<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 20:04:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Jul 2026 20:04:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ : کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289033/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں بدھ کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--right  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/eA2k__QDpgk'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'&gt;    &lt;div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto"&gt;
        &lt;iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/eA2k__QDpgk?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        &gt;&lt;/iframe&gt;
    &lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جس سے بینچ مارک انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 176,255.64 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم جلد ہی فروخت کا دباؤ دوبارہ لوٹ آیا اور صبح سے دوپہر کے اوائل تک مارکیٹ میں رفتہ رفتہ کمی کا رجحان رہا۔دوپہر کے وقت فروخت کے دباؤ میں شدت آئی، جس نے انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 174,104.06 پوائنٹس تک گرا دیا۔اگرچہ سیشن کے آخری گھنٹوں میں سستے حصص کی خریداری (بارگین ہنٹنگ) دیکھنے میں آئی، جس سے انڈیکس کو کچھ بحالی کا موقع ملا لیکن یہ بحالی ابتدائی نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,703.64 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی کے ساتھ 174,429.92 کی سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکرج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ شدید جیو پولیٹیکل کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مسلسل تشویش کے باعث مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ غالب رہا۔ پورے سیشن کے دوران سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا، جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں رسک سے بچنے کی پوزیشننگ دیکھی گئی۔مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں اور افراطِ زر پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے سے مارکیٹ کے شرکا محتاط نظر آئے، جس نے بین الاقوامی شیئر مارکیٹوں کے مثبت اشاروں کو بھی دھندلا دیا۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے پاکستان کے ایکسٹرنل اکاؤنٹ اور افراطِ زر کے تناظر سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے سایکلیکل سیکٹرز میں اپنی سرمایہ کاری کم کر دی۔ آئندہ کے حوالے سے توقع ہے کہ مارکیٹ کی سمت کا انحصار مشرق وسطیٰ کی صورتحال، بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ردوبدل اور ملک کے اندر معاشی یا پالیسی سطح کے اعلانات پر رہے گا۔ جب تک مکمل وضاحت سامنے نہیں آتی، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے اور سرمایہ کار محتاط اور منتخب انداز اپنانے کو ترجیح دیں گے۔ ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کی سطح پر منفی اثر ڈالنے والی کمپنیوں میں یو بی ایل، ایف ایف سی، اینگرو ایچ، ہب کو اور لکی سیمنٹ پیش پیش رہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں تقریباً 776 پوائنٹس کی کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہم پیش رفت میں رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست کی ہے جس کی منظوری کی صورت میں نقدی کے شدید بحران سے دوچار جنوبی ایشیائی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ درخواست ایران جنگ سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد سامنے آئی جس سے سفارتی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا اور یہ توقعات بھی پیدا ہوئیں کہ اسلام آباد واشنگٹن اور دیگر شراکت داروں سے معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید پر منتخب خریداری کی حوصلہ افزائی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا، تاہم امریکہ اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 205.83 پوائنٹس یا 0.12 فیصد اضافے سے 1,76,133.57 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں نے امریکی مارکیٹوں میں آنے والی بحالی سے مثبت اشارے لیے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو نظر انداز کیا، حالانکہ حوثی باغیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازع میں ایک نیا محاذ کھولنے کی دھمکی دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.2 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 6 فیصد سے زائد اوپر گیا۔ ادھر جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 91.55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی وجہ یہ بنی کہ سعودی عرب سے ایشیا جانے والا خام تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکرز نے منگل کو یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کی دھمکیوں کے بعد بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب گزشتہ شب امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا جس سے مسلسل تین روزہ مندی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس بہتری کی بڑی وجہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں بحالی تھی کیونکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ جولائی کے ابتدائی ہفتوں میں جنوبی کوریا کی سیمی کنڈکٹر برآمدات تقریباً تین گنا بڑھ گئیں جبکہ جون میں تائیوان کے برآمدی آرڈرز کا اشاریہ بھی مارکیٹ کے اندازوں سے بہتر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر آل شیئرز انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ نشست کے 1,003.50 ملین شیئرز کے مقابلے میں کم ہو کر 695.69 ملین شیئرز رہ گیا۔شیئرز کی قدر بھی پچھلے سیشن کے 35.70 ارب روپے کے مقابلے میں گھٹ کر 25.40 ارب روپے پر آ گئی۔ٹرسٹ بروکرج 134.17 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد سنرجیکو پی کے  99.43 ملین شیئرز اور ٹی پی ایل پراپرٹیز 49.82 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔بدھ کو 493 کمپنیوں کے شیئرز میں لین دین ہوا، جن میں سے 108 کی قیمتوں میں اضافہ، 353 میں کمی جبکہ 32 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/22184553e1454f0.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/22184553e1454f0.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج  میں بدھ کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں مسلسل فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
    <figure class='media  w-full sm:w-1/2  media--right  media--embed  media--uneven' data-original-src='https://www.youtube.com/shorts/eA2k__QDpgk'>
        <div class='media__item  media__item--youtube_short  media__item--relative'>    <div style="position: relative; aspect-ratio: 9 / 16; overflow: hidden; max-width: 360px; margin: auto">
        <iframe
            src="https://www.youtube.com/embed/eA2k__QDpgk?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0"
            style="position: absolute; top: 0; left: 0; width: 100%; height: 100%; border: 0;"
            loading="lazy"
            allowfullscreen
        ></iframe>
    </div></div>
        
    </figure>
<p>مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، جس سے بینچ مارک انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 176,255.64 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ تاہم جلد ہی فروخت کا دباؤ دوبارہ لوٹ آیا اور صبح سے دوپہر کے اوائل تک مارکیٹ میں رفتہ رفتہ کمی کا رجحان رہا۔دوپہر کے وقت فروخت کے دباؤ میں شدت آئی، جس نے انڈیکس کو دن کی کم ترین سطح 174,104.06 پوائنٹس تک گرا دیا۔اگرچہ سیشن کے آخری گھنٹوں میں سستے حصص کی خریداری (بارگین ہنٹنگ) دیکھنے میں آئی، جس سے انڈیکس کو کچھ بحالی کا موقع ملا لیکن یہ بحالی ابتدائی نقصانات کا ازالہ کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,703.64 پوائنٹس یا 0.97 فیصد کی کمی کے ساتھ 174,429.92 کی سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکرج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں بتایا کہ شدید جیو پولیٹیکل کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر مسلسل تشویش کے باعث مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ غالب رہا۔ پورے سیشن کے دوران سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا، جس کے نتیجے میں اہم شعبوں میں رسک سے بچنے کی پوزیشننگ دیکھی گئی۔مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں اور افراطِ زر پر غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے سے مارکیٹ کے شرکا محتاط نظر آئے، جس نے بین الاقوامی شیئر مارکیٹوں کے مثبت اشاروں کو بھی دھندلا دیا۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے پاکستان کے ایکسٹرنل اکاؤنٹ اور افراطِ زر کے تناظر سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے سایکلیکل سیکٹرز میں اپنی سرمایہ کاری کم کر دی۔ آئندہ کے حوالے سے توقع ہے کہ مارکیٹ کی سمت کا انحصار مشرق وسطیٰ کی صورتحال، بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ردوبدل اور ملک کے اندر معاشی یا پالیسی سطح کے اعلانات پر رہے گا۔ جب تک مکمل وضاحت سامنے نہیں آتی، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے اور سرمایہ کار محتاط اور منتخب انداز اپنانے کو ترجیح دیں گے۔ ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس کی سطح پر منفی اثر ڈالنے والی کمپنیوں میں یو بی ایل، ایف ایف سی، اینگرو ایچ، ہب کو اور لکی سیمنٹ پیش پیش رہیں، جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں تقریباً 776 پوائنٹس کی کمی کی۔</p>
<p>ایک اہم پیش رفت میں رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت کی درخواست کی ہے جس کی منظوری کی صورت میں نقدی کے شدید بحران سے دوچار جنوبی ایشیائی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔</p>
<p>یہ درخواست ایران جنگ سے متعلق مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد سامنے آئی جس سے سفارتی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا اور یہ توقعات بھی پیدا ہوئیں کہ اسلام آباد واشنگٹن اور دیگر شراکت داروں سے معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔</p>
<p>منگل کو مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں ممکنہ کمی کی امید پر منتخب خریداری کی حوصلہ افزائی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوا، تاہم امریکہ اور ایران کے تعلقات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے۔</p>
<p>گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 205.83 پوائنٹس یا 0.12 فیصد اضافے سے 1,76,133.57 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ سرمایہ کاروں نے امریکی مارکیٹوں میں آنے والی بحالی سے مثبت اشارے لیے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو نظر انداز کیا، حالانکہ حوثی باغیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتے ہوئے تنازع میں ایک نیا محاذ کھولنے کی دھمکی دی ہے۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.2 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 6 فیصد سے زائد اوپر گیا۔ ادھر جاپان کا نکی 225 انڈیکس 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 91.55 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی وجہ یہ بنی کہ سعودی عرب سے ایشیا جانے والا خام تیل لے جانے والے دو آئل ٹینکرز نے منگل کو یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے حملوں کی دھمکیوں کے بعد بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ تبدیل کرلیا۔</p>
<p>دوسری جانب گزشتہ شب امریکی ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا جس سے مسلسل تین روزہ مندی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اس بہتری کی بڑی وجہ سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں بحالی تھی کیونکہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ جولائی کے ابتدائی ہفتوں میں جنوبی کوریا کی سیمی کنڈکٹر برآمدات تقریباً تین گنا بڑھ گئیں جبکہ جون میں تائیوان کے برآمدی آرڈرز کا اشاریہ بھی مارکیٹ کے اندازوں سے بہتر رہا۔</p>
<p>ادھر آل شیئرز انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ نشست کے 1,003.50 ملین شیئرز کے مقابلے میں کم ہو کر 695.69 ملین شیئرز رہ گیا۔شیئرز کی قدر بھی پچھلے سیشن کے 35.70 ارب روپے کے مقابلے میں گھٹ کر 25.40 ارب روپے پر آ گئی۔ٹرسٹ بروکرج 134.17 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد سنرجیکو پی کے  99.43 ملین شیئرز اور ٹی پی ایل پراپرٹیز 49.82 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہیں۔بدھ کو 493 کمپنیوں کے شیئرز میں لین دین ہوا، جن میں سے 108 کی قیمتوں میں اضافہ، 353 میں کمی جبکہ 32 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/22184553e1454f0.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/07/22184553e1454f0.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289033</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 19:25:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/22105311f4d207a.webp" type="image/webp" medium="image" height="900" width="1600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/22105311f4d207a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
