<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 20:04:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Jul 2026 20:04:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چھوٹے بچت کھاتے داروں کو تحفظ، بڑے ڈپازٹس پر زیادہ سہولت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289042/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بچت کھاتوں (سیونگ ڈیپازٹس) پر کم از کم منافع فراہم کرنے کی شرط کے دائرہ کار میں ترمیم کر دی ہے۔ اس سے قبل یہ شرط اکاؤنٹ میں موجود رقم کی مقدار سے قطع نظر تمام انفرادی بچت کھاتوں پر لاگو ہوتی تھی۔ تاہم یکم اگست 2026 سے اس کا اطلاق صرف ان انفرادی کھاتے داروں (ڈیپازٹرز) پر ہوگا جو ماہانہ اوسطاً 1 کروڑ (10 ملین) روپے تک کا بیلنس برقرار رکھیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئی پالیسی کے تحت بینکوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام اہل انفرادی کھاتے داروں کو ایس بی پی کی تجویز کردہ کم از کم شرح سے منافع ادا کریں جن کا ماہانہ اوسط بیلنس 1 کروڑ روپے سے زیادہ نہ ہو۔ تاہم جن افراد کا ماہانہ اوسط بیلنس 1 کروڑ روپے سے زائد ہوگا وہ اس کم از کم منافع کی شرط کے دائرہ کار میں شامل نہیں رہیں گے۔ یہ لچک غیر انفرادی کھاتے داروں جیسے کہ کمپنیوں، کارپوریشنز اور اداروں کے لیے بھی بڑھا دی گئی ہے، جس کے تحت بینک اب کاروباری مذاکرات (تجارتی بات چیت) کی بنیاد پر منافع کی شرح طے کرنے میں آزاد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تبدیلی ایس بی پی کے نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم  انویسٹ پاک کے آغاز کے ساتھ کی گئی ہے، جو چھوٹی اور بڑی سطح کے سرمایہ کاروں کو براہ راست سرکاری سیکیورٹیز (حکومتی بانڈز) میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق یہ پلیٹ فارم مارکیٹ پر مبنی منافع کی تلاش میں رہنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور آسان ذریعہ ثابت ہوگا۔ سرکاری سیکیورٹیز تک رسائی کو آسان بنا کر یہ اقدام مالیاتی آگاہی (فنانشل لٹریسی) کو فروغ دے سکتا ہے اور روایتی بچت کھاتوں کے علاوہ دیگر ذرائع میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔پالیسی کے نقطہ نظر سے  اس اصلاحات (ریفارم) کی افادیت کا انحصار اس کے عملدرآمد اور مارکیٹ کے مقابلے (کمپیٹیشن) پر ہوگا۔ ایس بی پی کو اس بات کی نگرانی کرنی چاہیے کہ آیا بینک فنڈنگ کی کم لاگت کا فائدہ قرض لینے والوں (قرض داروں) تک پہنچا رہے ہیں، کیا بڑی رقم کے ڈیپازٹس بینکوں سے نکل کر کثرت سے سرکاری سیکیورٹیز میں منتقل ہو رہے ہیں اور کیا اس تبدیلی سے نجی شعبے کے قرضوں (پرائیویٹ سیکٹر کریڈٹ) پر اثر پڑ رہا ہے۔ بینکوں سے یہ بھی تقاضا کیا جانا چاہیے کہ وہ ڈیپازٹ کی شرحوں، چارجز اور شرائط کو واضح طور پر افشا کریں، تاکہ صارفین دیگر متبادلات کا موازنہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انویسٹ پاک کی پشت پناہی کے لیے سرمایہ کاروں کو میعاد ختم ہونے کی مدت (میچورٹی)، نقد رقم میں تبدیلی کی سہولت (لیکویڈیٹی)، ٹیکسیشن اور قیمتوں کے خطرات (پرائس رسک) کے بارے میں بنیادی معلومات اور تعلیم فراہم کی جانی چاہیے۔ ڈیپازٹ کی ری پرائسنگ، سرمایہ کاروں کی شرکت اور بنکنگ قرضوں میں تبدیلی سے متعلق اعداد و شمار کی باقاعدگی سے اشاعت سے یہ جائزہ لینے میں مدد ملے گی کہ آیا یہ اصلاحات محض بینک ڈیپازٹس کو سرکاری قرضوں میں منتقل کر رہی ہیں یا واقعی مالیاتی نظام میں وسعت اور استحکام (فنانشل ڈیپنگ) لا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے اس پالیسی کے نتیجے میں کسی فوری تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ انفرادی بچت کھاتوں کی اکثریت میں رقم 1 کروڑ روپے سے نمایاں طور پر کم ہوتی ہے، اس لیے وہ اب بھی کم از کم منافع کی شق کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ نیا فریم ورک بنیادی طور پر زیادہ اثاثے رکھنے والے امیر افراد (ہائی نیٹ ورتھ انڈیویژولز) اور ادارہ جاتی کھاتے داروں کو متاثر کرتا ہے۔ بڑی رقم کے بیلنس پر کم از کم منافع کی شرط ختم کرنے سے بینکوں کو یہ لچک ملتی ہے کہ وہ مارکیٹ کے حالات، نقد رقم کی ضروریات (لیکویڈیٹی ریکوائرمنٹس) اور گاہکوں سے تعلقات کے مطابق ڈیپازٹس کی قیمتیں طے کر سکیں۔ اس سے بینکوں کو اپنے فنڈز کو زیادہ موثر انداز میں سنبھالنے اور کارپوریٹ و امیر کلائنٹس کے لیے ان کی مرضی کے مطابق مصنوعات (کسٹمائزڈ پروڈکٹس) بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ پالیسی بڑے ڈیپازٹس کی قیمتوں کو مارکیٹ اور نقد رقم کی دستیابی کے حالات سے ہم آہنگ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ زرعی پالیسی (مونیٹری پالیسی) افراط زر (مہنگائی) کو کم کرنے، قرضوں کے اجراء اور اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھانے میں اس وقت زیادہ موثر ہوتی ہے جب بینک پالیسی ریٹ میں تبدیلی کے اثرات کو فوراً ان سود یا منافع کی شرحوں پر لاگو کر سکیں جو وہ قرضوں پر وصول کرتے ہیں اور ڈیپازٹس پر ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام سرکاری سیکیورٹیز اور مارکیٹ پر مبنی دیگر سرمایہ کاری کی مصنوعات میں شرکت کی حوصلہ افزائی بھی کر سکتا ہے۔ چونکہ بڑے ڈیپازٹس پر کم از کم منافع کی کوئی ضمانت نہیں ہے، اس لیے سمجھدار اور تجربہ کار سرمایہ کار ٹریژری بلز (ٹی بلز)، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بی)، سکوک، میوچل فنڈز اور دیگر منظم سرمایہ کاری پروڈکٹس میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔ اس رجحان کو ”انویسٹ پاک“ کے تعارف سے بھی مدد مل رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کو حکومتِ پاکستان کی سیکیورٹیز تک براہ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کرتا ہے۔یہ تبدیلیاں مالیاتی آگاہی کا ایک اہم پیغام بھی لاتی ہیں۔ روایتی سوچ یہ ہے کہ پیسے کو بچت کھاتے میں رکھنا اس کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔ نیا نظام بچت کنندہ کو مختلف مالیاتی ٹولز کے استعمال کے بارے میں آگاہ کرنے پر زور دیتا ہے۔ مختصر مدت اور ہنگامی ضروریات کے لیے بچت کھاتے میں رقم رکھنا مناسب ہے، جبکہ طویل المدتی مقاصد کے لیے سرمایہ کاری کو مختلف ذرائع میں پھیلانا (انوسٹمنٹ اسپرڈ) ضروری ہوتا ہے۔تاہم عام لوگوں کے لیے کم از کم منافع کی شرط کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ انہیں اپنی سرمایہ کاری پر زیادہ منافع مل رہا ہے۔ ایسی صورت میں جب افراط زر (مہنگائی) کی شرح بچت کھاتوں سے ملنے والے منافع سے زیادہ ہو تو ایسی بچتوں کی اصل قدر مسلسل کم ہوتی رہتی ہے۔ یہ مالیاتی آگاہی کا ایک اور اہم پہلو ہے جو مہنگائی کی روشنی میں برائے نام  اور حقیقی منافع کی شرح میں فرق کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بچتیں روپے کی حد تک تو منافع بخش ہو سکتی ہیں لیکن خریدنے کی حقیقی طاقت (پرچیزنگ پاور) کے اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں یہ پالیسی سرمایہ کاری کو مالیاتی اہداف کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ہنگامی فنڈز اور قلیل مدتی نقد رقم کی ضروریات کے لیے بچت کھاتے ہی موزوں ہیں کیونکہ یہ تحفظ اور رقم تک فوری رسائی کی ضمانت دیتے ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ کاری کی نوعیت اور مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا پورٹ فولیو بنانا زیادہ بہتر ہے جس میں سرکاری سیکیورٹیز، میوچل فنڈز یا سکوک میں سرمایہ کاری شامل ہو۔مجموعی طور پر ایس بی پی کی نئی پالیسی ملک کے بچت کے نظام کو جدید بنانے کی ایک کوشش ہے، نہ کہ کھاتے داروں کے مفادات کے تحفظ سے پیچھے ہٹنے کا اقدام۔ یہ قدم انفرادی کھاتے داروں کی اکثریت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی مارکیٹ کو بڑے ڈیپازٹس کی قدر کے تعیین میں اہم کردار ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انویسٹ پاک کی شروعات کے ساتھ مل کر یہ اقدام مجموعی مالیاتی نظام کو تیار کرنے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کرتا ہے۔ مزید برآں یہ مالیاتی تعلیم کو فروغ دیتا ہے، کیونکہ افراد کو اس بات کا احساس ہوگا کہ اپنے پیسے کا درست انتظام کرنے میں صرف منافع کمانا ہی شامل نہیں ہے، بلکہ خطرات (ریسک)، سرمایہ کاری کے تنوع، مہنگائی اور مالیاتی منصوبہ بندی کے بارے میں درست فیصلے کرنا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے بچت کھاتوں (سیونگ ڈیپازٹس) پر کم از کم منافع فراہم کرنے کی شرط کے دائرہ کار میں ترمیم کر دی ہے۔ اس سے قبل یہ شرط اکاؤنٹ میں موجود رقم کی مقدار سے قطع نظر تمام انفرادی بچت کھاتوں پر لاگو ہوتی تھی۔ تاہم یکم اگست 2026 سے اس کا اطلاق صرف ان انفرادی کھاتے داروں (ڈیپازٹرز) پر ہوگا جو ماہانہ اوسطاً 1 کروڑ (10 ملین) روپے تک کا بیلنس برقرار رکھیں گے۔</strong></p>
<p>نئی پالیسی کے تحت بینکوں کے لیے لازم ہے کہ وہ ان تمام اہل انفرادی کھاتے داروں کو ایس بی پی کی تجویز کردہ کم از کم شرح سے منافع ادا کریں جن کا ماہانہ اوسط بیلنس 1 کروڑ روپے سے زیادہ نہ ہو۔ تاہم جن افراد کا ماہانہ اوسط بیلنس 1 کروڑ روپے سے زائد ہوگا وہ اس کم از کم منافع کی شرط کے دائرہ کار میں شامل نہیں رہیں گے۔ یہ لچک غیر انفرادی کھاتے داروں جیسے کہ کمپنیوں، کارپوریشنز اور اداروں کے لیے بھی بڑھا دی گئی ہے، جس کے تحت بینک اب کاروباری مذاکرات (تجارتی بات چیت) کی بنیاد پر منافع کی شرح طے کرنے میں آزاد ہوں گے۔</p>
<p>یہ تبدیلی ایس بی پی کے نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم  انویسٹ پاک کے آغاز کے ساتھ کی گئی ہے، جو چھوٹی اور بڑی سطح کے سرمایہ کاروں کو براہ راست سرکاری سیکیورٹیز (حکومتی بانڈز) میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق یہ پلیٹ فارم مارکیٹ پر مبنی منافع کی تلاش میں رہنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ اور آسان ذریعہ ثابت ہوگا۔ سرکاری سیکیورٹیز تک رسائی کو آسان بنا کر یہ اقدام مالیاتی آگاہی (فنانشل لٹریسی) کو فروغ دے سکتا ہے اور روایتی بچت کھاتوں کے علاوہ دیگر ذرائع میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔پالیسی کے نقطہ نظر سے  اس اصلاحات (ریفارم) کی افادیت کا انحصار اس کے عملدرآمد اور مارکیٹ کے مقابلے (کمپیٹیشن) پر ہوگا۔ ایس بی پی کو اس بات کی نگرانی کرنی چاہیے کہ آیا بینک فنڈنگ کی کم لاگت کا فائدہ قرض لینے والوں (قرض داروں) تک پہنچا رہے ہیں، کیا بڑی رقم کے ڈیپازٹس بینکوں سے نکل کر کثرت سے سرکاری سیکیورٹیز میں منتقل ہو رہے ہیں اور کیا اس تبدیلی سے نجی شعبے کے قرضوں (پرائیویٹ سیکٹر کریڈٹ) پر اثر پڑ رہا ہے۔ بینکوں سے یہ بھی تقاضا کیا جانا چاہیے کہ وہ ڈیپازٹ کی شرحوں، چارجز اور شرائط کو واضح طور پر افشا کریں، تاکہ صارفین دیگر متبادلات کا موازنہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انویسٹ پاک کی پشت پناہی کے لیے سرمایہ کاروں کو میعاد ختم ہونے کی مدت (میچورٹی)، نقد رقم میں تبدیلی کی سہولت (لیکویڈیٹی)، ٹیکسیشن اور قیمتوں کے خطرات (پرائس رسک) کے بارے میں بنیادی معلومات اور تعلیم فراہم کی جانی چاہیے۔ ڈیپازٹ کی ری پرائسنگ، سرمایہ کاروں کی شرکت اور بنکنگ قرضوں میں تبدیلی سے متعلق اعداد و شمار کی باقاعدگی سے اشاعت سے یہ جائزہ لینے میں مدد ملے گی کہ آیا یہ اصلاحات محض بینک ڈیپازٹس کو سرکاری قرضوں میں منتقل کر رہی ہیں یا واقعی مالیاتی نظام میں وسعت اور استحکام (فنانشل ڈیپنگ) لا رہی ہیں۔</p>
<p>تاہم زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے اس پالیسی کے نتیجے میں کسی فوری تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔ انفرادی بچت کھاتوں کی اکثریت میں رقم 1 کروڑ روپے سے نمایاں طور پر کم ہوتی ہے، اس لیے وہ اب بھی کم از کم منافع کی شق کے تحت مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ نیا فریم ورک بنیادی طور پر زیادہ اثاثے رکھنے والے امیر افراد (ہائی نیٹ ورتھ انڈیویژولز) اور ادارہ جاتی کھاتے داروں کو متاثر کرتا ہے۔ بڑی رقم کے بیلنس پر کم از کم منافع کی شرط ختم کرنے سے بینکوں کو یہ لچک ملتی ہے کہ وہ مارکیٹ کے حالات، نقد رقم کی ضروریات (لیکویڈیٹی ریکوائرمنٹس) اور گاہکوں سے تعلقات کے مطابق ڈیپازٹس کی قیمتیں طے کر سکیں۔ اس سے بینکوں کو اپنے فنڈز کو زیادہ موثر انداز میں سنبھالنے اور کارپوریٹ و امیر کلائنٹس کے لیے ان کی مرضی کے مطابق مصنوعات (کسٹمائزڈ پروڈکٹس) بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ پالیسی بڑے ڈیپازٹس کی قیمتوں کو مارکیٹ اور نقد رقم کی دستیابی کے حالات سے ہم آہنگ بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ زرعی پالیسی (مونیٹری پالیسی) افراط زر (مہنگائی) کو کم کرنے، قرضوں کے اجراء اور اقتصادی سرگرمیوں کو بڑھانے میں اس وقت زیادہ موثر ہوتی ہے جب بینک پالیسی ریٹ میں تبدیلی کے اثرات کو فوراً ان سود یا منافع کی شرحوں پر لاگو کر سکیں جو وہ قرضوں پر وصول کرتے ہیں اور ڈیپازٹس پر ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ اقدام سرکاری سیکیورٹیز اور مارکیٹ پر مبنی دیگر سرمایہ کاری کی مصنوعات میں شرکت کی حوصلہ افزائی بھی کر سکتا ہے۔ چونکہ بڑے ڈیپازٹس پر کم از کم منافع کی کوئی ضمانت نہیں ہے، اس لیے سمجھدار اور تجربہ کار سرمایہ کار ٹریژری بلز (ٹی بلز)، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بی)، سکوک، میوچل فنڈز اور دیگر منظم سرمایہ کاری پروڈکٹس میں سرمایہ کاری کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔ اس رجحان کو ”انویسٹ پاک“ کے تعارف سے بھی مدد مل رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کو حکومتِ پاکستان کی سیکیورٹیز تک براہ راست ڈیجیٹل رسائی فراہم کرتا ہے۔یہ تبدیلیاں مالیاتی آگاہی کا ایک اہم پیغام بھی لاتی ہیں۔ روایتی سوچ یہ ہے کہ پیسے کو بچت کھاتے میں رکھنا اس کی حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔ نیا نظام بچت کنندہ کو مختلف مالیاتی ٹولز کے استعمال کے بارے میں آگاہ کرنے پر زور دیتا ہے۔ مختصر مدت اور ہنگامی ضروریات کے لیے بچت کھاتے میں رقم رکھنا مناسب ہے، جبکہ طویل المدتی مقاصد کے لیے سرمایہ کاری کو مختلف ذرائع میں پھیلانا (انوسٹمنٹ اسپرڈ) ضروری ہوتا ہے۔تاہم عام لوگوں کے لیے کم از کم منافع کی شرط کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ انہیں اپنی سرمایہ کاری پر زیادہ منافع مل رہا ہے۔ ایسی صورت میں جب افراط زر (مہنگائی) کی شرح بچت کھاتوں سے ملنے والے منافع سے زیادہ ہو تو ایسی بچتوں کی اصل قدر مسلسل کم ہوتی رہتی ہے۔ یہ مالیاتی آگاہی کا ایک اور اہم پہلو ہے جو مہنگائی کی روشنی میں برائے نام  اور حقیقی منافع کی شرح میں فرق کرنے میں مدد کرتا ہے۔ بچتیں روپے کی حد تک تو منافع بخش ہو سکتی ہیں لیکن خریدنے کی حقیقی طاقت (پرچیزنگ پاور) کے اعتبار سے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>مزید برآں یہ پالیسی سرمایہ کاری کو مالیاتی اہداف کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ ہنگامی فنڈز اور قلیل مدتی نقد رقم کی ضروریات کے لیے بچت کھاتے ہی موزوں ہیں کیونکہ یہ تحفظ اور رقم تک فوری رسائی کی ضمانت دیتے ہیں۔ دوسری طرف سرمایہ کاری کی نوعیت اور مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا پورٹ فولیو بنانا زیادہ بہتر ہے جس میں سرکاری سیکیورٹیز، میوچل فنڈز یا سکوک میں سرمایہ کاری شامل ہو۔مجموعی طور پر ایس بی پی کی نئی پالیسی ملک کے بچت کے نظام کو جدید بنانے کی ایک کوشش ہے، نہ کہ کھاتے داروں کے مفادات کے تحفظ سے پیچھے ہٹنے کا اقدام۔ یہ قدم انفرادی کھاتے داروں کی اکثریت کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی مارکیٹ کو بڑے ڈیپازٹس کی قدر کے تعیین میں اہم کردار ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انویسٹ پاک کی شروعات کے ساتھ مل کر یہ اقدام مجموعی مالیاتی نظام کو تیار کرنے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنے میں مدد کرتا ہے۔ مزید برآں یہ مالیاتی تعلیم کو فروغ دیتا ہے، کیونکہ افراد کو اس بات کا احساس ہوگا کہ اپنے پیسے کا درست انتظام کرنے میں صرف منافع کمانا ہی شامل نہیں ہے، بلکہ خطرات (ریسک)، سرمایہ کاری کے تنوع، مہنگائی اور مالیاتی منصوبہ بندی کے بارے میں درست فیصلے کرنا بھی شامل ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289042</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 13:12:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/221254154d472f4.webp" type="image/webp" medium="image" height="1080" width="1920">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/221254154d472f4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
