<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 26 Jul 2026 00:52:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 26 Jul 2026 00:52:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریاستی انتخابات سے قبل جین زی کی انسٹاگرام مہم نے مودی کے رعب و دبدبے کو ہلا کر رکھ دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289186/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے امتحانی پرچوں کے افشا ( لیک ہونے) کے خلاف وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج شروع کیے جانے کے تقریباً پانچ ہفتے بعد 75 سالہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک غیرمعمولی اقدام کرتے ہوئے اپنی سیلفی ویڈیو جاری کی۔ ویڈیو میں انہوں نے طلبہ کی تکلیف پر افسوس کا اظہار کیا اور صورتحال کے تدارک کے لیے اقدامات کا وعدہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کی شب انسٹاگرام پر جاری کی گئی اس ویڈیو سے، جہاں سی جے پی نے مئی میں چند ہی دنوں میں زیادہ تر جین زی سے تعلق رکھنے والے 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز حاصل کر لیے تھے، ہزاروں مظاہرین مطمئن نہ ہو سکے۔ یہ وہی مظاہرین تھے جو چند روز قبل نئی دہلی کے وسط میں سخت پولیس کارروائی کا سامنا کر چکے تھے اور جن کے احتجاج نے بعد ازاں ملک بھر میں مظاہروں کو جنم دیا۔ بالآخر ہفتے کے روز وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہو گئے، یوں مظاہرین کا بنیادی مطالبہ پورا ہوا، جو مودی کے لیے ایک غیرمعمولی سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے نے سی جے پی کو واضح کامیابی دلائی۔ اس تحریک سے وابستہ نوجوانوں نے ریپ گانوں، پلے کارڈز اور دیواروں پر تحریروں کے ذریعے مودی کا کھلے عام مذاق اڑایا، جو چند ہفتے پہلے تک تقریباً ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا، کیونکہ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارتی سیاست پر مودی کا غلبہ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لندن کی ایس او اے ایس یونیورسٹی میں بشریات کے پروفیسر سنجے سریواستو نے کہا، ”احتجاج میں شریک بہت سے لوگ درحقیقت مودی کے اپنے حامی بھی ہو سکتے ہیں، اور یہی بات اسے ماضی کی دیگر احتجاجی تحریکوں سے مختلف بناتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اگر کسی چیز کو کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ اب معاشرے کے کہیں زیادہ وسیع طبقے نے حکومت پر سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اب زیادہ لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ حکمران جماعت لازماً ملک کے مفاد میں ہی کام کر رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ احتجاج کی چنگاری میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے سے بھڑکی، تاہم اس کے پس منظر میں نوجوانوں کی بے روزگاری اور یہ خدشہ بھی کارفرما ہے کہ مصنوعی ذہانت بھارت کی آئی ٹی بیک آفس صنعت سمیت کئی شعبوں میں ان کی ملازمتیں متاثر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی تجزیہ کار امیتابھ تیواری نے کہا، ”پرچہ لیک ہونا محض ایک محرک تھا۔ درحقیقت یہ نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی، اضطراب، مایوسی، محرومی اور غصے کی عکاسی کرتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کابینہ کے سینئر وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کی ”سب سے بڑی ترجیح طلبہ کے حقیقی خدشات کو سمجھنا، ان کا فوری ازالہ کرنا اور انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="حکومت-جین-زی-کی-سوچ-سے-ناآشنا" href="#حکومت-جین-زی-کی-سوچ-سے-ناآشنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;حکومت جین زی کی سوچ سے ناآشنا؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;امیتابھ تیواری کے مطابق، بھارت میں 18 سے 40 سال عمر کے افراد مجموعی آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہیں، مگر لوک سبھا میں ان کی نمائندگی صرف 10 فیصد کے قریب ہے، جبکہ 1950 کی دہائی میں یہ شرح اس سے دگنی سے بھی زیادہ تھی۔ وفاقی کابینہ کے ارکان کی اوسط عمر 60 برس سے زائد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ سی جے پی کوئی سیاسی جماعت نہیں، تاہم حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں نے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے اس تحریک سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوجوانوں کے غصے کا پہلا امتحان آئندہ سال اتر پردیش، پنجاب اور مودی کی آبائی ریاست گجرات کے انتخابات میں ہو سکتا ہے۔ بی جے پی اس وقت اتر پردیش اور گجرات دونوں میں برسراقتدار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کے لیے زیادہ بڑا خطرہ 2029 کے عام انتخابات میں پیدا ہو سکتا ہے، اگر سی جے پی خود کو ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کر لے۔ تاہم اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ انتخابی سیاست میں آنے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اب تک نوجوان ووٹر زیادہ تر مذہبی یا ذات پات کی بنیاد پر ووٹ دیتے رہے ہیں، جس کا فائدہ مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پہنچتا رہا، تاہم اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ایک فلمی اداکار، جو اپنی جماعت کی قیادت کر رہے تھے اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے حمایت یافتہ تھے، جنوبی ریاست تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابی میں انسٹاگرام پر موجود جین زی کے مداحوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنف انوراگ مائنس ورما نے کہا، ”یہ وزیرِ اعظم مودی کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت جین زی کی خواہشات اور توقعات سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”برسوں تک بی جے پی کی ڈیجیٹل سیاسی حکمتِ عملی ایکس جیسے پلیٹ فارم پر مرکوز رہی، جہاں سیاسی بحث ہوتی تھی، مگر اب خاص طور پر نوجوان صارفین کے درمیان یہ مکالمہ بڑی حد تک انسٹاگرام پر منتقل ہو چکا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بی جے پی بھارت کے بیشتر حصوں میں حکومت کر رہی ہے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیتی ہے، تاہم برسوں میں وہ انسٹاگرام پر صرف ایک کروڑ فالوورز حاصل کر سکی، جو سی جے پی کے چند ہی دنوں میں حاصل کیے گئے فالوورز کے نصف سے بھی کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی کے ایکس پر 2 کروڑ 30 لاکھ اور فیس بک پر ایک کروڑ 80 لاکھ فالوورز ہیں، البتہ نریندر مودی کے ذاتی اکاؤنٹس پر تینوں پلیٹ فارمز پر فالوورز کی تعداد 6 کروڑ سے 10 کروڑ 70 لاکھ کے درمیان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کالم نگار سنتوش دیسائی نے کہا، ”انسٹاگرام پر کامیابی کے لیے ایک خاص قسم کی صداقت درکار ہوتی ہے۔ پہلے سے تیار اور ضرورت سے زیادہ تراشے گئے پیغامات یہاں مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ یہ پلیٹ فارم اسی نسل نے تخلیق کیا اور اسی نے اسے آج کی شکل دی ہے، اور یہ نسل کسی شخصیت کو بلاچوں وچرا قبول نہیں کرتی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک دہائی کے دوران مودی نے خود کو ایک مضبوط اور فیصلہ کن رہنما کے طور پر پیش کیا، جو شاذ ہی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں، جبکہ ان کی حکومت نے طویل عرصے تک عوامی دباؤ پر وزرا کو برطرف کرنے سے گریز کیا۔ 2021 میں بھی متنازع زرعی قوانین واپس لینے سے قبل بھارتی کسانوں نے تقریباً ایک سال تک احتجاج جاری رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امیتابھ تیواری نے کہا، ”اب وہی رہنما کامیاب ہوگا جو عوام کی بات سنے، اور یہی تاثر مودی اب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے امتحانی پرچوں کے افشا ( لیک ہونے) کے خلاف وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج شروع کیے جانے کے تقریباً پانچ ہفتے بعد 75 سالہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایک غیرمعمولی اقدام کرتے ہوئے اپنی سیلفی ویڈیو جاری کی۔ ویڈیو میں انہوں نے طلبہ کی تکلیف پر افسوس کا اظہار کیا اور صورتحال کے تدارک کے لیے اقدامات کا وعدہ کیا۔</strong></p>
<p>جمعرات کی شب انسٹاگرام پر جاری کی گئی اس ویڈیو سے، جہاں سی جے پی نے مئی میں چند ہی دنوں میں زیادہ تر جین زی سے تعلق رکھنے والے 2 کروڑ 20 لاکھ فالوورز حاصل کر لیے تھے، ہزاروں مظاہرین مطمئن نہ ہو سکے۔ یہ وہی مظاہرین تھے جو چند روز قبل نئی دہلی کے وسط میں سخت پولیس کارروائی کا سامنا کر چکے تھے اور جن کے احتجاج نے بعد ازاں ملک بھر میں مظاہروں کو جنم دیا۔ بالآخر ہفتے کے روز وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہو گئے، یوں مظاہرین کا بنیادی مطالبہ پورا ہوا، جو مودی کے لیے ایک غیرمعمولی سیاسی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے نے سی جے پی کو واضح کامیابی دلائی۔ اس تحریک سے وابستہ نوجوانوں نے ریپ گانوں، پلے کارڈز اور دیواروں پر تحریروں کے ذریعے مودی کا کھلے عام مذاق اڑایا، جو چند ہفتے پہلے تک تقریباً ناقابلِ تصور سمجھا جاتا تھا، کیونکہ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارتی سیاست پر مودی کا غلبہ رہا ہے۔</p>
<p>لندن کی ایس او اے ایس یونیورسٹی میں بشریات کے پروفیسر سنجے سریواستو نے کہا، ”احتجاج میں شریک بہت سے لوگ درحقیقت مودی کے اپنے حامی بھی ہو سکتے ہیں، اور یہی بات اسے ماضی کی دیگر احتجاجی تحریکوں سے مختلف بناتی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اگر کسی چیز کو کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ اب معاشرے کے کہیں زیادہ وسیع طبقے نے حکومت پر سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اب زیادہ لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ حکمران جماعت لازماً ملک کے مفاد میں ہی کام کر رہی ہے۔“</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ احتجاج کی چنگاری میڈیکل داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے سے بھڑکی، تاہم اس کے پس منظر میں نوجوانوں کی بے روزگاری اور یہ خدشہ بھی کارفرما ہے کہ مصنوعی ذہانت بھارت کی آئی ٹی بیک آفس صنعت سمیت کئی شعبوں میں ان کی ملازمتیں متاثر کر سکتی ہے۔</p>
<p>سیاسی تجزیہ کار امیتابھ تیواری نے کہا، ”پرچہ لیک ہونا محض ایک محرک تھا۔ درحقیقت یہ نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی، اضطراب، مایوسی، محرومی اور غصے کی عکاسی کرتا ہے۔“</p>
<p>مودی کابینہ کے سینئر وزیر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت کی ”سب سے بڑی ترجیح طلبہ کے حقیقی خدشات کو سمجھنا، ان کا فوری ازالہ کرنا اور انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔“</p>
<h3><a id="حکومت-جین-زی-کی-سوچ-سے-ناآشنا" href="#حکومت-جین-زی-کی-سوچ-سے-ناآشنا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>حکومت جین زی کی سوچ سے ناآشنا؟</h3>
<p>امیتابھ تیواری کے مطابق، بھارت میں 18 سے 40 سال عمر کے افراد مجموعی آبادی کا تقریباً 40 فیصد ہیں، مگر لوک سبھا میں ان کی نمائندگی صرف 10 فیصد کے قریب ہے، جبکہ 1950 کی دہائی میں یہ شرح اس سے دگنی سے بھی زیادہ تھی۔ وفاقی کابینہ کے ارکان کی اوسط عمر 60 برس سے زائد ہے۔</p>
<p>اگرچہ سی جے پی کوئی سیاسی جماعت نہیں، تاہم حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں نے طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے اس تحریک سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>نوجوانوں کے غصے کا پہلا امتحان آئندہ سال اتر پردیش، پنجاب اور مودی کی آبائی ریاست گجرات کے انتخابات میں ہو سکتا ہے۔ بی جے پی اس وقت اتر پردیش اور گجرات دونوں میں برسراقتدار ہے۔</p>
<p>مودی کے لیے زیادہ بڑا خطرہ 2029 کے عام انتخابات میں پیدا ہو سکتا ہے، اگر سی جے پی خود کو ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کر لے۔ تاہم اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ انتخابی سیاست میں آنے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔</p>
<p>بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اب تک نوجوان ووٹر زیادہ تر مذہبی یا ذات پات کی بنیاد پر ووٹ دیتے رہے ہیں، جس کا فائدہ مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پہنچتا رہا، تاہم اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔</p>
<p>حال ہی میں ایک فلمی اداکار، جو اپنی جماعت کی قیادت کر رہے تھے اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے حمایت یافتہ تھے، جنوبی ریاست تمل ناڈو کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ ان کی کامیابی میں انسٹاگرام پر موجود جین زی کے مداحوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔</p>
<p>مصنف انوراگ مائنس ورما نے کہا، ”یہ وزیرِ اعظم مودی کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت جین زی کی خواہشات اور توقعات سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا، ”برسوں تک بی جے پی کی ڈیجیٹل سیاسی حکمتِ عملی ایکس جیسے پلیٹ فارم پر مرکوز رہی، جہاں سیاسی بحث ہوتی تھی، مگر اب خاص طور پر نوجوان صارفین کے درمیان یہ مکالمہ بڑی حد تک انسٹاگرام پر منتقل ہو چکا ہے۔“</p>
<p>اگرچہ بی جے پی بھارت کے بیشتر حصوں میں حکومت کر رہی ہے اور خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیتی ہے، تاہم برسوں میں وہ انسٹاگرام پر صرف ایک کروڑ فالوورز حاصل کر سکی، جو سی جے پی کے چند ہی دنوں میں حاصل کیے گئے فالوورز کے نصف سے بھی کم ہیں۔</p>
<p>بی جے پی کے ایکس پر 2 کروڑ 30 لاکھ اور فیس بک پر ایک کروڑ 80 لاکھ فالوورز ہیں، البتہ نریندر مودی کے ذاتی اکاؤنٹس پر تینوں پلیٹ فارمز پر فالوورز کی تعداد 6 کروڑ سے 10 کروڑ 70 لاکھ کے درمیان ہے۔</p>
<p>کالم نگار سنتوش دیسائی نے کہا، ”انسٹاگرام پر کامیابی کے لیے ایک خاص قسم کی صداقت درکار ہوتی ہے۔ پہلے سے تیار اور ضرورت سے زیادہ تراشے گئے پیغامات یہاں مؤثر ثابت نہیں ہوتے۔ یہ پلیٹ فارم اسی نسل نے تخلیق کیا اور اسی نے اسے آج کی شکل دی ہے، اور یہ نسل کسی شخصیت کو بلاچوں وچرا قبول نہیں کرتی۔“</p>
<p>گزشتہ ایک دہائی کے دوران مودی نے خود کو ایک مضبوط اور فیصلہ کن رہنما کے طور پر پیش کیا، جو شاذ ہی اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں، جبکہ ان کی حکومت نے طویل عرصے تک عوامی دباؤ پر وزرا کو برطرف کرنے سے گریز کیا۔ 2021 میں بھی متنازع زرعی قوانین واپس لینے سے قبل بھارتی کسانوں نے تقریباً ایک سال تک احتجاج جاری رکھا تھا۔</p>
<p>امیتابھ تیواری نے کہا، ”اب وہی رہنما کامیاب ہوگا جو عوام کی بات سنے، اور یہی تاثر مودی اب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289186</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 21:12:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2521080927e0b45.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2521080927e0b45.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
