<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 22:03:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Jul 2026 22:03:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمیر کا اپنے کرکٹ سفر اور بے خوف اندازِ کھیل پر اظہارِ خیال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289182/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ابھرتے ہوئے بلے باز(  بیٹر) سمیر منہاس نے اپنی کرکٹ میں ترقی کا سہرا گلی کرکٹ، اہلِ خانہ کی بھرپور حوصلہ افزائی، عمر کے مختلف گروپس کے تربیتی پروگراموں اور بے خوف اندازِ فکر کو دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک انٹرویو میں سمیر نے اپنے کرکٹ سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا، ”میرا سفر گلی کرکٹ اور گھر میں اپنے بھائی کے ساتھ کھیلنے سے شروع ہوا۔ بعد ازاں میرے والد نے ہمیں ایک اکیڈمی میں داخل کرایا اور وہیں سے میرے باقاعدہ کرکٹ کیریئر کا آغاز ہوا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیر نے بتایا کہ ابتدا میں وہ لیگ اسپنر تھے اور پاکستان کے سابق لیگ اسپنر یاسر شاہ کے انداز کی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے، تاہم بعد میں بطور بلے باز اپنی شناخت بنائی۔ انہوں نے اپنے دیرینہ کوچ طاہر محمود فیض کے کردار کو بھی سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”میرے کوچ نے میری بیٹنگ اور فیلڈنگ کی صلاحیتوں کو پہچانا اور مجھے کرکٹ کو سنجیدگی سے لینے کی ترغیب دی۔ میں 2013 سے ان کی نگرانی میں تربیت حاصل کر رہا ہوں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسمانی فٹنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سمیر نے کہا کہ ان کے والد نے بچپن ہی سے ورزش اور متوازن غذا کی اہمیت اجاگر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”اگر آپ طویل عرصے تک کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں تو باقاعدہ ٹریننگ اور مناسب غذا بے حد ضروری ہے۔ میں نے انڈر 16 سطح کے بعد سنجیدگی سے تربیت شروع کی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اگلا بڑا مرحلہ انڈر 19 کرکٹ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیر نے عمر کے مختلف گروپس کے تربیتی کیمپوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف کوچز اور ٹرینرز کے ساتھ کام کرنے سے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں نمایاں نکھار آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”یہ کیمپ انتہائی مفید ثابت ہوئے۔ ملتان میں منعقدہ انڈر 19 پروگرام میں ملک بھر سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو اکٹھا کیا گیا، جہاں انہیں معیاری تربیت فراہم کی گئی اور اسی پروگرام نے ٹیم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں اپنی بیٹنگ حکمتِ عملی کے بارے میں سمیر نے کہا، ”میری کوشش ہوتی تھی کہ ہر اوور میں کم از کم ایک چوکا ضرور لگاؤں، خاص طور پر پاور پلے کے دوران، اور پھر اسٹرائیک تبدیل کرتا رہوں۔ بھارت کے خلاف کوچز نے ہمیں نتیجے کی پروا کیے بغیر بے خوف اور مثبت کرکٹ کھیلنے کی ہدایت دی، اور ہم نے اسی پر عمل کیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایچ بی ایل پی ایس ایل کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے سمیر نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی انتظامیہ اور لیوک رونکی کا شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس بات کی فکر نہ کرو کہ تم صفر، 10 یا 100 رنز بناتے ہو، بس اپنی بیٹنگ سے لطف اندوز ہو اور اپنا فطری کھیل کھیلو۔ اس اعتماد نے مجھ پر سے دباؤ ختم کر دیا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیر نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کی نمائندگی تینوں فارمیٹس میں کریں۔ ان کے بقول سرخ گیند کی کرکٹ ( ٹیسٹ کرکٹ) صبر، تحمل اور تکنیک کو نکھارتی ہے، جبکہ سفید گیند کی کرکٹ ( ون ڈے اور ٹی 20) میں سوچ سمجھ کر جارحانہ انداز اپنانا کامیابی کی کنجی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ابھرتے ہوئے بلے باز(  بیٹر) سمیر منہاس نے اپنی کرکٹ میں ترقی کا سہرا گلی کرکٹ، اہلِ خانہ کی بھرپور حوصلہ افزائی، عمر کے مختلف گروپس کے تربیتی پروگراموں اور بے خوف اندازِ فکر کو دیا ہے۔</strong></p>
<p>ایک انٹرویو میں سمیر نے اپنے کرکٹ سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا، ”میرا سفر گلی کرکٹ اور گھر میں اپنے بھائی کے ساتھ کھیلنے سے شروع ہوا۔ بعد ازاں میرے والد نے ہمیں ایک اکیڈمی میں داخل کرایا اور وہیں سے میرے باقاعدہ کرکٹ کیریئر کا آغاز ہوا۔“</p>
<p>سمیر نے بتایا کہ ابتدا میں وہ لیگ اسپنر تھے اور پاکستان کے سابق لیگ اسپنر یاسر شاہ کے انداز کی نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے، تاہم بعد میں بطور بلے باز اپنی شناخت بنائی۔ انہوں نے اپنے دیرینہ کوچ طاہر محمود فیض کے کردار کو بھی سراہا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”میرے کوچ نے میری بیٹنگ اور فیلڈنگ کی صلاحیتوں کو پہچانا اور مجھے کرکٹ کو سنجیدگی سے لینے کی ترغیب دی۔ میں 2013 سے ان کی نگرانی میں تربیت حاصل کر رہا ہوں۔“</p>
<p>جسمانی فٹنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے سمیر نے کہا کہ ان کے والد نے بچپن ہی سے ورزش اور متوازن غذا کی اہمیت اجاگر کی۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”اگر آپ طویل عرصے تک کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں تو باقاعدہ ٹریننگ اور مناسب غذا بے حد ضروری ہے۔ میں نے انڈر 16 سطح کے بعد سنجیدگی سے تربیت شروع کی کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اگلا بڑا مرحلہ انڈر 19 کرکٹ ہے۔“</p>
<p>سمیر نے عمر کے مختلف گروپس کے تربیتی کیمپوں کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف کوچز اور ٹرینرز کے ساتھ کام کرنے سے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں میں نمایاں نکھار آتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”یہ کیمپ انتہائی مفید ثابت ہوئے۔ ملتان میں منعقدہ انڈر 19 پروگرام میں ملک بھر سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو اکٹھا کیا گیا، جہاں انہیں معیاری تربیت فراہم کی گئی اور اسی پروگرام نے ٹیم کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔“</p>
<p>اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں اپنی بیٹنگ حکمتِ عملی کے بارے میں سمیر نے کہا، ”میری کوشش ہوتی تھی کہ ہر اوور میں کم از کم ایک چوکا ضرور لگاؤں، خاص طور پر پاور پلے کے دوران، اور پھر اسٹرائیک تبدیل کرتا رہوں۔ بھارت کے خلاف کوچز نے ہمیں نتیجے کی پروا کیے بغیر بے خوف اور مثبت کرکٹ کھیلنے کی ہدایت دی، اور ہم نے اسی پر عمل کیا۔“</p>
<p>ایچ بی ایل پی ایس ایل کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے سمیر نے اسلام آباد یونائیٹڈ کی انتظامیہ اور لیوک رونکی کا شکریہ ادا کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”انہوں نے مجھ سے کہا کہ اس بات کی فکر نہ کرو کہ تم صفر، 10 یا 100 رنز بناتے ہو، بس اپنی بیٹنگ سے لطف اندوز ہو اور اپنا فطری کھیل کھیلو۔ اس اعتماد نے مجھ پر سے دباؤ ختم کر دیا۔“</p>
<p>سمیر نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کی نمائندگی تینوں فارمیٹس میں کریں۔ ان کے بقول سرخ گیند کی کرکٹ ( ٹیسٹ کرکٹ) صبر، تحمل اور تکنیک کو نکھارتی ہے، جبکہ سفید گیند کی کرکٹ ( ون ڈے اور ٹی 20) میں سوچ سمجھ کر جارحانہ انداز اپنانا کامیابی کی کنجی ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289182</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 17:55:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد سلیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/251725325d8150b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/251725325d8150b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
