<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 01 Oct 2026 14:05:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 01 Oct 2026 14:05:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289226/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)&lt;/strong&gt; کی &lt;strong&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی)&lt;/strong&gt; نے مالی سال 27-2026 کے اپنے پہلے اجلاس میں شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم پی سی کا اس سال پانچویں بار اجلاس ہوا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس بریفنگ میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ جولائی میں سی پی آئی مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ اس مالی سال کے آخر تک سی پی آئی ہمارے 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی بالائی حد تک آ جائے گی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2066483188114071826?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2066483188114071826%7Ctwgr%5E64ca25946f6f3d491324911e4c853064875be796%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431974'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2066483188114071826?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2066483188114071826%7Ctwgr%5E64ca25946f6f3d491324911e4c853064875be796%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431974"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ کمیٹی نے معاشی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ پچھلے اجلاس کے مقابلے میں مجموعی معاشی تناظر میں بہتری آئی ہے، تاہم یہ اب بھی خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے دوبارہ سر اٹھانے کی وجہ سے بڑھتے ہوئے خطرات کی زد میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ملاحظہ کیا کہ کشیدگی میں پہلے سے آنے والی کمی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں نیچے آئی تھیں اور سپلائی چین کے تعطل میں بھی نسبتاً کمی دیکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں حالیہ معاشی اشاریوں میں کچھ بہتری آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں کلی اور بنیادی افراطِ زر (ہیڈ لائن اینڈ کور انفلیشن) دونوں میں کمی آئی، اگرچہ دونوں اب بھی بلند سطح پر قائم ہیں۔ دوسری طرف معاشی سرگرمیوں کے نئے اشاریے معاشی تحرک کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جبکہ بیرونی کھاتے پر دباؤ بھی اعتدال میں رہا۔ ان پیش رفتوں اور ابھرتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے اندازہ لگایا ہے کہ موجودہ مانیٹری پالیسی کا موقف درمیانی مدت میں افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے موزوں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے گزشتہ اجلاس کے بعد سے اہم پیش رفتوں کی نشاندہی بھی کی۔ پہلا یہ کہ مالی سال 2026 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور متوقع سرکاری رقوم کی آمد کے باعث اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 کے اختتام تک 18 ارب ڈالر کے مقررہ ہدف سے تجاوز کر گئے۔ دوسرا اسٹینڈرڈ اینڈ پورز (ایس اینڈ پی) کی جانب سے پاکستان کی سوورن کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر کر کے ”بی“ کر دیا گیا۔ تیسرا تازہ ترین جذبات کے سروے میں صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کے لیے افراطِ زر کی توقعات میں کمی آئی، جبکہ اعتماد کے اشاریوں نے ملا جلا رجحان دکھایا۔ چوتھا ایف بی آر نے مالی سال 2026 کے لیے اپنے ترمیم شدہ ٹیکس محصولات کے ہدف کو حاصل کر لیا۔ پانچواں آئی ایم ایف نے اپنے تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تقویمی سال 2026 اور 2027 دونوں کے لیے عالمی افراطِ زر کی پیش گوئی میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مجموعی ملکی پیداوار اور کرنٹ اکاؤنٹ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 2027 کے دوران حقیقی جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کی شرحِ نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی اجناس کی قیمتوں میں عدم استحکام اور غیر یقینی موسمی حالات بشمول ال نینو کے اثرات سے پیدا ہونے والے خطرات، معاشی نمو کے امکانات کو متاثر کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوگا، تاہم اندازہ ہے کہ یہ مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی حد میں ہی رہے گا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں اضافے کا امکان ہے جو بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے ایک بڑے حصے کو پورا کرتی رہیں گی۔ متوقع سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کی آمد کے ساتھ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو دسمبر 2026 کے اختتام تک 20.20 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افراطِ زر (مہنگائی) کا تناظر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے کا جائزہ لیتے ہوئے ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ عالمی سطح پر خام مال کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ، پیداواری لاگت کی بلندی اور مقامی سطح پر خوراک کی قیمتوں کا دباؤ آنے والے چند مہینوں میں افراطِ زر کو ہدف سے اوپر رکھ سکتا ہے۔ بعد ازاں افراطِ زر میں تدریجی کمی کا امکان ہے اور جون 2027 تک یہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی بالائی حد کے قریب مستحکم ہو جائے گی۔ اس تناظر کو کئی خطرات درپیش ہیں، جن میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کا عدم استحکام، حکومت کی جانب سے مقررہ توانائی کی قیمتوں میں غیر متوقع ردوبدل، ناموافق موسمی حالات اور مالیاتی خسارے کا خدشہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پچھلا ایم پی سی اجلاس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 جون 2026 کو منعقدہ پچھلے اجلاس میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ موجودہ موقف درمیانی مدت کے ہدف تک مہنگائی کو لانے کے لیے مناسب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں تجزیہ کار اس بار بھی توقع کررہے تھے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو برقرار رکھے گا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خطرات نے ملک میں افراطِ زر میں بہتری اور مانیٹری پالیسی میں نرمی کے حق میں بڑھتے ہوئے دلائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے کے مطابق 97 فیصد شرکا کا خیال تھا کہ 27 جولائی 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا جبکہ باقی 3 فیصد شرکا 100 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی رپورٹ میں اے کے ڈی سیکیورٹیز نے کہا تھا کہ سخت مانیٹری پالیسی، محتاط مالیاتی نظم و نسق، بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگ اور ساختی اصلاحات پر مسلسل پیش رفت کی بدولت بیرونی کھاتوں کی مضبوط صورتحال برقرار ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتے ہوئے معاشی اشاریے اور منی سپلائی میں سکڑاؤ معاون مالیاتی نرمی کے موقف کو مزید تقویت دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں شدت کے بعد دوبارہ بڑھنے والی جغرافیائی کشیدگی جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے حوثیوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکیاں شامل ہیں نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے ساتھ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع سیلاب کے خدشات نے بھی افراطِ زر کے دباؤ کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ 18 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی نرم ہوتی قیمتوں کے باعث مارکیٹ کے شرکا نے آئندہ دو سے تین مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاسوں میں مجموعی طور پر 100 سے 150 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں کمی کے امکانات کو زیادہ اہمیت دینا شروع کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی نے اس امید کی فضا کو جزوی طور پر ختم کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ ان حالیہ پیش رفت کے تناظر میں ہماری توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک 27 جولائی 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح جے ایس گلوبل نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ ابھرنے والی جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی عالمی تجارت کے اہم راستوں میں رکاوٹوں نے عالمی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے جس کے باعث اسٹیٹ بینک سے محتاط طرزِ عمل اختیار کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ چونکہ بیرونی خطرات مانیٹری پالیسی میں مزید نرمی کے حق میں موجود دلائل پر غالب آچکے ہیں، اس لیے امکان ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صنعت کار شدید مایوس&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔تجارتی تنظیم نے فیصلے کو معاشی سست روی کا باعث قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بینچ مارک شرحِ سود کو اتنی بلند سطح پر برقرار رکھنے سے معاشی سرگرمیاں معطل رہیں گی، مالی وسائل تک رسائی دشوار ہوگی اور ملک بھر میں صنعتوں کی بحالی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر ثاقب فیاض مگوں نے مرکزی بینک کے اس محتاط روئیے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری کو شرحِ سود میں کچھ کمی کی توقع تھی، تاکہ کاروبار کی بھاری لاگت کو کم کرنے میں مدد مل سکے اور تجارتی و صنعتی شعبے کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی)</strong> کی <strong>مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی)</strong> نے مالی سال 27-2026 کے اپنے پہلے اجلاس میں شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>ایم پی سی کا اس سال پانچویں بار اجلاس ہوا۔ یہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے۔</p>
<p>ایک پریس بریفنگ میں گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ جولائی میں سی پی آئی مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ اس مالی سال کے آخر تک سی پی آئی ہمارے 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی بالائی حد تک آ جائے گی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center  media--embed  media--uneven media--tweet' data-original-src='https://x.com/StateBank_Pak/status/2066483188114071826?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2066483188114071826%7Ctwgr%5E64ca25946f6f3d491324911e4c853064875be796%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431974'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/2066483188114071826?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2066483188114071826%7Ctwgr%5E64ca25946f6f3d491324911e4c853064875be796%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40431974"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ کمیٹی نے معاشی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے پایا کہ پچھلے اجلاس کے مقابلے میں مجموعی معاشی تناظر میں بہتری آئی ہے، تاہم یہ اب بھی خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے دوبارہ سر اٹھانے کی وجہ سے بڑھتے ہوئے خطرات کی زد میں ہے۔</p>
<p>کمیٹی نے ملاحظہ کیا کہ کشیدگی میں پہلے سے آنے والی کمی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں نیچے آئی تھیں اور سپلائی چین کے تعطل میں بھی نسبتاً کمی دیکھی گئی تھی، جس کے نتیجے میں حالیہ معاشی اشاریوں میں کچھ بہتری آئی۔</p>
<p>جون میں کلی اور بنیادی افراطِ زر (ہیڈ لائن اینڈ کور انفلیشن) دونوں میں کمی آئی، اگرچہ دونوں اب بھی بلند سطح پر قائم ہیں۔ دوسری طرف معاشی سرگرمیوں کے نئے اشاریے معاشی تحرک کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جبکہ بیرونی کھاتے پر دباؤ بھی اعتدال میں رہا۔ ان پیش رفتوں اور ابھرتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے اندازہ لگایا ہے کہ موجودہ مانیٹری پالیسی کا موقف درمیانی مدت میں افراطِ زر کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے موزوں ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے گزشتہ اجلاس کے بعد سے اہم پیش رفتوں کی نشاندہی بھی کی۔ پہلا یہ کہ مالی سال 2026 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اور متوقع سرکاری رقوم کی آمد کے باعث اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر جون 2026 کے اختتام تک 18 ارب ڈالر کے مقررہ ہدف سے تجاوز کر گئے۔ دوسرا اسٹینڈرڈ اینڈ پورز (ایس اینڈ پی) کی جانب سے پاکستان کی سوورن کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر کر کے ”بی“ کر دیا گیا۔ تیسرا تازہ ترین جذبات کے سروے میں صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کے لیے افراطِ زر کی توقعات میں کمی آئی، جبکہ اعتماد کے اشاریوں نے ملا جلا رجحان دکھایا۔ چوتھا ایف بی آر نے مالی سال 2026 کے لیے اپنے ترمیم شدہ ٹیکس محصولات کے ہدف کو حاصل کر لیا۔ پانچواں آئی ایم ایف نے اپنے تازہ ترین ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں عالمی سطح پر اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تقویمی سال 2026 اور 2027 دونوں کے لیے عالمی افراطِ زر کی پیش گوئی میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p><strong>مجموعی ملکی پیداوار اور کرنٹ اکاؤنٹ</strong></p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 2027 کے دوران حقیقی جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) کی شرحِ نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔ تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی اجناس کی قیمتوں میں عدم استحکام اور غیر یقینی موسمی حالات بشمول ال نینو کے اثرات سے پیدا ہونے والے خطرات، معاشی نمو کے امکانات کو متاثر کر سکتے ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا اسٹیٹ بینک کو توقع ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافہ ہوگا، تاہم اندازہ ہے کہ یہ مالی سال 2027 میں جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کی حد میں ہی رہے گا۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں اضافے کا امکان ہے جو بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے ایک بڑے حصے کو پورا کرتی رہیں گی۔ متوقع سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کی آمد کے ساتھ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو دسمبر 2026 کے اختتام تک 20.20 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p><strong>افراطِ زر (مہنگائی) کا تناظر</strong></p>
<p>آگے کا جائزہ لیتے ہوئے ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ عالمی سطح پر خام مال کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ، پیداواری لاگت کی بلندی اور مقامی سطح پر خوراک کی قیمتوں کا دباؤ آنے والے چند مہینوں میں افراطِ زر کو ہدف سے اوپر رکھ سکتا ہے۔ بعد ازاں افراطِ زر میں تدریجی کمی کا امکان ہے اور جون 2027 تک یہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی بالائی حد کے قریب مستحکم ہو جائے گی۔ اس تناظر کو کئی خطرات درپیش ہیں، جن میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کا عدم استحکام، حکومت کی جانب سے مقررہ توانائی کی قیمتوں میں غیر متوقع ردوبدل، ناموافق موسمی حالات اور مالیاتی خسارے کا خدشہ شامل ہے۔</p>
<p><strong>پچھلا ایم پی سی اجلاس</strong></p>
<p>15 جون 2026 کو منعقدہ پچھلے اجلاس میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا تھا کہ موجودہ موقف درمیانی مدت کے ہدف تک مہنگائی کو لانے کے لیے مناسب ہے۔</p>
<p>قبل ازیں تجزیہ کار اس بار بھی توقع کررہے تھے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود کو برقرار رکھے گا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خطرات نے ملک میں افراطِ زر میں بہتری اور مانیٹری پالیسی میں نرمی کے حق میں بڑھتے ہوئے دلائل کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے کے مطابق 97 فیصد شرکا کا خیال تھا کہ 27 جولائی 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا جبکہ باقی 3 فیصد شرکا 100 بیسس پوائنٹس کمی کی توقع کررہے تھے۔</p>
<p>اپنی رپورٹ میں اے کے ڈی سیکیورٹیز نے کہا تھا کہ سخت مانیٹری پالیسی، محتاط مالیاتی نظم و نسق، بہتر ہوتی کریڈٹ ریٹنگ اور ساختی اصلاحات پر مسلسل پیش رفت کی بدولت بیرونی کھاتوں کی مضبوط صورتحال برقرار ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ کمزور ہوتے ہوئے معاشی اشاریے اور منی سپلائی میں سکڑاؤ معاون مالیاتی نرمی کے موقف کو مزید تقویت دے رہا ہے۔</p>
<p>تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں شدت کے بعد دوبارہ بڑھنے والی جغرافیائی کشیدگی جس میں آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور سعودی عرب کو ہدف بنانے کے لیے حوثیوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکیاں شامل ہیں نے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس کے ساتھ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں متوقع سیلاب کے خدشات نے بھی افراطِ زر کے دباؤ کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ 18 جون 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں تیل کی نرم ہوتی قیمتوں کے باعث مارکیٹ کے شرکا نے آئندہ دو سے تین مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاسوں میں مجموعی طور پر 100 سے 150 بیسس پوائنٹس تک شرح سود میں کمی کے امکانات کو زیادہ اہمیت دینا شروع کردیا تھا۔</p>
<p>تاہم گزشتہ دو ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی نے اس امید کی فضا کو جزوی طور پر ختم کردیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ ان حالیہ پیش رفت کے تناظر میں ہماری توقع ہے کہ اسٹیٹ بینک 27 جولائی 2026 کو ہونے والے مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھے گا۔</p>
<p>اسی طرح جے ایس گلوبل نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ ابھرنے والی جغرافیائی کشیدگی اور توانائی کی عالمی تجارت کے اہم راستوں میں رکاوٹوں نے عالمی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کردیا ہے جس کے باعث اسٹیٹ بینک سے محتاط طرزِ عمل اختیار کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ چونکہ بیرونی خطرات مانیٹری پالیسی میں مزید نرمی کے حق میں موجود دلائل پر غالب آچکے ہیں، اس لیے امکان ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھے گی۔</p>
<p><strong>صنعت کار شدید مایوس</strong></p>
<p>فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے اسٹیٹ بینک کے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔تجارتی تنظیم نے فیصلے کو معاشی سست روی کا باعث قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بینچ مارک شرحِ سود کو اتنی بلند سطح پر برقرار رکھنے سے معاشی سرگرمیاں معطل رہیں گی، مالی وسائل تک رسائی دشوار ہوگی اور ملک بھر میں صنعتوں کی بحالی کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر ثاقب فیاض مگوں نے مرکزی بینک کے اس محتاط روئیے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری کو شرحِ سود میں کچھ کمی کی توقع تھی، تاکہ کاروبار کی بھاری لاگت کو کم کرنے میں مدد مل سکے اور تجارتی و صنعتی شعبے کو درپیش معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں آسانی ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289226</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Jul 2026 09:38:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/280938285b8cb5f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/280938285b8cb5f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
