس کو بغیر حصص کی شراکت پر سیڈ گرانٹس کی فراہمی ہے۔ اگرچہ یہ فنڈنگ وزارت الگ سے فراہم کرے گی اور اسے ٹھیکیدار کی مالی تجویز کا حصہ نہیں بنایا جائے گا، تاہم منتخب ادارہ درخواستوں کی وصولی، تکنیکی جانچ، انتخاب، گرانٹس کی تقسیم، نگرانی اور بعد از گرانٹ معاونت کے لیے شفاف اور ملک گیر نظام وضع کرے گا۔</p>
<p>وزارت نے ہدایت کی ہے کہ فنڈنگ پروگرام مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہو اور اس کے لیے واضح کلیدی کارکردگی اشاریے (کے پی آئیز)، اہداف کے مطابق مرحلہ وار فنڈز کی فراہمی اور مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے تاکہ شفافیت اور قابلِ پیمائش نتائج یقینی بنائے جا سکیں۔</p>
<p>ملک بھر میں جدت کے فروغ کے لیے آپریٹر دو قومی اے آئی ہیکاتھونز اور چار اے آئی آگاہی سیشنز بھی منعقد کرے گا، جن میں طلبہ، کاروباری افراد، محققین، پالیسی سازوں اور بین الاقوامی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر مصنوعی ذہانت کے استعمال اور تکنیکی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔</p>
<p>آگاہی مہمات کے ساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس، پیشہ ور افراد، جامعات کے طلبہ اور سرکاری ملازمین کی اے آئی مہارتوں میں اضافے کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔</p>
<p>وزارت کی خواہش ہے کہ اے آئی جدت مراکز کے آپریٹر صنعت کے ساتھ شراکت داری، رکنیت پر مبنی پروگرامز، اسپانسر شدہ منصوبوں، تجارتی تربیتی خدمات اور گرانٹس کے ذریعے طویل المدتی مالی خود کفالت کا ماڈل تشکیل دیں تاکہ وقت کے ساتھ سرکاری فنڈنگ پر انحصار کم کیا جا سکے۔</p>
<p>اس کے علاوہ منتخب ادارے کو نظم و نسق کا فریم ورک، آپریشنل تعمیل کا نظام، نگرانی کے آلات، اثرات کے جائزے کا طریقہ کار اور وزارت کی نگرانی سے ہم آہنگ باقاعدہ رپورٹنگ کا نظام بھی قائم کرنا ہوگا۔</p>
<p>آر ایف پی کے مطابق آپریٹر کو جامعات، تحقیقی مراکز، سرکاری اداروں، ملکی و غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور عالمی مصنوعی ذہانت تحقیقی نیٹ ورکس کے ساتھ تزویراتی شراکت داریاں بھی قائم کرنا ہوں گی تاکہ مشترکہ تحقیق، آزمائشی منصوبوں اور اے آئی مصنوعات کی تجارتی بنیادوں پر ترویج کو فروغ دیا جا سکے۔</p>
<p>جامع اور مساوی ترقی کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزارت نے ہدایت کی ہے کہ پروگرام پر عمل درآمد کے دوران خواتین اور دیہی و پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بامعنی شمولیت یقینی بنائی جائے، تاکہ یہ اقدام پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) سے بھی ہم آہنگ رہے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر یہ معاہدہ ایک سال کے لیے دیا جائے گا، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر مزید ایک سال توسیع کی گنجائش ہوگی، تاہم بولی دہندگان کو پورے دو سالہ منصوبے کی مالی تجاویز جمع کرانا ہوں گی۔</p>
<p>قومی مصنوعی ذہانت ترقیاتی اقدام (این اے اے آئی) کا آغاز اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت اب صرف پالیسی سازی تک محدود رہنے کے بجائے ایسی ادارہ جاتی بنیادیں استوار کرنا چاہتی ہے جو مصنوعی ذہانت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں، افرادی صلاحیتوں کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی تجارتی توسیع کو بڑے پیمانے پر فروغ دے سکیں۔ اگر اس منصوبے پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ پاکستان کے ابھرتے ہوئے اے آئی ماحولیاتی نظام کو نمایاں طور پر مضبوط بناتے ہوئے اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، جامعات اور صنعت کو ایک مربوط قومی پلیٹ فارم پر اکٹھا کرے گا اور ملک کی علم پر مبنی ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقلی کو تیز کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289249</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 18:47:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/27183714cff82f8.webp" type="image/webp" medium="image" height="418" width="734">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/27183714cff82f8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
