<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 02 Oct 2026 03:08:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 02 Oct 2026 03:08:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس 1.5 فیصد گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو وسیع پیمانے پر فروخت کا دباؤ غالب رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1.5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 175,237.59 پوائنٹس پر جاپہنچا،بعدازاں فروخت کا دباؤ غالب آنے سے تیزی کے اثرات زائل ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک انڈیکس دن بھر بتدریج تنزلی کا شکار رہا، کاروبار کے آخری اوقات میں فروخت کا دباؤ مزید شدت اختیار کر گیا جس کے نتیجے میں انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 171,655.09 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یا 1.54 فیصد کی کمی سے 171,739.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے بدھ کو پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بڑھا کر بی کر دی۔ ایجنسی نے اس فیصلے کی وجہ ادارہ جاتی استحکام میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد کو قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس اینڈ پی گلوبل نے کہا کہ مستحکم آؤٹ لک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور ادارہ جاتی حالات میں بہتری آئی ہے۔ جڑیں پکڑتی معاشی اصلاحات ملک میں پائیدار اور مستحکم معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے ایک مسلسل دور کی راہ ہموار کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بدھ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسلسل خدشات کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کا شکار رہا جس سے بڑے پیمانے پر رسک آؤٹ کا رجحان پیدا ہوا اور سرمایہ کاروں کو بلیو چپ اور سائیکلکل اسٹاکس میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 1,703.64 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی سے 1,74,429.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی حصص میں اضافہ ہوا کیونکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں کا اعلان کیا جن سے خطے کے چپ ساز اداروں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے تیل کی قیمتوں کو چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو بھی دوبارہ تازہ کردیا جس کی وجہ سے امریکی ٹریژری ییلڈ 17 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ تاجر یہ شرط لگا رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کو جلد از جلد شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے ایک نئے سلسلے اور یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد برینٹ کروڈ کے سودے ابتدائی ٹریڈنگ میں 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جس نے اس تنازع کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس نے عالمی منڈیوں پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الفابیٹ اور ٹیسلا کی آمدنی سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر بھاری اخراجات میں کوئی کمی ظاہر نہیں ہوئی۔ سرچ جائنٹ نے سال کے لیے اپنے سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں میں اضافہ کردیا اور اب اسے 195 ارب ڈالر سے 205 ارب ڈالر کے درمیان خرچ کرنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اخراجات کا ایک بڑا حصہ ایشیائی چِپ ساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی توقع ہے۔ اسی امید کے باعث جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3 فیصد سے زائد بڑھ گیا جس کی قیادت ایس کے ہائنکس اور سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص نے کی جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 1 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً 1 فیصد بڑھ گیا جو ہفتے کے دوران 3 فیصد اضافے کی راہ پر گامزن ہے اور اس نے دو ہفتے کی مسلسل گراوٹ کے سلسلے کو توڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے معمولی بہتری کا سلسلہ برقرار رکھا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے سے 277.90 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم 695.67 ملین سے کم ہو کر 525.12 ملین شیئرز رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 25.40 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 23.43 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینرجیکو پی کے 6 کروڑ 7 لاکھ 10 ہزار شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار ہونے والا شیئر رہا، اس کے بعد پاکستان ریفائنری کے 2 کروڑ 84 لاکھ 10 ہزار اور ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 2 کروڑ 33 لاکھ 50 ہزار شیئرز کا لین دین ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 91 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 372 میں کمی، جبکہ 30 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/23184428b892a3f.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/23184428b892a3f.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو وسیع پیمانے پر فروخت کا دباؤ غالب رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1.5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 175,237.59 پوائنٹس پر جاپہنچا،بعدازاں فروخت کا دباؤ غالب آنے سے تیزی کے اثرات زائل ہوگئے۔</p>
<p>بینچ مارک انڈیکس دن بھر بتدریج تنزلی کا شکار رہا، کاروبار کے آخری اوقات میں فروخت کا دباؤ مزید شدت اختیار کر گیا جس کے نتیجے میں انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 171,655.09 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گرگیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 2,690.48 پوائنٹس یا 1.54 فیصد کی کمی سے 171,739.44 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے بدھ کو پاکستان کی طویل مدتی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی مائنس سے بڑھا کر بی کر دی۔ ایجنسی نے اس فیصلے کی وجہ ادارہ جاتی استحکام میں بہتری اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات پر مؤثر عمل درآمد کو قرار دیا۔</p>
<p>ایس اینڈ پی گلوبل نے کہا کہ مستحکم آؤٹ لک اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی اور ادارہ جاتی حالات میں بہتری آئی ہے۔ جڑیں پکڑتی معاشی اصلاحات ملک میں پائیدار اور مستحکم معاشی نمو اور مالیاتی استحکام کے ایک مسلسل دور کی راہ ہموار کریں گی۔</p>
<p>یاد رہے کہ بدھ کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسلسل خدشات کی وجہ سے اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ کا شکار رہا جس سے بڑے پیمانے پر رسک آؤٹ کا رجحان پیدا ہوا اور سرمایہ کاروں کو بلیو چپ اور سائیکلکل اسٹاکس میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔</p>
<p>گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 1,703.64 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی سے 1,74,429.93 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو ایشیائی حصص میں اضافہ ہوا کیونکہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بڑے پیمانے پر سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں کا اعلان کیا جن سے خطے کے چپ ساز اداروں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے تیل کی قیمتوں کو چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔</p>
<p>تیل کی بڑھتی قیمتوں نے مہنگائی کے خدشات کو بھی دوبارہ تازہ کردیا جس کی وجہ سے امریکی ٹریژری ییلڈ 17 ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے کیونکہ تاجر یہ شرط لگا رہے ہیں کہ فیڈرل ریزرو کو جلد از جلد شرح سود میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>امریکہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے ایک نئے سلسلے اور یمن کے حوثیوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں تیل کے ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد برینٹ کروڈ کے سودے ابتدائی ٹریڈنگ میں 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جس نے اس تنازع کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس نے عالمی منڈیوں پر گہرے سائے ڈال دیے ہیں۔</p>
<p>الفابیٹ اور ٹیسلا کی آمدنی سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر بھاری اخراجات میں کوئی کمی ظاہر نہیں ہوئی۔ سرچ جائنٹ نے سال کے لیے اپنے سرمائے کے اخراجات کے منصوبوں میں اضافہ کردیا اور اب اسے 195 ارب ڈالر سے 205 ارب ڈالر کے درمیان خرچ کرنے کی توقع ہے۔</p>
<p>اس اخراجات کا ایک بڑا حصہ ایشیائی چِپ ساز کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کی توقع ہے۔ اسی امید کے باعث جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 3 فیصد سے زائد بڑھ گیا جس کی قیادت ایس کے ہائنکس اور سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص نے کی جبکہ جاپان کا نکی انڈیکس بھی 1 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں تقریباً 1 فیصد بڑھ گیا جو ہفتے کے دوران 3 فیصد اضافے کی راہ پر گامزن ہے اور اس نے دو ہفتے کی مسلسل گراوٹ کے سلسلے کو توڑ دیا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے نے معمولی بہتری کا سلسلہ برقرار رکھا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے سے 277.90 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم 695.67 ملین سے کم ہو کر 525.12 ملین شیئرز رہ گیا۔</p>
<p>حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 25.40 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 23.43 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>سینرجیکو پی کے 6 کروڑ 7 لاکھ 10 ہزار شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار ہونے والا شیئر رہا، اس کے بعد پاکستان ریفائنری کے 2 کروڑ 84 لاکھ 10 ہزار اور ٹی پی ایل پراپرٹیز کے 2 کروڑ 33 لاکھ 50 ہزار شیئرز کا لین دین ہوا۔</p>
<p>جمعرات کو مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 91 کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ، 372 میں کمی، جبکہ 30 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/23184428b892a3f.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/23184428b892a3f.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289075</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 19:17:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/231059059cfd1e7.webp" type="image/webp" medium="image" height="651" width="1156">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/231059059cfd1e7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
