<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 15:14:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 15:14:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی میٹا کو ڈیجیٹل اور ایس ایم ای تعاون بڑھانے کی دعوت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289082/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو حکومت کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے اور ڈیجیٹل مہارتوں، ایس ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے اور ڈیجیٹل خواندگی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے جمعرات کو میٹا وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس کی قیادت ایشیا پیسیفک پبلک پالیسی کی تہارا پنچی ہیوا اور پالیسی پروگرامز منیجر (ایشیا پیسیفک) ویوین لیانگ کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے میٹا کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا جس کے تحت پاکستان کے ایک ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو ڈیجیٹل کاروبار اور اے آئی کی تربیت دی جائے گی جبکہ انہوں نے کمپنی کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے ایجنڈے میں فعال شراکت کی بھی دعوت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر میٹا وفد نے اپنے اسمال بزنس گروتھ اکیڈمی پروگرام پر بریفنگ دی جس کے تحت اگست سے نومبر 2026 کے دوران پاکستان بھر کے ایک ہزار ایس ایم ایز کو میٹا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، اے آئی سے چلنے والے کاروباری ٹولز اور آن لائن مارکیٹنگ کی حکمت عملیوں سے متعلق تربیت فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پروگرام پاکستان بھر میں مقامی پارٹنر ایٹم کیمپ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا جس میں شرکت بالکل مفت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ اس پروگرام کا مقصد ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافہ، منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینا اور خواتین کاروباری شخصیات کے ساتھ چھوٹے شہروں کے کاروباری اداروں کی معاونت کرنا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن کو اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی ستون بنایا ہے اور بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور معیشت کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستان اس وقت جامع ای کامرس پالیسی کو حتمی شکل دے رہا ہے جبکہ اے آئی پالیسی پر بھی کام جاری ہے جس کا مقصد جدت، کاروباری سرگرمیوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال خان نے کہا کہ اے آئی کو صرف ایک گفتگو کرنے والے ٹول کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کے طور پر اپنانا چاہیے جو پالیسی تجزیے، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی، کاروباری معلومات اور سرکاری شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل تجارت، ای کامرس اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر تیزی سے توجہ دے رہا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ، مارکیٹ انٹیلی جنس کو بہتر بنانے اور بیرونِ ملک اپنے تجارتی مشنز کے ذریعے عالمی منڈیوں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر تجارت نے میٹا پر زور دیا کہ وہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز (ڈی جی ٹی او)، چیمبرز آف کامرس، تجارتی انجمنوں، کاروباری تنظیموں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تعاون کرے تاکہ ایس ایم ایز کے تربیتی پروگرام کی رسائی اور اثرات کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ تجارت پاکستان کی کاروباری برادری کے ساتھ تعارف اور ادارہ جاتی روابط قائم کرنے میں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول علی بابا اور گوگل کے ساتھ ڈیجیٹل شراکت داری کا آغاز کر چکا ہے اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے میٹا کے ساتھ مزید تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے وفد نے اسمال بزنس گروتھ اکیڈمی پروگرام کی حمایت پر وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور ڈی جی ٹی او اور کاروباری شعبے کے دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطوں کے موقع کا خیرمقدم کیا تاکہ پروگرام کی رسائی کو مزید وسعت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو حکومت کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھنے اور ڈیجیٹل مہارتوں، ایس ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے اور ڈیجیٹل خواندگی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔</strong></p>
<p>ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے جمعرات کو میٹا وفد سے ملاقات کے دوران کیا جس کی قیادت ایشیا پیسیفک پبلک پالیسی کی تہارا پنچی ہیوا اور پالیسی پروگرامز منیجر (ایشیا پیسیفک) ویوین لیانگ کر رہے تھے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے میٹا کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا جس کے تحت پاکستان کے ایک ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو ڈیجیٹل کاروبار اور اے آئی کی تربیت دی جائے گی جبکہ انہوں نے کمپنی کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے ایجنڈے میں فعال شراکت کی بھی دعوت دی۔</p>
<p>اس موقع پر میٹا وفد نے اپنے اسمال بزنس گروتھ اکیڈمی پروگرام پر بریفنگ دی جس کے تحت اگست سے نومبر 2026 کے دوران پاکستان بھر کے ایک ہزار ایس ایم ایز کو میٹا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، اے آئی سے چلنے والے کاروباری ٹولز اور آن لائن مارکیٹنگ کی حکمت عملیوں سے متعلق تربیت فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>یہ پروگرام پاکستان بھر میں مقامی پارٹنر ایٹم کیمپ کے ذریعے نافذ کیا جائے گا جس میں شرکت بالکل مفت ہوگی۔</p>
<p>پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ اس پروگرام کا مقصد ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافہ، منڈیوں تک رسائی کو وسعت دینا اور خواتین کاروباری شخصیات کے ساتھ چھوٹے شہروں کے کاروباری اداروں کی معاونت کرنا ہے ۔</p>
<p>وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ حکومت نے ڈیجیٹلائزیشن کو اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی ستون بنایا ہے اور بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور معیشت کی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستان اس وقت جامع ای کامرس پالیسی کو حتمی شکل دے رہا ہے جبکہ اے آئی پالیسی پر بھی کام جاری ہے جس کا مقصد جدت، کاروباری سرگرمیوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔</p>
<p>جام کمال خان نے کہا کہ اے آئی کو صرف ایک گفتگو کرنے والے ٹول کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کے طور پر اپنانا چاہیے جو پالیسی تجزیے، ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی، کاروباری معلومات اور سرکاری شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل تجارت، ای کامرس اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر تیزی سے توجہ دے رہا ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ، مارکیٹ انٹیلی جنس کو بہتر بنانے اور بیرونِ ملک اپنے تجارتی مشنز کے ذریعے عالمی منڈیوں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔</p>
<p>وفاقی وزیر تجارت نے میٹا پر زور دیا کہ وہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز (ڈی جی ٹی او)، چیمبرز آف کامرس، تجارتی انجمنوں، کاروباری تنظیموں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تعاون کرے تاکہ ایس ایم ایز کے تربیتی پروگرام کی رسائی اور اثرات کو زیادہ سے زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ تجارت پاکستان کی کاروباری برادری کے ساتھ تعارف اور ادارہ جاتی روابط قائم کرنے میں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں بشمول علی بابا اور گوگل کے ساتھ ڈیجیٹل شراکت داری کا آغاز کر چکا ہے اور ملک کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے میٹا کے ساتھ مزید تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے۔</p>
<p>میٹا کے وفد نے اسمال بزنس گروتھ اکیڈمی پروگرام کی حمایت پر وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور ڈی جی ٹی او اور کاروباری شعبے کے دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطوں کے موقع کا خیرمقدم کیا تاکہ پروگرام کی رسائی کو مزید وسعت دی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289082</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 12:43:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23120506c5a6ad9.webp" type="image/webp" medium="image" height="851" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23120506c5a6ad9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
