<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 13:11:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 13:11:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اصلاحاتی پروگرام پر پیش رفت کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289073/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعلیٰ حکام کو پاکستان کی بہتر ہوتی مالیاتی اور بیرونی اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا اور حکومت کی جانب سے جاری ساختی اصلاحات  پر بریفنگ دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں فرسٹ ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈین کیٹز، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقاتوں کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی میکرو اکنامک کارکردگی اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف)، ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) اور آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری وسیع تر اصلاحاتی پروگرام پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے، محصولات کے اہداف حاصل کیے گئے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے، ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقاتوں میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری، ٹیرف میں تدریجی اصلاح ، قرضوں کا انتظام، مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع اور پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں میں واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقوں نے انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی معاشی شمولیت، آبادی سے متعلق چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات پر مبنی معاشی نمو پر بھی گفتگو کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے ملاقاتوں کے اختتام پر پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام پر اعتماد اور اس کی پیش رفت کو تسلیم کرنے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور حکومت کے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل، ساختی اصلاحات اور طویل مدتی معاشی تبدیلی کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی ایگزم بینک کے سربراہ سے ملاقات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خزانہ نے امریکی ایگزم بینک  کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ سے بھی ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے، طویل المدتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور کپاس، سویابین سمیت زرعی اجناس اور ہائیڈروکاربنز کی تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے امریکی ایگزم بینک کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا جس کے تحت ترجیحی منصوبوں کو یکجا کرنے، کئی سال پر مشتمل مالیاتی منصوبہ بندی تیار کرنے اور امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ قریبی مدت کے منصوبوں کی نشاندہی، فوکل پرسنز کی تقرری اور اسٹریٹجک فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر کام کیا جائے، تاکہ اسے ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر باضابطہ طور پر دستخط کے لیے پیش کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعلیٰ حکام کو پاکستان کی بہتر ہوتی مالیاتی اور بیرونی اقتصادی صورتحال سے آگاہ کیا اور حکومت کی جانب سے جاری ساختی اصلاحات  پر بریفنگ دی۔</strong></p>
<p>سرکاری بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی اعلیٰ انتظامیہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا، جن میں فرسٹ ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ڈین کیٹز، ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جہاد ازور اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف مشن چیف ایوا پیٹرووا شامل تھیں۔</p>
<p>ملاقاتوں کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی میکرو اکنامک کارکردگی اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف)، ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) اور آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری وسیع تر اصلاحاتی پروگرام پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ پیش کیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے مالیاتی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے، محصولات کے اہداف حاصل کیے گئے، زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوئے، ترسیلاتِ زر ریکارڈ سطح پر پہنچیں اور کرنٹ اکاؤنٹ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔</p>
<p>ملاقاتوں میں ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری، ٹیرف میں تدریجی اصلاح ، قرضوں کا انتظام، مالی وسائل کے ذرائع میں تنوع اور پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں میں واپسی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>دونوں فریقوں نے انسانی وسائل کی ترقی، خواتین کی معاشی شمولیت، آبادی سے متعلق چیلنجز، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور نجی شعبے کی قیادت میں برآمدات پر مبنی معاشی نمو پر بھی گفتگو کی۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے ملاقاتوں کے اختتام پر پاکستان کے اصلاحاتی پروگرام پر اعتماد اور اس کی پیش رفت کو تسلیم کرنے پر آئی ایم ایف کا شکریہ ادا کیا اور حکومت کے مالیاتی نظم و ضبط، پالیسیوں کے تسلسل، ساختی اصلاحات اور طویل مدتی معاشی تبدیلی کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p><strong>امریکی ایگزم بینک کے سربراہ سے ملاقات</strong></p>
<p>دریں اثنا، واشنگٹن ڈی سی میں وزیر خزانہ نے امریکی ایگزم بینک  کے صدر اور چیئرمین جان جووانووچ سے بھی ملاقات کی۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے، طویل المدتی منصوبوں کے لیے مالی معاونت اور کپاس، سویابین سمیت زرعی اجناس اور ہائیڈروکاربنز کی تجارت بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے امریکی ایگزم بینک کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا جس کے تحت ترجیحی منصوبوں کو یکجا کرنے، کئی سال پر مشتمل مالیاتی منصوبہ بندی تیار کرنے اور امریکی سرمایہ، ٹیکنالوجی، آلات اور خدمات کی فراہمی کے لیے ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔</p>
<p>دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ قریبی مدت کے منصوبوں کی نشاندہی، فوکل پرسنز کی تقرری اور اسٹریٹجک فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر کام کیا جائے، تاکہ اسے ستمبر 2026 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر باضابطہ طور پر دستخط کے لیے پیش کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289073</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 10:42:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/23103956343ca34.webp" type="image/webp" medium="image" height="1066" width="1599">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/23103956343ca34.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
