<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 19:00:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Jul 2026 19:00:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جی ایس پی پلس کوآرڈینیشن میکانزم قائم کرنے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289242/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ وزارتِ تجارت، وزارتِ خارجہ، ایف پی سی سی آئی، انسانی حقوق، سمندر پار پاکستانیوں، انسانی وسائل کی ترقی، موسمیاتی تبدیلی، صوبائی حکومتوں اور کاروباری برادری کے نمائندوں پر مشتمل جی ایس پی پلس کوآرڈینیشن میکانزم قائم کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صرف قانون سازی میں پیش رفت کافی نہیں ہوگی، یورپی اداروں کو قائل کرنے کے لیے قوانین پر عملدرآمد، دستاویزی شواہد اور قابلِ تصدیق نتائج بھی اتنے ہی اہم ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ یورپی یونین تک ترجیحی رسائی برآمدات، روزگار، صنعتی پیداوار اور زرمبادلہ کی کمائی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے 2023ء سے 2025ء کے دوران جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی ) پر عمل درآمد کے تازہ ترین جائزے میں پاکستان کی جانب سے بعض ذمہ داریوں کی تعمیل میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پاکستان نے اس جائزے پر مایوسی کا اظہار کیا جسے وہ ناکافی حد تک متوازن سمجھتا ہے لیکن اس معاملے کو محاذ آرائی کے بجائے مؤثر سفارت کاری اور تیز رفتار ملکی اصلاحات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مفادات بہت وسیع ہیں۔ پاکستان نے 2025ء میں یورپی یونین کو تقریباً 8.7 ارب یورو مالیت کی اشیا برآمد کیں جبکہ اشیا میں کل دو طرفہ تجارت تقریباً 12.2 ارب یورو تک پہنچ گئی۔ یورپی یونین پاکستان کی کل تجارت کا تقریباً 14.1 فیصد حصہ رکھتی ہے اور یہ ملک کی سب سے اہم برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کا سب سے بڑا مستفید کنندہ ہے۔ پاکستان کی 85 فیصد سے زائد برآمدات، جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا ایک بڑا حصہ شامل ہے یورپی منڈی میں ڈیوٹی اور کوٹہ کے بغیر داخل ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میاں زاہد حسین نے مشاہدہ کیا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہیں اور یہ لاکھوں کارکنوں کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ وزارتِ تجارت، وزارتِ خارجہ، ایف پی سی سی آئی، انسانی حقوق، سمندر پار پاکستانیوں، انسانی وسائل کی ترقی، موسمیاتی تبدیلی، صوبائی حکومتوں اور کاروباری برادری کے نمائندوں پر مشتمل جی ایس پی پلس کوآرڈینیشن میکانزم قائم کرے۔</strong></p>
<p>انہوں نے کہا کہ صرف قانون سازی میں پیش رفت کافی نہیں ہوگی، یورپی اداروں کو قائل کرنے کے لیے قوانین پر عملدرآمد، دستاویزی شواہد اور قابلِ تصدیق نتائج بھی اتنے ہی اہم ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی غفلت کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ یورپی یونین تک ترجیحی رسائی برآمدات، روزگار، صنعتی پیداوار اور زرمبادلہ کی کمائی کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے 2023ء سے 2025ء کے دوران جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز (جی ایس پی ) پر عمل درآمد کے تازہ ترین جائزے میں پاکستان کی جانب سے بعض ذمہ داریوں کی تعمیل میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p>اگرچہ پاکستان نے اس جائزے پر مایوسی کا اظہار کیا جسے وہ ناکافی حد تک متوازن سمجھتا ہے لیکن اس معاملے کو محاذ آرائی کے بجائے مؤثر سفارت کاری اور تیز رفتار ملکی اصلاحات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کے معاشی مفادات بہت وسیع ہیں۔ پاکستان نے 2025ء میں یورپی یونین کو تقریباً 8.7 ارب یورو مالیت کی اشیا برآمد کیں جبکہ اشیا میں کل دو طرفہ تجارت تقریباً 12.2 ارب یورو تک پہنچ گئی۔ یورپی یونین پاکستان کی کل تجارت کا تقریباً 14.1 فیصد حصہ رکھتی ہے اور یہ ملک کی سب سے اہم برآمدی منڈیوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کا سب سے بڑا مستفید کنندہ ہے۔ پاکستان کی 85 فیصد سے زائد برآمدات، جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا ایک بڑا حصہ شامل ہے یورپی منڈی میں ڈیوٹی اور کوٹہ کے بغیر داخل ہوتی ہیں۔</p>
<p>میاں زاہد حسین نے مشاہدہ کیا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہیں اور یہ لاکھوں کارکنوں کو براہ راست اور بالواسطہ روزگار فراہم کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289242</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 16:26:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/271438158ef0647.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/271438158ef0647.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
