<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 16:58:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Jul 2026 16:58:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی کی شدید مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289132/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی، خصوصاً انتہا پسند اسرائیلی وزرا کی قیادت میں آبادکاروں کے مسلسل بڑے پیمانے پر دراندازی کرنے اور اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مقدس مقام میں داخل ہونے کی شدید مذمت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنے اور دیگر تمام اشتعال انگیز اقدامات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ بیان جاری کرنے والے وزرائے خارجہ میں پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے انتہا پسند وزرا اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی ترغیب اور تشدد پر مبنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یروشلم کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) اور وہاں موجود عبادت گاہوں تک رسائی پر پابندیاں، نیز دیگر مقدس مقامات تک امتیازی اور من مانے انداز میں رسائی محدود کرنا بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل مسلسل اور منظم انداز میں ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت اور مقام کو نقصان پہنچانا ہے، جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا گیا، جبکہ اس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کا مکمل اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے سے باز رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ایسا مضبوط مؤقف اختیار کرے جو اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں، غیر قانونی اقدامات اور ان مقدس مقامات کی بے حرمتی سے باز رکھنے پر مجبور کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے جمعہ کو مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی، خصوصاً انتہا پسند اسرائیلی وزرا کی قیادت میں آبادکاروں کے مسلسل بڑے پیمانے پر دراندازی کرنے اور اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں مقدس مقام میں داخل ہونے کی شدید مذمت کی۔</strong></p>
<p>وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنے اور دیگر تمام اشتعال انگیز اقدامات کی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی۔</p>
<p>مشترکہ بیان جاری کرنے والے وزرائے خارجہ میں پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ شامل تھے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت (اسٹیٹس کو) کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اسرائیل کے انتہا پسند وزرا اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی ترغیب اور تشدد پر مبنی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یروشلم کے قدیم شہر (اولڈ سٹی) اور وہاں موجود عبادت گاہوں تک رسائی پر پابندیاں، نیز دیگر مقدس مقامات تک امتیازی اور من مانے انداز میں رسائی محدود کرنا بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوشش ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کوئی خودمختاری حاصل نہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل مسلسل اور منظم انداز میں ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کا مقصد مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنا اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت اور مقام کو نقصان پہنچانا ہے، جس کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔</p>
<p>بیان میں یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا گیا، جبکہ اس ضمن میں ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، اور اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جسے مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے امور کا مکمل اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>انہوں نے قابض قوت کی حیثیت سے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آنے سے روکنے سے باز رہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ ایسا مضبوط مؤقف اختیار کرے جو اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں، غیر قانونی اقدامات اور ان مقدس مقامات کی بے حرمتی سے باز رکھنے پر مجبور کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289132</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 14:02:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/24135938d993afb.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/24135938d993afb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
