<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 20:04:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Jul 2026 20:04:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی سام سنگ کو اسمارٹ فون برآمدات کی دعوت، کمپنی کی ٹیرف سپورٹ کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289035/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کو موبائل فونز کی علاقائی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز کے طور پر پاکستان سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے جنوبی کوریائی ملٹی نیشنل کمپنی پر زور دیا کہ وہ مقامی طور پر تیار کردہ اسمارٹ فونز افریقہ اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کو برآمد کرے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت کی جانب سے بدھ  کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے یہ دعوت سام سنگ پاکستان کے کنٹری ہیڈ کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران دی۔ اس موقع پر وزارتِ تجارت کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران جام کمال خان نے سام سنگ کو پاکستان کی مقامی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے یہاں تیار ہونے والے اسمارٹ فونز افریقہ سمیت دیگر ابھرتی ہوئی عالمی منڈیوں کو برآمد کرنے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی تیزی سے فروغ پاتی مینوفیکچرنگ صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف مقامی طلب پوری کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ خود کو عالمی سپلائی چین کا اہم حصہ بنانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے پاکستان میں سام سنگ کی جانب سے تصدیق شدہ موبائل فون ریفربشمنٹ مراکز قائم کرنے کی تجویز کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ منظم اور ضابطہ کار کے تحت قائم ریفربشمنٹ نظام نہ صرف مقامی صنعت کو مضبوط بنائے گا بلکہ پیشہ ورانہ معیار کے مطابق تیار کیے گئے ریفربشڈ موبائل فونز کی برآمد کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا، ساتھ ہی روزگار کے مواقع میں اضافہ اور تکنیکی مہارت کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سام سنگ کے وفد نے وفاقی وزیر کو پاکستان کے موبائل فون مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیشرفت سے آگاہ کیا اور مقامی اسمبلنگ میں کمپنی کی سرمایہ کاری کو اجاگر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے موبائل فونز کے سیمی ناکڈ ڈاؤن (ایس کے ڈی) اور کمپلیٹلی بلٹ یونٹ (سی بی یو) پر عائد ٹیرف کے فرق میں کمی اور ٹیکس ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے باعث مقامی طور پر تیار کیے جانے والے موبائل فونز کی مسابقتی صلاحیت نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ مقامی مینوفیکچرنگ اور مسلسل سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے ایس کے ڈی  اور سی بی یو  موبائل فونز کے درمیان ٹیرف کا مناسب فرق برقرار رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے استعمال شدہ (سیکنڈ ہینڈ) موبائل فونز کی تجارتی بنیادوں پر درآمد پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وافر پیداواری صلاحیت موجود ہونے کے باوجود یہ عمل مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ صنعت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد نے تجویز پیش کی کہ استعمال شدہ موبائل فونز کی تجارتی درآمد کے بجائے تصدیق شدہ ریفربشڈ  موبائل فونز کا نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت اصل آلات بنانے والے ادارے پاکستان میں مجاز ریفربشمنٹ مراکز قائم کریں۔ اس سے صارفین کو وارنٹی کے ساتھ معیاری اور تصدیق شدہ موبائل فونز خریدنے کی سہولت میسر آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تجاویز پر ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی موبائل فون صنعت نے گزشتہ چند برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے، آئندہ پالیسی کا محور حقیقی مینوفیکچرنگ، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات کے فروغ پر ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان اب موبائل فونز کی خاطر خواہ مینوفیکچرنگ صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا صنعتی پالیسیوں کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے، نہ کہ درآمد شدہ استعمال شدہ مصنوعات پر انحصار بڑھانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے ٹیکسیشن سے متعلق صنعت کے خدشات کو تسلیم کیا اور کہا کہ وسیع تر مالیاتی فریم ورک کے اندر ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ترغیب کو سرمایہ کاری، لوکلائزیشن، برآمدات اور ویلیو ایڈیشن سے منسلک ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ استعمال شدہ موبائل فونز کی تجارتی درآمد سے متعلق کوئی بھی فیصلہ شواہد پر مبنی، مرحلہ وار اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے مصدقہ مقامی ریفر بشڈ متبادلات کی دستیابی سے مشروط ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعت کی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کیلئے اہم مواقع فراہم کرتا ہے اور اس یقین کا اظہار کیا کہ سام سنگ جیسے معروف مینوفیکچررز کے ساتھ مضبوط تعاون سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کا باعث بنے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ کو موبائل فونز کی علاقائی مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز کے طور پر پاکستان سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے جنوبی کوریائی ملٹی نیشنل کمپنی پر زور دیا کہ وہ مقامی طور پر تیار کردہ اسمارٹ فونز افریقہ اور دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کو برآمد کرے۔</strong></p>
<p>وزارتِ تجارت کی جانب سے بدھ  کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے یہ دعوت سام سنگ پاکستان کے کنٹری ہیڈ کی سربراہی میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران دی۔ اس موقع پر وزارتِ تجارت کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران جام کمال خان نے سام سنگ کو پاکستان کی مقامی مارکیٹ تک محدود رہنے کے بجائے یہاں تیار ہونے والے اسمارٹ فونز افریقہ سمیت دیگر ابھرتی ہوئی عالمی منڈیوں کو برآمد کرنے پر زور دیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی تیزی سے فروغ پاتی مینوفیکچرنگ صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف مقامی طلب پوری کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ خود کو عالمی سپلائی چین کا اہم حصہ بنانا چاہیے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے پاکستان میں سام سنگ کی جانب سے تصدیق شدہ موبائل فون ریفربشمنٹ مراکز قائم کرنے کی تجویز کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ منظم اور ضابطہ کار کے تحت قائم ریفربشمنٹ نظام نہ صرف مقامی صنعت کو مضبوط بنائے گا بلکہ پیشہ ورانہ معیار کے مطابق تیار کیے گئے ریفربشڈ موبائل فونز کی برآمد کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا، ساتھ ہی روزگار کے مواقع میں اضافہ اور تکنیکی مہارت کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔</p>
<p>سام سنگ کے وفد نے وفاقی وزیر کو پاکستان کے موبائل فون مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیشرفت سے آگاہ کیا اور مقامی اسمبلنگ میں کمپنی کی سرمایہ کاری کو اجاگر کیا۔</p>
<p>وفد نے موبائل فونز کے سیمی ناکڈ ڈاؤن (ایس کے ڈی) اور کمپلیٹلی بلٹ یونٹ (سی بی یو) پر عائد ٹیرف کے فرق میں کمی اور ٹیکس ڈھانچے میں ہونے والی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے باعث مقامی طور پر تیار کیے جانے والے موبائل فونز کی مسابقتی صلاحیت نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ مقامی مینوفیکچرنگ اور مسلسل سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے ایس کے ڈی  اور سی بی یو  موبائل فونز کے درمیان ٹیرف کا مناسب فرق برقرار رکھا جائے۔</p>
<p>وفد نے استعمال شدہ (سیکنڈ ہینڈ) موبائل فونز کی تجارتی بنیادوں پر درآمد پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں وافر پیداواری صلاحیت موجود ہونے کے باوجود یہ عمل مقامی موبائل فون مینوفیکچرنگ صنعت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>وفد نے تجویز پیش کی کہ استعمال شدہ موبائل فونز کی تجارتی درآمد کے بجائے تصدیق شدہ ریفربشڈ  موبائل فونز کا نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت اصل آلات بنانے والے ادارے پاکستان میں مجاز ریفربشمنٹ مراکز قائم کریں۔ اس سے صارفین کو وارنٹی کے ساتھ معیاری اور تصدیق شدہ موبائل فونز خریدنے کی سہولت میسر آئے گی۔</p>
<p>ان تجاویز پر ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان کی موبائل فون صنعت نے گزشتہ چند برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے، آئندہ پالیسی کا محور حقیقی مینوفیکچرنگ، مقامی ویلیو ایڈیشن میں اضافہ، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور برآمدات کے فروغ پر ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان اب موبائل فونز کی خاطر خواہ مینوفیکچرنگ صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا صنعتی پالیسیوں کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہونا چاہیے، نہ کہ درآمد شدہ استعمال شدہ مصنوعات پر انحصار بڑھانا۔</p>
<p>جام کمال نے ٹیکسیشن سے متعلق صنعت کے خدشات کو تسلیم کیا اور کہا کہ وسیع تر مالیاتی فریم ورک کے اندر ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ترغیب کو سرمایہ کاری، لوکلائزیشن، برآمدات اور ویلیو ایڈیشن سے منسلک ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ استعمال شدہ موبائل فونز کی تجارتی درآمد سے متعلق کوئی بھی فیصلہ شواہد پر مبنی، مرحلہ وار اور صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے مصدقہ مقامی ریفر بشڈ متبادلات کی دستیابی سے مشروط ہونا چاہیے۔</p>
<p>صنعت کی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کیلئے اہم مواقع فراہم کرتا ہے اور اس یقین کا اظہار کیا کہ سام سنگ جیسے معروف مینوفیکچررز کے ساتھ مضبوط تعاون سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کا باعث بنے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289035</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 12:06:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/2211414999efbd0.webp" type="image/webp" medium="image" height="1359" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/2211414999efbd0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
