<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Jul 2026 08:28:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Jul 2026 08:28:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بحیرۂ اسود میں چار بھارتیوں کی ہلاکت، بھارت نے روسی سفارتکار کو طلب کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40289014/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے منگل کو ایک سینئر روسی سفارتکار کو دفترِ خارجہ طلب کرکے بحیرۂ اسود میں یوکرین کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے ایک مال بردار جہاز پر میزائل حملے میں چار بھارتی شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کے مطابق روس نے اتوار کو گولڈن لیو نامی گنی بساؤ کے پرچم بردار مال بردار جہاز پر تین کروز میزائل داغے۔ جہاز پر بھارتی اور شامی عملہ سوار تھا، جبکہ حملے میں چار بھارتیوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق روس کے ناظم الامور ولادیمیر لادانوف کو منگل کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ لادانوف سے کہا گیا کہ وہ بھارتی حکومت کی شدید تشویش ماسکو تک پہنچائیں، جبکہ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت ناقابلِ قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ کے مطابق ”اس نوعیت کے حملے بین الاقوامی بحری تجارت کے تحفظ، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ اس معاملے پر روس بھارت سے مسلسل رابطے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا، ”ہم اپنا مؤقف بھارتی حکام کے سامنے واضح کر رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اُن بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، اور آئندہ بھی بناتی رہیں گی، جو کیف حکومت کے لیے گولہ بارود، ہتھیار اور دیگر فوجی سامان منتقل کر رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق گولڈن لیو نامی مال بردار جہاز ممبئی میں قائم کمپنی اوشن گریس شپنگ لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، ایران جنگ کے دوران بھی متعدد بھارتی بحری کارکن جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس پر بھارت نے امریکا اور ایران دونوں کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے منگل کو ایک سینئر روسی سفارتکار کو دفترِ خارجہ طلب کرکے بحیرۂ اسود میں یوکرین کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے ایک مال بردار جہاز پر میزائل حملے میں چار بھارتی شہریوں کی ہلاکت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔</strong></p>
<p>یوکرین کے مطابق روس نے اتوار کو گولڈن لیو نامی گنی بساؤ کے پرچم بردار مال بردار جہاز پر تین کروز میزائل داغے۔ جہاز پر بھارتی اور شامی عملہ سوار تھا، جبکہ حملے میں چار بھارتیوں سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق روس کے ناظم الامور ولادیمیر لادانوف کو منگل کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ لادانوف سے کہا گیا کہ وہ بھارتی حکومت کی شدید تشویش ماسکو تک پہنچائیں، جبکہ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانا اور اس کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکت ناقابلِ قبول ہے۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ کے مطابق ”اس نوعیت کے حملے بین الاقوامی بحری تجارت کے تحفظ، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔“</p>
<p>کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ اس معاملے پر روس بھارت سے مسلسل رابطے میں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا، ”ہم اپنا مؤقف بھارتی حکام کے سامنے واضح کر رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج اُن بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، اور آئندہ بھی بناتی رہیں گی، جو کیف حکومت کے لیے گولہ بارود، ہتھیار اور دیگر فوجی سامان منتقل کر رہے ہیں۔“</p>
<p>ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق گولڈن لیو نامی مال بردار جہاز ممبئی میں قائم کمپنی اوشن گریس شپنگ لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، ایران جنگ کے دوران بھی متعدد بھارتی بحری کارکن جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس پر بھارت نے امریکا اور ایران دونوں کے سامنے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40289014</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 20:39:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21203255e7cb51f.gif" type="image/gif" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21203255e7cb51f.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
