<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 14:10:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 27 Jul 2026 14:10:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالی سال 27 کی پہلی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج، شرح سود برقرار رہنے کی توقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289226/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس آج (پیر کو) متوقع ہے جو مالی سال 2026-27 کا پہلا اجلاس ہوگا۔ اس اجلاس میں بنیادی شرحِ سود (پالیسی ریٹ) کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ مانیٹری اسٹانس مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف کی رینج میں لانے کے لیے موزوں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کار اس بار بھی توقع کر رہے ہیں کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو برقرار رکھے گا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خطرات نے ملک میں افراطِ زر میں بہتری اور مانیٹری پالیسی میں نرمی کے حق میں بڑھتے ہوئے دلائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک سروے کے مطابق 97 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ 27 جولائی 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا جبکہ باقی 3 فیصد شرکا 100 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی رپورٹ میں اے کے ڈی سیکیورٹیز نے کہا ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی، محتاط مالیاتی نظم و نسق، بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگ اور ساختی اصلاحات پر مسلسل پیش رفت کی بدولت بیرونی کھاتوں کی مضبوط صورتحال برقرار ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتے ہوئے معاشی اشاریے اور منی سپلائی میں سکڑاؤ معاون مالیاتی نرمی کے موقف کو مزید تقویت دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں شدت کے بعد دوبارہ بڑھنے والی جغرافیائی کشیدگی جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے حوثیوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکیاں شامل ہیں نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے ساتھ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع سیلاب کے خدشات نے بھی افراطِ زر کے دباؤ کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ان عوامل کے پیشِ نظر ہماری توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ کو برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ 18 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی نرم ہوتی قیمتوں کے باعث مارکیٹ کے شرکا نے آئندہ دو سے تین مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاسوں میں مجموعی طور پر 100 سے 150 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں کمی کے امکانات کو زیادہ اہمیت دینا شروع کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی نے اس امید کی فضا کو جزوی طور پر ختم کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ ان حالیہ پیش رفت کے تناظر میں ہماری توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک  27 جولائی 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ ابھرنے والی جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی عالمی تجارت کے اہم راستوں میں رکاوٹوں نے عالمی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے جس کے باعث اسٹیٹ بینک سے محتاط طرزِ عمل اختیار کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ چونکہ بیرونی خطرات مانیٹری پالیسی میں مزید نرمی کے حق میں موجود دلائل پر غالب آچکے ہیں، اس لیے امکان ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس آج (پیر کو) متوقع ہے جو مالی سال 2026-27 کا پہلا اجلاس ہوگا۔ اس اجلاس میں بنیادی شرحِ سود (پالیسی ریٹ) کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>گزشتہ ماہ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ مانیٹری اسٹانس مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف کی رینج میں لانے کے لیے موزوں ہے۔</p>
<p>تجزیہ کار اس بار بھی توقع کر رہے ہیں کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو برقرار رکھے گا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خطرات نے ملک میں افراطِ زر میں بہتری اور مانیٹری پالیسی میں نرمی کے حق میں بڑھتے ہوئے دلائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک سروے کے مطابق 97 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ 27 جولائی 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا جبکہ باقی 3 فیصد شرکا 100 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع کررہے ہیں۔</p>
<p>اپنی رپورٹ میں اے کے ڈی سیکیورٹیز نے کہا ہے کہ سخت مانیٹری پالیسی، محتاط مالیاتی نظم و نسق، بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگ اور ساختی اصلاحات پر مسلسل پیش رفت کی بدولت بیرونی کھاتوں کی مضبوط صورتحال برقرار ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتے ہوئے معاشی اشاریے اور منی سپلائی میں سکڑاؤ معاون مالیاتی نرمی کے موقف کو مزید تقویت دے رہا ہے۔</p>
<p>تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں شدت کے بعد دوبارہ بڑھنے والی جغرافیائی کشیدگی جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے حوثیوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکیاں شامل ہیں نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے ساتھ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع سیلاب کے خدشات نے بھی افراطِ زر کے دباؤ کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ان عوامل کے پیشِ نظر ہماری توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ کو برقرار رکھے گا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ 18 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی نرم ہوتی قیمتوں کے باعث مارکیٹ کے شرکا نے آئندہ دو سے تین مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاسوں میں مجموعی طور پر 100 سے 150 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں کمی کے امکانات کو زیادہ اہمیت دینا شروع کردیا تھا۔</p>
<p>تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی نے اس امید کی فضا کو جزوی طور پر ختم کردیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ ان حالیہ پیش رفت کے تناظر میں ہماری توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک  27 جولائی 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھے گا۔</p>
<p>جے ایس گلوبل نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ ابھرنے والی جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی عالمی تجارت کے اہم راستوں میں رکاوٹوں نے عالمی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے جس کے باعث اسٹیٹ بینک سے محتاط طرزِ عمل اختیار کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ چونکہ بیرونی خطرات مانیٹری پالیسی میں مزید نرمی کے حق میں موجود دلائل پر غالب آچکے ہیں، اس لیے امکان ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289226</guid>
      <pubDate>Mon, 27 Jul 2026 11:37:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/271122555dd2d40.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/271122555dd2d40.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
