<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 22:52:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Jul 2026 22:52:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کے ٹیرف کا موجودہ سلسلہ برقرار رہنے کا امکان، مزید محصولات بھی متوقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289179/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اقتدار میں واپسی کے بعد ٹیرف سے متعلق طویل تحقیقات کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈالنے کو ترجیح دی تاکہ انہیں رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس کے بعد ان کے تجارتی ایجنڈے کا آغاز خاصا ہنگامہ خیز رہا، جسے رواں سال سپریم کورٹ کے ایک سخت فیصلے نے بڑا دھچکا پہنچایا۔ اب ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا مقصد روایتی اور عدالتوں میں آزمودہ تجارتی قوانین کے ذریعے امریکی ٹیرف کی دیوار کو زیادہ مضبوط اور دیرپا بنانا ہے، حالانکہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل وہ انہی قوانین کے تحت کارروائی کے لیے زیادہ صبر کے قائل نہیں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا تازہ عالمی ٹیرف اقدام، جس کے تحت مبینہ طور پر جبری مشقت پر پابندیوں کے کمزور نفاذ کے الزام میں 60 ممالک پر 10 یا 12.5 فیصد محصولات عائد کیے گئے ہیں، آئندہ مہینوں میں متوقع متعدد نئے ٹیرف اقدامات کی پہلی کڑی ہے۔ ان اقدامات میں صنعتی شعبے میں اضافی پیداواری صلاحیت کی تحقیقات، ویتنام پر دانشورانہ املاک کی مبینہ چوری کے الزامات کی جانچ، اور سیمی کنڈکٹرز، روبوٹکس اور صنعتی مشینری سمیت اسٹریٹجک صنعتوں کے لیے قومی سلامتی کے تحفظات سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی و کینیڈین تجارت کے ماہر اور کینیڈین آئل کمپنی سینووس انرجی کے ایسوسی ایٹ جنرل کونسل ڈین اُجزو نے کہا، ”ہم ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے ابتدائی مرحلے کے اختتام پر پہنچ چکے ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں، اور یقینی طور پر موسمِ گرما کے اختتام تک، صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے بڑے حصے مکمل طور پر نافذ ہو جائیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے کاروباری اداروں کو ٹرمپ کے حتمی ٹیرف ڈھانچے کے بارے میں زیادہ وضاحت اور یقین حاصل ہو سکتا ہے، تاہم دوسری جانب مختلف ممالک کی وزارتِ تجارت میں یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ انہیں 3.4 کھرب ڈالر کی امریکی درآمدی منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے مزید رعایتیں دینا پڑ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;براہِ راست متبادل&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1974 کے تجارتی قانون کی سیکشن 301 کے تحت جبری مشقت کی روک تھام سے متعلق ٹرمپ کے نئے محصولات تقریباً براہِ راست اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لے رہے ہیں، جس کی مدت جمعہ کو ختم ہوگئی۔ یہی قانون ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران چین کے خلاف مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں پر کارروائی کے لیے استعمال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق، یہ نئے محصولات امریکا کی مجموعی درآمدات کے 99.4 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام سے ٹرمپ کے نام نہاد ”لبریشن ڈے“ ٹیرف کا ایک حصہ دوبارہ بحال ہو رہا ہے، جس کے تحت دنیا کے تقریباً تمام ممالک پر 10 سے 50 فیصد تک محصولات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ نے انہیں اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا کہ یہ ایک ایسے قومی ہنگامی قانون کے تحت نافذ کیے گئے تھے جس کا عدالتی طور پر پہلے کبھی امتحان نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی ٹیرف کے ایک اور حصے کو سیکشن 301 کے تحت اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت کی تحقیقات کے ذریعے دوبارہ نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ تحقیقات 16 بڑے تجارتی شراکت داروں کو ہدف بنا رہی ہیں، جن میں چین، یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو اور ویتنام شامل ہیں۔ جاری تحقیقات کا مرکز صنعتی شعبے میں دی جانے والی سرکاری سبسڈیز اور برآمدات بڑھانے کے لیے اختیار کی جانے والی دیگر پالیسیوں کا جائزہ لینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے اس اقدام پر وسیع پیمانے پر تنقید کے باوجود بعض حلقوں نے اسے بڑی حد تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کے مترادف قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ریاست مشی گن میں قائم ویکیوم کلینر بنانے والی کمپنی بِسل اِنکارپوریٹڈ کے چیف ایگزیکٹو مارک بِسل نے کہا کہ نئے محصولات بڑی حد تک کمپنی کی توقعات کے مطابق ہیں، اسی لیے کمپنی نے چین اور دیگر ممالک سے درآمدات میں پیشگی اضافہ نہیں کیا تاکہ نئے ٹیرف سے بچا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے رائٹرز کو ای میل کے ذریعے بتایا، ”ہم نے اپنے کاروباری فیصلے اسی بنیاد پر جاری رکھے کہ محصولات 10 سے 15 فیصد کی حد میں برقرار رہیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجٹ پر اثرات&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتدار سنبھالتے ہی فوری طور پر ایسے ٹیرف نافذ کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے، جن کی قانونی حیثیت ابھی آزمودہ نہیں تھی، کے چار بڑے نتائج سامنے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے خوردہ فروشوں اور درآمدات پر انحصار کرنے والی دیگر صنعتوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا، درجنوں تجارتی شراکت دار مذاکرات کی میز پر آ گئے اور کم ٹیرف کے بدلے مختلف رعایتیں دینے پر آمادہ ہوئے، چین کی جانب سے فوری جوابی اقدامات اور محصولات میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر ایک نازک جنگ بندی پر منتج ہوا، جبکہ امریکی خزانے کو بھی سیکڑوں ارب ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف ”لبریشن ڈے“ ٹیرف سے ہی 166 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی، جس نے بڑھتے ہوئے وفاقی بجٹ خسارے کو کسی حد تک پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم درآمد کنندگان کو رقوم کی واپسی کے باعث اب اس مد میں حاصل ہونے والی خالص وصولیاں منفی ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ایک قانون کے تحت عائد کیے گئے 150 روزہ عارضی ٹیرف سے 5 جولائی تک 31 ارب ڈالر کی متوقع آمدنی حاصل ہو چکی ہے۔ تاہم اگر وفاقی عدالت کا ان محصولات کے خلاف فیصلہ برقرار رہتا ہے تو یہ رقم بھی درآمد کنندگان کو واپس کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کا سرکاری قرض 40 کھرب ڈالر کے قریب پہنچنے کے تناظر میں اٹلانٹک کونسل میں بین الاقوامی اقتصادیات کے چیئرمین جوش لپسکی نے کہا کہ آئندہ آنے والی حکومتیں بھی ممکنہ طور پر ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرنے کی عادی ہو سکتی ہیں، کیونکہ اس آمدنی کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ٹیرف کی دیوار ایک ایک مضبوط اینٹ کے ساتھ دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے، اور یہ انتہائی پائیدار ثابت ہوگی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبری مشقت سے متعلق مقدمے میں ٹرمپ کی جانب سے سیکشن 301 کے وسیع استعمال کے خلاف چھوٹے کاروباری اداروں نے فوری طور پر قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے، تاہم تجارتی اور قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے کا حتمی فیصلہ آنے میں وقت لگے گا۔ ان کے بقول، عدالتوں میں اس قانون کا مضبوط قانونی ریکارڈ موجود ہے، اور جج ایسے اقدامات روکنے سے گریز کر سکتے ہیں جن کا مقصد جبری مشقت کی حوصلہ شکنی اور امریکی مصنوعات کے لیے تجارتی رکاوٹوں میں کمی لانا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید اقدامات کی تیاری&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اس ہفتے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ ملکی پیداوار کو دوبارہ امریکا منتقل کرنے اور تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے اپنی دسترس میں موجود ہر قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے نئے محصولات عائد کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے امریکی سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کو بتایا، ”اس حکومت کی جانب سے استعمال کیے جانے والے قانونی اختیارات ضرور تبدیل ہوئے ہیں، لیکن اس کی تجارتی حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمیسن گریئر نے اگرچہ اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت سے متعلق تحقیقات کی تکمیل کے لیے کوئی حتمی مدت نہیں بتائی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ نافذ کیے جانے والے مختلف نوعیت کے محصولات ان حدوں سے تجاوز نہیں کریں گے جو وہ تجارتی معاہدوں میں طے کر رہے ہیں۔ ان میں یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے 15 فیصد جبکہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے اس سے زیادہ شرحیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا میں اضافی صنعتی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ چین کو سمجھا جاتا ہے، تاہم اس پر عائد محصولات گزشتہ نومبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان طے پانے والی تقریباً 20 فیصد کی حد سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ یہ شرح ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں عائد کیے گئے 25 فیصد محصولات کے علاوہ ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بعض برائے نام، یا اعلان کردہ، ٹیرف کی شرحیں عملی طور پر وصول کی جانے والی شرحوں سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دراصل اس بات کو یقینی بنانے کا ایک طریقہ ہے کہ متعلقہ ممالک تجارتی معاہدوں میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد جاری رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود بعض فیصلے اب بھی اچانک سامنے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، پیر کے روز ٹرمپ نے کینیڈا کی جانب سے تجارتی رعایتیں نہ دینے پر کینیڈین بیئر، ڈیری مصنوعات، ہاکی اسٹکس اور دیگر اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا، جبکہ نیٹو کے دفاعی اخراجات کے اہداف پورے نہ کرنے پر اسپین کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی بھی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارنیل یونیورسٹی میں تجارت کے پروفیسر اور آئی ایم ایف کے چین ڈویژن کے سابق سربراہ ایشور پرساد کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے اچانک نئے محصولات کا اعلان کرنے کا رجحان بدستور ایک بڑا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”مختلف نوعیت کے شکووں اور تنازعات کے حل کے لیے ٹرمپ کی محصولات عائد کرنے کی بے تابی نہ صرف عالمی تجارتی نظام میں مسلسل خلل پیدا کرتی رہے گی بلکہ اس کے امریکی گھرانوں اور کاروباری اداروں پر بھی نمایاں منفی اثرات مرتب ہوں گے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اقتدار میں واپسی کے بعد ٹیرف سے متعلق طویل تحقیقات کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈالنے کو ترجیح دی تاکہ انہیں رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>تاہم اس کے بعد ان کے تجارتی ایجنڈے کا آغاز خاصا ہنگامہ خیز رہا، جسے رواں سال سپریم کورٹ کے ایک سخت فیصلے نے بڑا دھچکا پہنچایا۔ اب ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا مقصد روایتی اور عدالتوں میں آزمودہ تجارتی قوانین کے ذریعے امریکی ٹیرف کی دیوار کو زیادہ مضبوط اور دیرپا بنانا ہے، حالانکہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل وہ انہی قوانین کے تحت کارروائی کے لیے زیادہ صبر کے قائل نہیں تھے۔</p>
<p>ان کا تازہ عالمی ٹیرف اقدام، جس کے تحت مبینہ طور پر جبری مشقت پر پابندیوں کے کمزور نفاذ کے الزام میں 60 ممالک پر 10 یا 12.5 فیصد محصولات عائد کیے گئے ہیں، آئندہ مہینوں میں متوقع متعدد نئے ٹیرف اقدامات کی پہلی کڑی ہے۔ ان اقدامات میں صنعتی شعبے میں اضافی پیداواری صلاحیت کی تحقیقات، ویتنام پر دانشورانہ املاک کی مبینہ چوری کے الزامات کی جانچ، اور سیمی کنڈکٹرز، روبوٹکس اور صنعتی مشینری سمیت اسٹریٹجک صنعتوں کے لیے قومی سلامتی کے تحفظات سے متعلق اقدامات بھی شامل ہیں۔</p>
<p>امریکی و کینیڈین تجارت کے ماہر اور کینیڈین آئل کمپنی سینووس انرجی کے ایسوسی ایٹ جنرل کونسل ڈین اُجزو نے کہا، ”ہم ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے ابتدائی مرحلے کے اختتام پر پہنچ چکے ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں، اور یقینی طور پر موسمِ گرما کے اختتام تک، صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے بڑے حصے مکمل طور پر نافذ ہو جائیں گے۔“</p>
<p>اس سے کاروباری اداروں کو ٹرمپ کے حتمی ٹیرف ڈھانچے کے بارے میں زیادہ وضاحت اور یقین حاصل ہو سکتا ہے، تاہم دوسری جانب مختلف ممالک کی وزارتِ تجارت میں یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ انہیں 3.4 کھرب ڈالر کی امریکی درآمدی منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے مزید رعایتیں دینا پڑ سکتی ہیں۔</p>
<p><strong>براہِ راست متبادل</strong></p>
<p>1974 کے تجارتی قانون کی سیکشن 301 کے تحت جبری مشقت کی روک تھام سے متعلق ٹرمپ کے نئے محصولات تقریباً براہِ راست اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لے رہے ہیں، جس کی مدت جمعہ کو ختم ہوگئی۔ یہی قانون ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران چین کے خلاف مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں پر کارروائی کے لیے استعمال کیا تھا۔</p>
<p>امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق، یہ نئے محصولات امریکا کی مجموعی درآمدات کے 99.4 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں۔</p>
<p>اس اقدام سے ٹرمپ کے نام نہاد ”لبریشن ڈے“ ٹیرف کا ایک حصہ دوبارہ بحال ہو رہا ہے، جس کے تحت دنیا کے تقریباً تمام ممالک پر 10 سے 50 فیصد تک محصولات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم امریکی سپریم کورٹ نے انہیں اس بنیاد پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا کہ یہ ایک ایسے قومی ہنگامی قانون کے تحت نافذ کیے گئے تھے جس کا عدالتی طور پر پہلے کبھی امتحان نہیں ہوا تھا۔</p>
<p>بنیادی ٹیرف کے ایک اور حصے کو سیکشن 301 کے تحت اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت کی تحقیقات کے ذریعے دوبارہ نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔ یہ تحقیقات 16 بڑے تجارتی شراکت داروں کو ہدف بنا رہی ہیں، جن میں چین، یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، میکسیکو اور ویتنام شامل ہیں۔ جاری تحقیقات کا مرکز صنعتی شعبے میں دی جانے والی سرکاری سبسڈیز اور برآمدات بڑھانے کے لیے اختیار کی جانے والی دیگر پالیسیوں کا جائزہ لینا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کے اس اقدام پر وسیع پیمانے پر تنقید کے باوجود بعض حلقوں نے اسے بڑی حد تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کے مترادف قرار دیا۔</p>
<p>امریکی ریاست مشی گن میں قائم ویکیوم کلینر بنانے والی کمپنی بِسل اِنکارپوریٹڈ کے چیف ایگزیکٹو مارک بِسل نے کہا کہ نئے محصولات بڑی حد تک کمپنی کی توقعات کے مطابق ہیں، اسی لیے کمپنی نے چین اور دیگر ممالک سے درآمدات میں پیشگی اضافہ نہیں کیا تاکہ نئے ٹیرف سے بچا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے رائٹرز کو ای میل کے ذریعے بتایا، ”ہم نے اپنے کاروباری فیصلے اسی بنیاد پر جاری رکھے کہ محصولات 10 سے 15 فیصد کی حد میں برقرار رہیں گے۔“</p>
<p>بجٹ پر اثرات</p>
<p>اقتدار سنبھالتے ہی فوری طور پر ایسے ٹیرف نافذ کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے، جن کی قانونی حیثیت ابھی آزمودہ نہیں تھی، کے چار بڑے نتائج سامنے آئے۔</p>
<p>اس سے خوردہ فروشوں اور درآمدات پر انحصار کرنے والی دیگر صنعتوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا، درجنوں تجارتی شراکت دار مذاکرات کی میز پر آ گئے اور کم ٹیرف کے بدلے مختلف رعایتیں دینے پر آمادہ ہوئے، چین کی جانب سے فوری جوابی اقدامات اور محصولات میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوا جو بالآخر ایک نازک جنگ بندی پر منتج ہوا، جبکہ امریکی خزانے کو بھی سیکڑوں ارب ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہوئی۔</p>
<p>صرف ”لبریشن ڈے“ ٹیرف سے ہی 166 ارب ڈالر کی آمدنی ہوئی، جس نے بڑھتے ہوئے وفاقی بجٹ خسارے کو کسی حد تک پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم درآمد کنندگان کو رقوم کی واپسی کے باعث اب اس مد میں حاصل ہونے والی خالص وصولیاں منفی ہو چکی ہیں۔</p>
<p>ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے ایک قانون کے تحت عائد کیے گئے 150 روزہ عارضی ٹیرف سے 5 جولائی تک 31 ارب ڈالر کی متوقع آمدنی حاصل ہو چکی ہے۔ تاہم اگر وفاقی عدالت کا ان محصولات کے خلاف فیصلہ برقرار رہتا ہے تو یہ رقم بھی درآمد کنندگان کو واپس کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>امریکا کا سرکاری قرض 40 کھرب ڈالر کے قریب پہنچنے کے تناظر میں اٹلانٹک کونسل میں بین الاقوامی اقتصادیات کے چیئرمین جوش لپسکی نے کہا کہ آئندہ آنے والی حکومتیں بھی ممکنہ طور پر ٹیرف سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرنے کی عادی ہو سکتی ہیں، کیونکہ اس آمدنی کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ٹیرف کی دیوار ایک ایک مضبوط اینٹ کے ساتھ دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے، اور یہ انتہائی پائیدار ثابت ہوگی۔“</p>
<p>جبری مشقت سے متعلق مقدمے میں ٹرمپ کی جانب سے سیکشن 301 کے وسیع استعمال کے خلاف چھوٹے کاروباری اداروں نے فوری طور پر قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے، تاہم تجارتی اور قانونی ماہرین کے مطابق اس معاملے کا حتمی فیصلہ آنے میں وقت لگے گا۔ ان کے بقول، عدالتوں میں اس قانون کا مضبوط قانونی ریکارڈ موجود ہے، اور جج ایسے اقدامات روکنے سے گریز کر سکتے ہیں جن کا مقصد جبری مشقت کی حوصلہ شکنی اور امریکی مصنوعات کے لیے تجارتی رکاوٹوں میں کمی لانا ہو۔</p>
<p><strong>مزید اقدامات کی تیاری</strong></p>
<p>امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اس ہفتے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ ملکی پیداوار کو دوبارہ امریکا منتقل کرنے اور تجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے اپنی دسترس میں موجود ہر قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے نئے محصولات عائد کریں گے۔</p>
<p>انہوں نے امریکی سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی کو بتایا، ”اس حکومت کی جانب سے استعمال کیے جانے والے قانونی اختیارات ضرور تبدیل ہوئے ہیں، لیکن اس کی تجارتی حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔“</p>
<p>جیمیسن گریئر نے اگرچہ اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت سے متعلق تحقیقات کی تکمیل کے لیے کوئی حتمی مدت نہیں بتائی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ دوبارہ نافذ کیے جانے والے مختلف نوعیت کے محصولات ان حدوں سے تجاوز نہیں کریں گے جو وہ تجارتی معاہدوں میں طے کر رہے ہیں۔ ان میں یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا کے لیے 15 فیصد جبکہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے لیے اس سے زیادہ شرحیں شامل ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ دنیا میں اضافی صنعتی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ چین کو سمجھا جاتا ہے، تاہم اس پر عائد محصولات گزشتہ نومبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان طے پانے والی تقریباً 20 فیصد کی حد سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ یہ شرح ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت میں عائد کیے گئے 25 فیصد محصولات کے علاوہ ہوگی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق بعض برائے نام، یا اعلان کردہ، ٹیرف کی شرحیں عملی طور پر وصول کی جانے والی شرحوں سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دراصل اس بات کو یقینی بنانے کا ایک طریقہ ہے کہ متعلقہ ممالک تجارتی معاہدوں میں طے شدہ شرائط پر عمل درآمد جاری رکھیں۔</p>
<p>اس کے باوجود بعض فیصلے اب بھی اچانک سامنے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، پیر کے روز ٹرمپ نے کینیڈا کی جانب سے تجارتی رعایتیں نہ دینے پر کینیڈین بیئر، ڈیری مصنوعات، ہاکی اسٹکس اور دیگر اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا، جبکہ نیٹو کے دفاعی اخراجات کے اہداف پورے نہ کرنے پر اسپین کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی بھی دی۔</p>
<p>کارنیل یونیورسٹی میں تجارت کے پروفیسر اور آئی ایم ایف کے چین ڈویژن کے سابق سربراہ ایشور پرساد کے مطابق، ٹرمپ کی جانب سے اچانک نئے محصولات کا اعلان کرنے کا رجحان بدستور ایک بڑا خطرہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”مختلف نوعیت کے شکووں اور تنازعات کے حل کے لیے ٹرمپ کی محصولات عائد کرنے کی بے تابی نہ صرف عالمی تجارتی نظام میں مسلسل خلل پیدا کرتی رہے گی بلکہ اس کے امریکی گھرانوں اور کاروباری اداروں پر بھی نمایاں منفی اثرات مرتب ہوں گے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289179</guid>
      <pubDate>Sat, 25 Jul 2026 17:09:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/251700171355321.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/251700171355321.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
