<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 20:04:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Jul 2026 20:04:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپاس کی پیداوار میں 50 فیصد سے زائد کمی، معیشت کو اربوں ڈالر خسارہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289043/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے بدھ کوجاری کردہ سیڈز آف گروتھ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی کپاس کی پیداوار اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نصف سے بھی زیادہ کم ہوچکی ہے جس کے باعث معیشت کو سالانہ اندازاً 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے ،یہ نقصان اضافی درآمدات کے اخراجات اور برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رپورٹ زرعی شعبے میں کام کرنے والی او آئی سی سی آئی کی سرکردہ رکن کمپنیوں کی آراء پر مبنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی یا سرمایہ کاری کی کمی کے بجائے ریگولیٹری تاخیر اور غیر مستحکم پالیسیاں وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی زرعی پیداوار علاقائی حریف ممالک سے پیچھے رہتی جارہی ہے حالانکہ یہ شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 37 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کپاس کی پیداوار اپنے عروج کے دور میں تقریباً 1.4 کروڑ گانٹھوں سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں اندازاً 68.5 لاکھ گانٹھوں تک رہ گئی ہے، جو حکومت کے مقرر کردہ  10 ملین گانٹھوں کے ہدف سے 34 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی نے کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، کیڑوں کے حملے، ناقص بیجوں کے معیار اور بعض کیڑے مار ادویات کے اجزا پر عائد مکمل پابندی کو قرار دیا ہے جو سائنسی بنیادوں پر عبوری منصوبے کے بغیر نافذ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چونکہ ٹیکسٹائل شعبہ مقامی کپاس پر انحصار کرتا ہے اور ملکی برآمدی آمدنی میں 60 فیصد حصہ رکھتا ہے، اس لیے کپاس کی پیداوار کو دوبارہ 80 سے 90 لاکھ گانٹھوں تک بڑھانے سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ اسی طرح کی صورتحال مکئی کی پیداوار میں اضافے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائبرڈ بیجوں نے گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران فی ایکڑ پیداوار میں تین گنا اضافہ کردیا ہے تاہم وفاقی کابینہ کی جانب سے گزشتہ ماہ منظور کی گئی نیشنل بائیوٹیکنالوجی پالیسی پر تاحال عمل درآمد شروع نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بائیوٹیک مکئی کی ہائبرڈ اقسام متعارف کرانے میں تاخیر کی یہی بنیادی وجہ تھی جبکہ اس شعبے میں پیش رفت سے مکئی کے دانے اور سائیلج  کی برآمدات میں اربوں ڈالر کی ممکنہ آمدنی کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;او آئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل ایم عبدالحلیم نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی پالیسی کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اب آگے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کابینہ کی جانب سے بائیوٹیک مکئی سے متعلق فیصلہ ایک پیش رفت ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جب تک اس پالیسی کو باضابطہ طور پر جاری کرکے نافذ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پیداوار میں اضافے، برآمدی امکانات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے وہ فوائد جن کے حصول کی توقع کی جارہی ہے، صرف کاغذوں تک محدود رہیں گے۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال پوری رپورٹ میں نمایاں ہے۔ پالیسی کا رخ اکثر درست ہوتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کی رفتار میں تاخیر ہی اس شعبے کو اربوں ڈالر کے مالی نقصان سے دوچار کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں رپورٹ میں آلو، ڈیری اور تمباکو شعبوں میں موجود کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق آلو کی مجموعی پیداوار میں سے 5 فیصد سے بھی کم حصہ تصدیق شدہ پروسیسنگ گریڈ بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں آلو کی اوسط پیداوار 20 سے 23 ٹن فی ہیکٹر ہے جو دیگر ممالک میں حاصل ہونے والی 30 سے 35 ٹن فی ہیکٹر پیداوار سے نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیری شعبے میں صرف 10 فیصد دودھ کو پراسیس کیا جاتا ہے جبکہ ناکافی کولڈ چین انفرااسٹرکچر کے باعث مجموعی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ضائع ہو جاتا ہے حالانکہ پاکستان دنیا کے پانچ بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمباکو کی پیداوار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس کی لاگت دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صنعت کا ایک غیر دستاویزی حصہ جو خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں زیادہ مرکوز ہے تاحال ٹیکس نیٹ سے باہرہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھاد کے شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نائٹروجن پر مبنی یوریا بدستور کسانوں کے استعمال میں سب سے زیادہ غالب ہے جبکہ متوازن زمین کی غذائیت کے لیے ضروری پوٹاش کے استعمال کی مقدار مارچ میں صرف 7 ہزار ٹن رہی حالانکہ اس میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے ان خامیوں کو پاکستان کی غیر ملکی سرمایہ کاری برقرار رکھنے کی صلاحیت سے جوڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مزید سرمایہ کاری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا ریگولیٹری ماحول کو مزید قابلِ پیش گوئی بنایا جاتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ریگولیٹرز بیجوں کی اقسام کی منظوری اور کیڑے مار ادویات کی رجسٹریشن کے لیے مقررہ مدت پر مبنی طریقہ کار متعارف کرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر سفارشات میں کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے قومی حکمت عملی، جعلی بیجوں کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی نفاذی یونٹ کا قیام اور چھوٹے کسانوں کے لیے قرضوں تک رسائی میں اضافہ شامل ہے۔ یہ چھوٹے کسان ایسے تقریباً 90 فیصد زمین مالکان پر مشتمل ہیں جن کے پاس 12 ایکڑ سے کم رقبہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے بدھ کوجاری کردہ سیڈز آف گروتھ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی کپاس کی پیداوار اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں نصف سے بھی زیادہ کم ہوچکی ہے جس کے باعث معیشت کو سالانہ اندازاً 2 سے 3 ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے ،یہ نقصان اضافی درآمدات کے اخراجات اور برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔</strong></p>
<p>یہ رپورٹ زرعی شعبے میں کام کرنے والی او آئی سی سی آئی کی سرکردہ رکن کمپنیوں کی آراء پر مبنی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی یا سرمایہ کاری کی کمی کے بجائے ریگولیٹری تاخیر اور غیر مستحکم پالیسیاں وہ بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کی زرعی پیداوار علاقائی حریف ممالک سے پیچھے رہتی جارہی ہے حالانکہ یہ شعبہ جی ڈی پی میں تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 37 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کپاس کی پیداوار اپنے عروج کے دور میں تقریباً 1.4 کروڑ گانٹھوں سے کم ہو کر مالی سال 2025-26 میں اندازاً 68.5 لاکھ گانٹھوں تک رہ گئی ہے، جو حکومت کے مقرر کردہ  10 ملین گانٹھوں کے ہدف سے 34 فیصد کم ہے۔</p>
<p>او آئی سی سی نے کپاس کی پیداوار میں کمی کی وجوہات میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات، کیڑوں کے حملے، ناقص بیجوں کے معیار اور بعض کیڑے مار ادویات کے اجزا پر عائد مکمل پابندی کو قرار دیا ہے جو سائنسی بنیادوں پر عبوری منصوبے کے بغیر نافذ کی گئی تھی۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ چونکہ ٹیکسٹائل شعبہ مقامی کپاس پر انحصار کرتا ہے اور ملکی برآمدی آمدنی میں 60 فیصد حصہ رکھتا ہے، اس لیے کپاس کی پیداوار کو دوبارہ 80 سے 90 لاکھ گانٹھوں تک بڑھانے سے زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ اسی طرح کی صورتحال مکئی کی پیداوار میں اضافے کی راہ میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔</p>
<p>ہائبرڈ بیجوں نے گزشتہ 3 دہائیوں کے دوران فی ایکڑ پیداوار میں تین گنا اضافہ کردیا ہے تاہم وفاقی کابینہ کی جانب سے گزشتہ ماہ منظور کی گئی نیشنل بائیوٹیکنالوجی پالیسی پر تاحال عمل درآمد شروع نہیں کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بائیوٹیک مکئی کی ہائبرڈ اقسام متعارف کرانے میں تاخیر کی یہی بنیادی وجہ تھی جبکہ اس شعبے میں پیش رفت سے مکئی کے دانے اور سائیلج  کی برآمدات میں اربوں ڈالر کی ممکنہ آمدنی کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>او آئی سی سی آئی کے سیکرٹری جنرل ایم عبدالحلیم نے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی پالیسی کے اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اب آگے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ کابینہ کی جانب سے بائیوٹیک مکئی سے متعلق فیصلہ ایک پیش رفت ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم جب تک اس پالیسی کو باضابطہ طور پر جاری کرکے نافذ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پیداوار میں اضافے، برآمدی امکانات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کے وہ فوائد جن کے حصول کی توقع کی جارہی ہے، صرف کاغذوں تک محدود رہیں گے۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال پوری رپورٹ میں نمایاں ہے۔ پالیسی کا رخ اکثر درست ہوتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کی رفتار میں تاخیر ہی اس شعبے کو اربوں ڈالر کے مالی نقصان سے دوچار کررہی ہے۔</p>
<p>مزید برآں رپورٹ میں آلو، ڈیری اور تمباکو شعبوں میں موجود کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق آلو کی مجموعی پیداوار میں سے 5 فیصد سے بھی کم حصہ تصدیق شدہ پروسیسنگ گریڈ بیجوں سے حاصل کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں آلو کی اوسط پیداوار 20 سے 23 ٹن فی ہیکٹر ہے جو دیگر ممالک میں حاصل ہونے والی 30 سے 35 ٹن فی ہیکٹر پیداوار سے نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیری شعبے میں صرف 10 فیصد دودھ کو پراسیس کیا جاتا ہے جبکہ ناکافی کولڈ چین انفرااسٹرکچر کے باعث مجموعی پیداوار کا تقریباً 20 فیصد ضائع ہو جاتا ہے حالانکہ پاکستان دنیا کے پانچ بڑے دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔</p>
<p>تمباکو کی پیداوار کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس کی لاگت دوگنا سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صنعت کا ایک غیر دستاویزی حصہ جو خیبر پختونخوا اور آزاد جموں و کشمیر میں زیادہ مرکوز ہے تاحال ٹیکس نیٹ سے باہرہے۔</p>
<p>کھاد کے شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نائٹروجن پر مبنی یوریا بدستور کسانوں کے استعمال میں سب سے زیادہ غالب ہے جبکہ متوازن زمین کی غذائیت کے لیے ضروری پوٹاش کے استعمال کی مقدار مارچ میں صرف 7 ہزار ٹن رہی حالانکہ اس میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>رپورٹ نے ان خامیوں کو پاکستان کی غیر ملکی سرمایہ کاری برقرار رکھنے کی صلاحیت سے جوڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مزید سرمایہ کاری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا ریگولیٹری ماحول کو مزید قابلِ پیش گوئی بنایا جاتا ہے یا نہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ریگولیٹرز بیجوں کی اقسام کی منظوری اور کیڑے مار ادویات کی رجسٹریشن کے لیے مقررہ مدت پر مبنی طریقہ کار متعارف کرائیں۔</p>
<p>دیگر سفارشات میں کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے قومی حکمت عملی، جعلی بیجوں کی روک تھام کے لیے ایک خصوصی نفاذی یونٹ کا قیام اور چھوٹے کسانوں کے لیے قرضوں تک رسائی میں اضافہ شامل ہے۔ یہ چھوٹے کسان ایسے تقریباً 90 فیصد زمین مالکان پر مشتمل ہیں جن کے پاس 12 ایکڑ سے کم رقبہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289043</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 14:00:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22132632974cb94.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22132632974cb94.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
