<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 18:59:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Jul 2026 18:59:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش اور چین نے طویل عرصے سے التوا کا شکار صنعتی زون کا افتتاح کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289248/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش نے پیر کے روز بندرگاہی شہر چٹاگانگ کے قریب ایک طویل عرصے سے التوا کا شکار صنعتی زون کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ چین کے اشتراک سے قائم کیے جانے والے اس مشترکہ منصوبے سے حکام کو امید ہے کہ یہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دسیوں ہزار نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے حکام نے چائنیز اکنامک اینڈ انڈسٹریل زون (سی ای آئی زیڈ) کا افتتاح کیا، جو 800 ایکڑ (324 ہیکٹر) پر محیط منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر ایک دہائی سے بھی زائد عرصہ قبل اتفاق کیا گیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کے باعث اس پر عمل درآمد میں طویل تاخیر ہوتی رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SpoxCHN_MaoNing/status/2070390354424336710'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SpoxCHN_MaoNing/status/2070390354424336710"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اس صنعتی زون کا افتتاح ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بنگلہ دیش غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور صنعتی پیداوار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، جبکہ چین بھی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے جنوبی ایشیا میں اپنا معاشی اثر و رسوخ مزید مستحکم کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ و منصوبہ بندی امیر خسرو محمود چوہدری نے کہا کہ یہ صنعتی زون 2034 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے قومی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہمیں توقع ہے کہ ہائی ٹیک چپس، طبی آلات اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں تزویراتی نوعیت کی سرمایہ کاری حاصل ہوگی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں چین کے سفیر یاؤ وین نے چائنیز اکنامک اینڈ انڈسٹریل زون (سی ای آئی زیڈ) کو ایک فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 100 سے زائد چینی کمپنیوں کے وفود اس مقام کا دورہ کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اس اقتصادی زون کے لیے اب تک تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کی دلچسپی سامنے آ چکی ہے۔“ ان کے مطابق اس منصوبے سے ریڈی میڈ گارمنٹس، برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور طبی آلات سمیت مختلف شعبوں میں تقریباً ایک لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش اور چین نے اس منصوبے کے لیے 2014 میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، تاہم منصوبہ ساز کے تقرر، مالی وسائل کی فراہمی اور انتظامی منظوریوں میں تاخیر کے باعث اس منصوبے پر پیش رفت کئی برس تک تعطل کا شکار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کو اس وقت نئی رفتار ملی جب وزیر اعظم طارق رحمان نے جون میں چین کا دورہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش نے گزشتہ ماہ منگلا پورٹ اکنامک زون کے 110 ایکڑ رقبے کی ترقی کے حقوق، 2015 میں بھارت کو دی گئی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے بعد، چین کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور چین گزشتہ کئی برسوں سے جنوبی ایشیا میں اپنے معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش نے پیر کے روز بندرگاہی شہر چٹاگانگ کے قریب ایک طویل عرصے سے التوا کا شکار صنعتی زون کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز کر دیا۔ چین کے اشتراک سے قائم کیے جانے والے اس مشترکہ منصوبے سے حکام کو امید ہے کہ یہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دسیوں ہزار نئے روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا۔</strong></p>
<p>دونوں ممالک کے حکام نے چائنیز اکنامک اینڈ انڈسٹریل زون (سی ای آئی زیڈ) کا افتتاح کیا، جو 800 ایکڑ (324 ہیکٹر) پر محیط منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر ایک دہائی سے بھی زائد عرصہ قبل اتفاق کیا گیا تھا، تاہم مختلف وجوہات کے باعث اس پر عمل درآمد میں طویل تاخیر ہوتی رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/SpoxCHN_MaoNing/status/2070390354424336710'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SpoxCHN_MaoNing/status/2070390354424336710"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اس صنعتی زون کا افتتاح ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بنگلہ دیش غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے اور صنعتی پیداوار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے، جبکہ چین بھی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے ذریعے جنوبی ایشیا میں اپنا معاشی اثر و رسوخ مزید مستحکم کر رہا ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ و منصوبہ بندی امیر خسرو محمود چوہدری نے کہا کہ یہ صنعتی زون 2034 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے قومی ہدف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہمیں توقع ہے کہ ہائی ٹیک چپس، طبی آلات اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں تزویراتی نوعیت کی سرمایہ کاری حاصل ہوگی۔“</p>
<p>بنگلہ دیش میں چین کے سفیر یاؤ وین نے چائنیز اکنامک اینڈ انڈسٹریل زون (سی ای آئی زیڈ) کو ایک فلیگ شپ منصوبہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ 100 سے زائد چینی کمپنیوں کے وفود اس مقام کا دورہ کر چکے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اس اقتصادی زون کے لیے اب تک تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کی دلچسپی سامنے آ چکی ہے۔“ ان کے مطابق اس منصوبے سے ریڈی میڈ گارمنٹس، برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور طبی آلات سمیت مختلف شعبوں میں تقریباً ایک لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش اور چین نے اس منصوبے کے لیے 2014 میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، تاہم منصوبہ ساز کے تقرر، مالی وسائل کی فراہمی اور انتظامی منظوریوں میں تاخیر کے باعث اس منصوبے پر پیش رفت کئی برس تک تعطل کا شکار رہی۔</p>
<p>اس منصوبے کو اس وقت نئی رفتار ملی جب وزیر اعظم طارق رحمان نے جون میں چین کا دورہ کیا۔</p>
<p>یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بنگلہ دیش نے گزشتہ ماہ منگلا پورٹ اکنامک زون کے 110 ایکڑ رقبے کی ترقی کے حقوق، 2015 میں بھارت کو دی گئی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے بعد، چین کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p>بھارت اور چین گزشتہ کئی برسوں سے جنوبی ایشیا میں اپنے معاشی اور تزویراتی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت میں مصروف ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289248</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 17:05:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/271657494a9e4ab.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/271657494a9e4ab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
