<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 12:03:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 12:03:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایشیائی بینک کا ایم ایل ون ریلوے منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا اعادہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289067/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے علاقائی روابط کے فروغ اور ٹرانسپورٹ کے جدید انفرااسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر اے ڈی بی نے پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید بنانے والے اس اہم منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ہیڈکوارٹرز میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی اے ڈی بی کے نائب صدور ینگ منگ یانگ، فاطمہ یاسمین، دیگر اعلیٰ حکام اور پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرنشیتا محسن سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور انفرااسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، علاقائی رابطوں اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے منصوبہ حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحی قومی انفرااسٹرکچر اسکیم ہے۔ انہوں نے منصوبے کے لیے اے ڈی بی کی قیادت میں کنسورشیم فنانسنگ کی حمایت کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ قرض کی منظوری اور منصوبے پر پیش رفت کے مراحل کو تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے نائب صدور نے اس منصوبے کو پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی جدیدکاری، علاقائی روابط کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی، رابطوں اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان، جی ایس پی پلس، علاقائی صورتحال اور امریکا۔ایران کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری، عالمی توانائی، بحری سلامتی اور تجارتی سپلائی چینز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں نائب وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے علاقائی روابط کے فروغ اور ٹرانسپورٹ کے جدید انفرااسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے مین لائن ون (ایم ایل ون) ریلوے منصوبے پر عملدرآمد کا عمل تیز کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس موقع پر اے ڈی بی نے پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید بنانے والے اس اہم منصوبے کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت منیلا میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ہیڈکوارٹرز میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی اے ڈی بی کے نائب صدور ینگ منگ یانگ، فاطمہ یاسمین، دیگر اعلیٰ حکام اور پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرنشیتا محسن سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔</p>
<p>ملاقات میں پاکستان اور اے ڈی بی کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط شراکت داری کا جائزہ لیا گیا اور انفرااسٹرکچر، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، علاقائی رابطوں اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ ایم ایل ون ریلوے منصوبہ حکومتِ پاکستان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ترجیحی قومی انفرااسٹرکچر اسکیم ہے۔ انہوں نے منصوبے کے لیے اے ڈی بی کی قیادت میں کنسورشیم فنانسنگ کی حمایت کو سراہتے ہوئے درخواست کی کہ قرض کی منظوری اور منصوبے پر پیش رفت کے مراحل کو تیز کیا جائے۔</p>
<p>اے ڈی بی کے نائب صدور نے اس منصوبے کو پاکستان کے ریلوے نیٹ ورک کی جدیدکاری، علاقائی روابط کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔</p>
<p>دریں اثنا اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی، رابطوں اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے اور بین الاقوامی فورمز پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان اور یورپی یونین کے اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان، جی ایس پی پلس، علاقائی صورتحال اور امریکا۔ایران کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری، عالمی توانائی، بحری سلامتی اور تجارتی سپلائی چینز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں نائب وزیراعظم نے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن سے ملاقات میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289067</guid>
      <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 09:28:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2309262299fc53f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2309262299fc53f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
