<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 15:31:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 15:31:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لونگی مرچ کی بقا خطرے میں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289202/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کنڑی کی مشہور مرچوں کی صنعت پر کی گئی ایک تحقیقی رپورٹ اس بات کی تنبیہ کرتی ہے کہ کس طرح قلیل مدتی تجارتی فوائد، کمزور ضابطہ کاری اور پالیسی کی غفلت مل کر اُن مصنوعات کو تباہ کر سکتی ہیں جنہوں نے کبھی پاکستان کو حقیقی مسابقتی برتری فراہم کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے زیادہ تشویش ناک انکشاف صرف یہ نہیں کہ پاکستان کی قیمتی مقامی لونگی مرچ بتدریج زیادہ منافع بخش ہائبرڈ اقسام سے تبدیل کی جا رہی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی ہائبرڈ مرچیں ممکنہ طور پر لاکھوں صارفین کو ایک ایسے زہریلے مادے کے خطرے سے دوچار کر رہی ہیں جو سرطان پیدا کرنے والا ثابت شدہ عنصر ہے، اور ساتھ ہی پاکستان کے لیے منافع بخش برآمدی منڈیوں کے دروازے بھی بند کر رہی ہیں۔ یہ مسئلہ اس حقیقت کے باوجود برقرار ہے کہ محققین اور متعلقہ ادارے اس سے بخوبی آگاہ ہیں، جو خوراک کے تحفظ سے متعلق حکمرانی (فوڈ سیفٹی گورننس) کی ایک سنگین ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تیار کی جانے والی ہائبرڈ مرچوں کی مصنوعات میں معمول کے مطابق افلاٹوکسن بی ون  کی مقدار بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا زہریلا مادہ ہے جو پھپھوندی سے پیدا ہوتا ہے، جسے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر  نے گروپ ون سرطان پیدا کرنے والے مادے کے طور پر درجہ بند کیا ہے، اور جس کا جگر کے سرطان سے گہرا تعلق ثابت ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود، ایسی مرچوں کا پاؤڈر جس میں افلاٹوکسن کی مقدار یورپی یونین کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، پاکستان میں بدستور فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ بعض برانڈڈ مصنوعات پر واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ وہ صرف پاکستان میں استعمال کے لیے ہیں کیونکہ وہ برآمدی معیار پر پوری نہیں اترتیں، ایک نہایت غیر آرام دہ سوال کو جنم دیتی ہے: آخر پاکستانی صارفین سے یہ توقع کیوں کی جائے کہ وہ ایسی خوراک قبول کریں جسے دوسرے ممالک غیر محفوظ قرار دیتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے تجارتی نقصانات بھی بالکل واضح ہیں۔ پاکستان، جو کبھی دنیا کے نمایاں مرچ برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا تھا، خوراک کے سخت حفاظتی معیارات کے باعث بتدریج یورپی یونین اور دیگر اہم برآمدی منڈیوں تک اپنی رسائی کھوتا جا رہا ہے۔ مسترد کی جانے والی برآمدی کھیپیں نہ صرف برآمد کنندگان کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ معیاری زرعی مصنوعات فراہم کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم بات یہ ہے کہ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ آلودگی نہ تو ناگزیر ہے اور نہ ہی اسے روکنا تکنیکی طور پر کوئی مشکل کام ہے۔ اس کا بڑا حصہ فصل کی کٹائی کے بعد پیدا ہوتا ہے، جب مرچوں کو کھلے میدان میں زمین پر سکھایا جاتا ہے، جہاں وہ گردوغبار، نمی اور پھپھوندی کے اثرات کا شکار ہو جاتی ہیں، اس سے پہلے کہ وہ منڈی تک پہنچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی مطالعات پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں کہ فصل کی کٹائی کے بعد بہتر طریقۂ کار، بالخصوص سولر ٹنل ڈرائنگ (شمسی سرنگوں کے ذریعے خشک کرنے کا نظام)، افلاٹوکسن کی مقدار کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے، جبکہ اس سے مرچوں کا معیار بہتر ہوتا ہے، خشک ہونے کا وقت کم ہو جاتا ہے اور ان کی مارکیٹ ویلیو بھی بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا اصل مسئلہ سائنسی معلومات کی کمی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ چھوٹے کسانوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ زرعی توسیعی خدمات، سستی مالی معاونت اور جدید  انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے بغیر بہتر ٹیکنالوجی اختیار کر لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی کے ساتھ، کنری کی مقامی لونگی مرچ کا تحفظ اور خوراک کے تحفظ کو بہتر بنانا ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے مقاصد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر اس منفرد مقامی قسم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق پیدا کیا جائے تو یہ نہ صرف عالمی منڈی میں زیادہ قیمت حاصل کر سکتی ہے بلکہ پاکستان کی برآمدات پر دوبارہ اعتماد بھی بحال کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالآخر یہ سب سے بڑھ کر عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ صارفین کے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں کہ وہ جو مرچوں کا پاؤڈر خرید رہے ہیں، اس میں افلاٹوکسن کی مقدار محفوظ حد کے اندر ہے یا نہیں، اس لیے مؤثر ضابطہ کاری ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور وفاقی ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ پوری سپلائی چین میں باقاعدہ نگرانی، لازمی جانچ  اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ایک ایسا ملک جو زرعی برآمدات بڑھانے کا خواہاں ہو، وہ ایسی ضابطہ جاتی ثقافت کا متحمل نہیں ہو سکتا جس میں وہ خوراک جو بیرونِ ملک مسترد کر دی جائے، اسے اپنے ہی ملک میں قابلِ قبول سمجھ لیا جائے۔ جو معیارات پاکستان کی برآمدی مسابقت کا تحفظ کرتے ہیں، انہی معیارات کو پاکستانی صارفین کی صحت کا بھی محافظ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کنڑی کی مشہور مرچوں کی صنعت پر کی گئی ایک تحقیقی رپورٹ اس بات کی تنبیہ کرتی ہے کہ کس طرح قلیل مدتی تجارتی فوائد، کمزور ضابطہ کاری اور پالیسی کی غفلت مل کر اُن مصنوعات کو تباہ کر سکتی ہیں جنہوں نے کبھی پاکستان کو حقیقی مسابقتی برتری فراہم کی تھی۔</strong></p>
<p>سب سے زیادہ تشویش ناک انکشاف صرف یہ نہیں کہ پاکستان کی قیمتی مقامی لونگی مرچ بتدریج زیادہ منافع بخش ہائبرڈ اقسام سے تبدیل کی جا رہی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی ہائبرڈ مرچیں ممکنہ طور پر لاکھوں صارفین کو ایک ایسے زہریلے مادے کے خطرے سے دوچار کر رہی ہیں جو سرطان پیدا کرنے والا ثابت شدہ عنصر ہے، اور ساتھ ہی پاکستان کے لیے منافع بخش برآمدی منڈیوں کے دروازے بھی بند کر رہی ہیں۔ یہ مسئلہ اس حقیقت کے باوجود برقرار ہے کہ محققین اور متعلقہ ادارے اس سے بخوبی آگاہ ہیں، جو خوراک کے تحفظ سے متعلق حکمرانی (فوڈ سیفٹی گورننس) کی ایک سنگین ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں تیار کی جانے والی ہائبرڈ مرچوں کی مصنوعات میں معمول کے مطابق افلاٹوکسن بی ون  کی مقدار بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حد سے تجاوز کر جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا زہریلا مادہ ہے جو پھپھوندی سے پیدا ہوتا ہے، جسے انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر  نے گروپ ون سرطان پیدا کرنے والے مادے کے طور پر درجہ بند کیا ہے، اور جس کا جگر کے سرطان سے گہرا تعلق ثابت ہو چکا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود، ایسی مرچوں کا پاؤڈر جس میں افلاٹوکسن کی مقدار یورپی یونین کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، پاکستان میں بدستور فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت کہ بعض برانڈڈ مصنوعات پر واضح طور پر درج ہوتا ہے کہ وہ صرف پاکستان میں استعمال کے لیے ہیں کیونکہ وہ برآمدی معیار پر پوری نہیں اترتیں، ایک نہایت غیر آرام دہ سوال کو جنم دیتی ہے: آخر پاکستانی صارفین سے یہ توقع کیوں کی جائے کہ وہ ایسی خوراک قبول کریں جسے دوسرے ممالک غیر محفوظ قرار دیتے ہیں؟</p>
<p>اس کے تجارتی نقصانات بھی بالکل واضح ہیں۔ پاکستان، جو کبھی دنیا کے نمایاں مرچ برآمد کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا تھا، خوراک کے سخت حفاظتی معیارات کے باعث بتدریج یورپی یونین اور دیگر اہم برآمدی منڈیوں تک اپنی رسائی کھوتا جا رہا ہے۔ مسترد کی جانے والی برآمدی کھیپیں نہ صرف برآمد کنندگان کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ معیاری زرعی مصنوعات فراہم کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔</p>
<p>اہم بات یہ ہے کہ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ آلودگی نہ تو ناگزیر ہے اور نہ ہی اسے روکنا تکنیکی طور پر کوئی مشکل کام ہے۔ اس کا بڑا حصہ فصل کی کٹائی کے بعد پیدا ہوتا ہے، جب مرچوں کو کھلے میدان میں زمین پر سکھایا جاتا ہے، جہاں وہ گردوغبار، نمی اور پھپھوندی کے اثرات کا شکار ہو جاتی ہیں، اس سے پہلے کہ وہ منڈی تک پہنچیں۔</p>
<p>تحقیقی مطالعات پہلے ہی ثابت کر چکے ہیں کہ فصل کی کٹائی کے بعد بہتر طریقۂ کار، بالخصوص سولر ٹنل ڈرائنگ (شمسی سرنگوں کے ذریعے خشک کرنے کا نظام)، افلاٹوکسن کی مقدار کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے، جبکہ اس سے مرچوں کا معیار بہتر ہوتا ہے، خشک ہونے کا وقت کم ہو جاتا ہے اور ان کی مارکیٹ ویلیو بھی بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا اصل مسئلہ سائنسی معلومات کی کمی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کا فقدان ہے۔ چھوٹے کسانوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ زرعی توسیعی خدمات، سستی مالی معاونت اور جدید  انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کے بغیر بہتر ٹیکنالوجی اختیار کر لیں گے۔</p>
<p>اسی کے ساتھ، کنری کی مقامی لونگی مرچ کا تحفظ اور خوراک کے تحفظ کو بہتر بنانا ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے مقاصد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر اس منفرد مقامی قسم کو بین الاقوامی معیار کے مطابق پیدا کیا جائے تو یہ نہ صرف عالمی منڈی میں زیادہ قیمت حاصل کر سکتی ہے بلکہ پاکستان کی برآمدات پر دوبارہ اعتماد بھی بحال کر سکتی ہے۔</p>
<p>بالآخر یہ سب سے بڑھ کر عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ صارفین کے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ موجود نہیں کہ وہ جو مرچوں کا پاؤڈر خرید رہے ہیں، اس میں افلاٹوکسن کی مقدار محفوظ حد کے اندر ہے یا نہیں، اس لیے مؤثر ضابطہ کاری ناگزیر ہے۔</p>
<p>لہٰذا صوبائی فوڈ اتھارٹیز اور وفاقی ریگولیٹری اداروں کو چاہیے کہ وہ پوری سپلائی چین میں باقاعدہ نگرانی، لازمی جانچ  اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ایک ایسا ملک جو زرعی برآمدات بڑھانے کا خواہاں ہو، وہ ایسی ضابطہ جاتی ثقافت کا متحمل نہیں ہو سکتا جس میں وہ خوراک جو بیرونِ ملک مسترد کر دی جائے، اسے اپنے ہی ملک میں قابلِ قبول سمجھ لیا جائے۔ جو معیارات پاکستان کی برآمدی مسابقت کا تحفظ کرتے ہیں، انہی معیارات کو پاکستانی صارفین کی صحت کا بھی محافظ ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289202</guid>
      <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 12:01:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/261200028d46299.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/261200028d46299.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
