<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 13:20:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Jul 2026 13:20:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کشیدگی، اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 1200 سے زائد پوائنٹس گرگئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289121/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہوئے جس کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا، ٹریڈن کے پہلے سیشن میں  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1250 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر 12:05 بجے تک بینچ مارک انڈیکس 1,264.14 پوائنٹس یا 0.74 فیصد کی کمی  سے 170,475.30 پوائنٹس پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیز) اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔ حبکو, اے آر ایل , ماری , او جی ڈی سی, پی پی ایل , ایچ بی ایل , ایم سی بی , میبل اور این بی پی بھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ جمعرات کو پی ایس ایکس پر مندی کا دباؤ برقرار رہا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے نے وسیع پیمانے پر خطرے سے گریز اور اہم شعبوں میں شدید فروخت کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع پیمانے پر ہونے والی فروخت کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یا 1.54 فیصد کی کمی سے 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعہ کو خلیجی خطے میں شدت اختیار کرنے والے تنازع کے درمیان تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں جس سے ایشیائی شیئرز میں گراوٹ آئی، بانڈ مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی اور مہنگائی کے ایک نئے جھٹکے کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی برینٹ خام تیل 100.85 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہا۔ اس سے قبل راتوں رات اس میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا تھا اور یہ دو ماہ کی بلند ترین سطح 102 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا تھا جس کی وجہ بحیرہ احمر میں ایران کے حامی حوثیوں کی طرف سے سعودی ٹینکرز پر حملے تھے جن کی وجہ سے خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ عالمی تیل کی فراہمی کی ایک اور انتہائی اہم گزرگاہ بھی بند ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارضی جنگ بندی کے مؤثر خاتمے کو دو ہفتے گزرنے کے بعد امریکی فوج نے جمعہ کی صبح تک ایران پر فضائی حملے کیے جبکہ تہران نے ان پڑوسی عرب ممالک پر فائرنگ کی جو امریکی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں۔ تنازع کے تھمنے کے کوئی آثار نہ ہونے کی وجہ سے رواں ماہ برینٹ آئل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خبر نے کہ امریکی انتظامیہ 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی (ٹیرف) میں اضافہ کرے گی، مہنگائی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں کی جس کے نتیجے میں 30 سالہ ٹریژری ییلڈ 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں اور یورپ کے بینچ مارک قرض لینے کے اخراجات بھی 2011 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹس شرط لگارہی ہیں کہ مرکزی بینکوں کو زیادہ سخت پالیسی اپنانا ہوگی جس میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے اگلے ہی ہفتے شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی ہے جو محض ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہے جبکہ ستمبر میں اس اقدام کا امکان مکمل طور پر قیمتوں میں شامل ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی مرکزی بینک نے راتوں رات شرح سود کو برقرار رکھا لیکن ستمبر میں شرح سود میں اضافے کا تقریباً 70 فیصد امکان مارکیٹ میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1 فیصد گر گیا اور جاپان کا نکی 2.9 فیصد نیچے آ گیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 3.7 فیصد گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثرات مرتب ہوئے جس کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو بھی فروخت کا دباؤ برقرار رہا، ٹریڈن کے پہلے سیشن میں  بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1250 سے زائد پوائنٹس گرگیا۔</strong></p>
<p>دوپہر 12:05 بجے تک بینچ مارک انڈیکس 1,264.14 پوائنٹس یا 0.74 فیصد کی کمی  سے 170,475.30 پوائنٹس پر آگیا۔</p>
<p>آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیز) اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔ حبکو, اے آر ایل , ماری , او جی ڈی سی, پی پی ایل , ایچ بی ایل , ایم سی بی , میبل اور این بی پی بھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے دکھائی دیے۔</p>
<p>یاد رہے کہ جمعرات کو پی ایس ایکس پر مندی کا دباؤ برقرار رہا کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے نے وسیع پیمانے پر خطرے سے گریز اور اہم شعبوں میں شدید فروخت کو جنم دیا۔</p>
<p>وسیع پیمانے پر ہونے والی فروخت کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یا 1.54 فیصد کی کمی سے 171,739.45 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعہ کو خلیجی خطے میں شدت اختیار کرنے والے تنازع کے درمیان تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں جس سے ایشیائی شیئرز میں گراوٹ آئی، بانڈ مارکیٹس میں ہلچل مچ گئی اور مہنگائی کے ایک نئے جھٹکے کے خدشات دوبارہ سر اٹھانے لگے۔</p>
<p>بین الاقوامی برینٹ خام تیل 100.85 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہا۔ اس سے قبل راتوں رات اس میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا تھا اور یہ دو ماہ کی بلند ترین سطح 102 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا تھا جس کی وجہ بحیرہ احمر میں ایران کے حامی حوثیوں کی طرف سے سعودی ٹینکرز پر حملے تھے جن کی وجہ سے خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ عالمی تیل کی فراہمی کی ایک اور انتہائی اہم گزرگاہ بھی بند ہوگئی۔</p>
<p>عارضی جنگ بندی کے مؤثر خاتمے کو دو ہفتے گزرنے کے بعد امریکی فوج نے جمعہ کی صبح تک ایران پر فضائی حملے کیے جبکہ تہران نے ان پڑوسی عرب ممالک پر فائرنگ کی جو امریکی اڈوں کی میزبانی کرتے ہیں۔ تنازع کے تھمنے کے کوئی آثار نہ ہونے کی وجہ سے رواں ماہ برینٹ آئل کی قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔</p>
<p>اس خبر نے کہ امریکی انتظامیہ 60 تجارتی شراکت داروں کی اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی (ٹیرف) میں اضافہ کرے گی، مہنگائی کی صورتحال کو بہتر بنانے میں کوئی مدد نہیں کی جس کے نتیجے میں 30 سالہ ٹریژری ییلڈ 2007 کے بعد کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئے ہیں اور یورپ کے بینچ مارک قرض لینے کے اخراجات بھی 2011 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>مارکیٹس شرط لگارہی ہیں کہ مرکزی بینکوں کو زیادہ سخت پالیسی اپنانا ہوگی جس میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے اگلے ہی ہفتے شرح سود میں اضافے کا امکان ایک تہائی ہے جو محض ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں ایک بڑی تبدیلی ہے جبکہ ستمبر میں اس اقدام کا امکان مکمل طور پر قیمتوں میں شامل ہوچکا ہے۔</p>
<p>یورپی مرکزی بینک نے راتوں رات شرح سود کو برقرار رکھا لیکن ستمبر میں شرح سود میں اضافے کا تقریباً 70 فیصد امکان مارکیٹ میں شامل ہے۔</p>
<p>ایشیا میں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1 فیصد گر گیا اور جاپان کا نکی 2.9 فیصد نیچے آ گیا۔ جنوبی کوریا کا کوسپی 3.7 فیصد گرگیا۔</p>
<p>یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289121</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Jul 2026 12:39:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/241124435c40977.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/241124435c40977.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
