<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 14:21:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Jul 2026 14:21:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے کاروبار دوست ماحول فراہم کرنے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289229/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پیر کو حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضوابط کو آسان بنا کر، صنعتی ترقی کو فروغ دے کر، ایس ایم ایز کی معاونت کر کے اور ملکی مینوفیکچرنگ بنیاد کو وسعت دے کر کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز (آئی سی ایس ٹی ایس آئی) کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں ایس ایم ایز، ٹیکس نظام، صنعتی انفرااسٹرکچر، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور برآمدات کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایس ایم ایز کی تعریف میں حالیہ نظرثانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت اقدام قرار دیا جس سے زیادہ کاروباری ادارے مالی معاونت اور رسمی شعبے کے لیے دستیاب مراعات حاصل کرنے کے اہل ہوسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور ڈیجیٹلائزیشن و ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کاروباری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے زور دیا کہ فرسودہ طریقۂ کار اور باہم متداخل ضوابط کو بتدریج ختم کیا جانا چاہیے تاکہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہو اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ بزنس رجسٹریشن کے عمل کو زیادہ مربوط اور سہولت پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے آسان بنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ کاروباری افراد تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے سے قبل تمام ضابطہ جاتی تقاضے آسانی سے پورے کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وفد نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں چھوٹے کاروبار کا ایک بڑا حصہ اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے چل رہا ہے اور پیچیدہ طریقۂ کار، بار بار ہونے والے آڈٹس اور ضابطہ جاتی تعمیل (کمپلائنس) پر آنے والی لاگت کے باعث اکثر رسمی رجسٹریشن سے گریز کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے رضاکارانہ دستاویزی عمل (ڈاکومنٹیشن) کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا حکومت کے اہم پالیسی اہداف میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکا نے خصوصی چھوٹے صنعتی زونز کے قیام کا بھی مطالبہ کیا، بالخصوص اسلام آباد میں جہاں بجلی، گیس، پانی اور سڑکوں تک رسائی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ رسمی صنعتی یونٹس قائم کرنے کی بلند لاگت کے باعث اس وقت بہت سے چھوٹے صنعت کار رہائشی علاقوں اور غیر رسمی ورکشاپس سے اپنا کاروبار چلانے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر جام کمال خان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایس ایم ایز کے لیے منظم صنعتی اسٹیٹس کے قیام سے پیداواری صلاحیت، مصنوعات کے معیار، ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا جبکہ اس سے مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کو بھی تقویت ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پاکستان کی تیزی سے فروغ پاتی فوڈ انڈسٹری اور ای کامرس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ڈلیوری سروسز کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کہا کہ فوڈ اور ہاسپیٹیلٹی کے شعبے روزگار کی فراہمی اور معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرنے والے شعبوں کے طور پر ابھرے ہیں اور ان میں مزید ترقی کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے حکومت پر زور دیا کہ اسلام آباد میں جدید سلاٹر ہاؤس (ذبح خانہ) قائم کیا جائے۔ وفد نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے 8 ہیکٹر اراضی پہلے ہی مختص کی جا چکی ہے اور منصوبہ بندی کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے تاہم انتظامی اور ماحولیاتی مسائل کے باعث منصوبہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کا کہنا تھا کہ جدید سلاٹر ہاؤس کے قیام سے صفائی کے معیار، غذائی تحفظ، ٹریس ایبلٹی، ماحولیاتی انتظام اور حلال گوشت کی برآمدات کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے پاکستان کے لائیو اسٹاک ویلیو چین کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی کھالوں، ہڈیوں، چربی اور خون سمیت دیگر ضمنی مصنوعات سے مؤثر انداز میں استفادہ کرکے نہ صرف نمایاں اضافی معاشی قدر پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور فضلے میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پرچیمبر نے وفاقی حکومت، حکومتِ پنجاب اور نجی شعبے کے اشتراک سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 100 ایکڑ پر مشتمل صنعتی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر جام کمال خان نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل اور سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبے پیش کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور صنعتی شعبے میں تنوع پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط بنانے، برآمدات بڑھانے اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پیر کو حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضوابط کو آسان بنا کر، صنعتی ترقی کو فروغ دے کر، ایس ایم ایز کی معاونت کر کے اور ملکی مینوفیکچرنگ بنیاد کو وسعت دے کر کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>یہ بات انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹریز (آئی سی ایس ٹی ایس آئی) کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔</p>
<p>ملاقات میں ایس ایم ایز، ٹیکس نظام، صنعتی انفرااسٹرکچر، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے اور برآمدات کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وفد نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایس ایم ایز کی تعریف میں حالیہ نظرثانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت اقدام قرار دیا جس سے زیادہ کاروباری ادارے مالی معاونت اور رسمی شعبے کے لیے دستیاب مراعات حاصل کرنے کے اہل ہوسکیں گے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت غیر ضروری ضابطہ جاتی رکاوٹوں کو کم کرنے اور ڈیجیٹلائزیشن و ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے کاروباری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔</p>
<p>انہوں نے زور دیا کہ فرسودہ طریقۂ کار اور باہم متداخل ضوابط کو بتدریج ختم کیا جانا چاہیے تاکہ کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہو اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ بزنس رجسٹریشن کے عمل کو زیادہ مربوط اور سہولت پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے آسان بنانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ کاروباری افراد تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے سے قبل تمام ضابطہ جاتی تقاضے آسانی سے پورے کرسکیں۔</p>
<p>دریں اثنا وفد نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں چھوٹے کاروبار کا ایک بڑا حصہ اپنی ذاتی سرمایہ کاری سے چل رہا ہے اور پیچیدہ طریقۂ کار، بار بار ہونے والے آڈٹس اور ضابطہ جاتی تعمیل (کمپلائنس) پر آنے والی لاگت کے باعث اکثر رسمی رجسٹریشن سے گریز کرتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے رضاکارانہ دستاویزی عمل (ڈاکومنٹیشن) کی حوصلہ افزائی کے ذریعے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا حکومت کے اہم پالیسی اہداف میں شامل ہے۔</p>
<p>شرکا نے خصوصی چھوٹے صنعتی زونز کے قیام کا بھی مطالبہ کیا، بالخصوص اسلام آباد میں جہاں بجلی، گیس، پانی اور سڑکوں تک رسائی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ رسمی صنعتی یونٹس قائم کرنے کی بلند لاگت کے باعث اس وقت بہت سے چھوٹے صنعت کار رہائشی علاقوں اور غیر رسمی ورکشاپس سے اپنا کاروبار چلانے پر مجبور ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر جام کمال خان نے اس بات سے اتفاق کیا کہ ایس ایم ایز کے لیے منظم صنعتی اسٹیٹس کے قیام سے پیداواری صلاحیت، مصنوعات کے معیار، ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا جبکہ اس سے مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p>اجلاس میں پاکستان کی تیزی سے فروغ پاتی فوڈ انڈسٹری اور ای کامرس، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ڈلیوری سروسز کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو نئے کاروباری مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کہا کہ فوڈ اور ہاسپیٹیلٹی کے شعبے روزگار کی فراہمی اور معاشی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرنے والے شعبوں کے طور پر ابھرے ہیں اور ان میں مزید ترقی کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔</p>
<p>وفد نے حکومت پر زور دیا کہ اسلام آباد میں جدید سلاٹر ہاؤس (ذبح خانہ) قائم کیا جائے۔ وفد نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے 8 ہیکٹر اراضی پہلے ہی مختص کی جا چکی ہے اور منصوبہ بندی کا کام بھی مکمل ہو چکا ہے تاہم انتظامی اور ماحولیاتی مسائل کے باعث منصوبہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔</p>
<p>وفد کا کہنا تھا کہ جدید سلاٹر ہاؤس کے قیام سے صفائی کے معیار، غذائی تحفظ، ٹریس ایبلٹی، ماحولیاتی انتظام اور حلال گوشت کی برآمدات کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے پاکستان کے لائیو اسٹاک ویلیو چین کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی کھالوں، ہڈیوں، چربی اور خون سمیت دیگر ضمنی مصنوعات سے مؤثر انداز میں استفادہ کرکے نہ صرف نمایاں اضافی معاشی قدر پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور فضلے میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p>اس موقع پرچیمبر نے وفاقی حکومت، حکومتِ پنجاب اور نجی شعبے کے اشتراک سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 100 ایکڑ پر مشتمل صنعتی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر جام کمال خان نے اس تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کاروباری برادری پر زور دیا کہ وہ تجارتی لحاظ سے قابلِ عمل اور سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبے پیش کرے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)، جدید ٹیکنالوجی کا فروغ اور صنعتی شعبے میں تنوع پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو مضبوط بنانے، برآمدات بڑھانے اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289229</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 12:32:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/27114350914e759.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/27114350914e759.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
