<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Jul 2026 05:47:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Jul 2026 05:47:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور ایران کے جوابی حملوں اور حوثیوں کی ناکہ بندی کی دھمکی پر تیل پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288969/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں، یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا اور وہ پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.12 ڈالر (2.4 فیصد) اضافے کے ساتھ 91.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.80 ڈالر (2.2 فیصد) بڑھ کر 85.03 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل 10 جون کے بعد بلند ترین اختتامی سطح کی جانب گامزن تھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 11 جون کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے قریب تھا۔ برینٹ مسلسل ساتویں روز تکنیکی اعتبار سے ضرورت سے زیادہ خریداری (اوور باٹ) کی کیفیت میں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے ایران نواز حوثیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی خام تیل لے کر ایشیا جانے والے دو آئل ٹینکروں نے منگل کو بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ بدل لیا۔ دوسری جانب امریکی افواج نے رات گئے ایران کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز میں کم از کم ایک آئل ٹینکر بھی حملے کی زد میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای بی ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ خوش بین حلقے امریکی حملوں کو ممکنہ سمجھوتے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے قبل مذاکراتی پوزیشن مضبوط بنانے کی آخری کوشش قرار دے سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر تعطل طویل ہوگیا تو توانائی کی رسد غیر یقینی رہے گی، تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ بھی برقرار رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تنازع کو مزید وسعت دے دی، جس سے خلیج سے باہر بھی عالمی توانائی کی رسد اور تجارت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق، چین اور بھارت کے لیے سعودی خام تیل لے کر روانہ ہونے والے دونوں ٹینکروں نے یو ٹرن لیتے ہوئے نہرِ سویز کی سمت رخ کر لیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے دنیا کے ایک اور بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کی رسد متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جوائنٹ آرگنائزیشنز ڈیٹا انیشی ایٹو (جوڈی) کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں سعودی عرب کی خام تیل برآمدات مسلسل تیسرے ماہ کم ہو کر ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایشیا میں بھی بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے سے سعودی عرب کی ممکنہ بحری ناکہ بندی کے خدشات کے باعث فرنس آئل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="امریکی-تیل-ذخائر-پر-نظر" href="#امریکی-تیل-ذخائر-پر-نظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;امریکی تیل ذخائر پر نظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی کی نظریں اب امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کی منگل کو جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ اور امریکی توانائی اطلاعاتی ادارے (ای آئی اے) کی بدھ کو آنے والی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 17 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی توانائی کمپنیوں نے خام تیل کے ذخائر سے پانچ لاکھ بیرل نکالے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر یہ تخمینہ درست ثابت ہوا تو یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہوگا جس میں ذخائر میں کمی آئے گی۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال اسی ہفتے ذخائر میں 32 لاکھ بیرل کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ 2021 سے 2025 کے دوران اسی عرصے میں اوسطاً 12 لاکھ بیرل کمی دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور ایران کے درمیان تازہ حملوں، یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی اور مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات کے باعث منگل کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً دو فیصد اضافہ ہوا اور وہ پانچ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.12 ڈالر (2.4 فیصد) اضافے کے ساتھ 91.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.80 ڈالر (2.2 فیصد) بڑھ کر 85.03 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔</p>
<p>برینٹ خام تیل 10 جون کے بعد بلند ترین اختتامی سطح کی جانب گامزن تھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 11 جون کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے قریب تھا۔ برینٹ مسلسل ساتویں روز تکنیکی اعتبار سے ضرورت سے زیادہ خریداری (اوور باٹ) کی کیفیت میں رہا۔</p>
<p>یمن کے ایران نواز حوثیوں کی دھمکیوں کے بعد سعودی خام تیل لے کر ایشیا جانے والے دو آئل ٹینکروں نے منگل کو بحیرۂ احمر میں اپنا راستہ بدل لیا۔ دوسری جانب امریکی افواج نے رات گئے ایران کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں اہداف پر حملے کیے، جبکہ تہران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ آبنائے ہرمز میں کم از کم ایک آئل ٹینکر بھی حملے کی زد میں آیا۔</p>
<p>ایس ای بی ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ خوش بین حلقے امریکی حملوں کو ممکنہ سمجھوتے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے قبل مذاکراتی پوزیشن مضبوط بنانے کی آخری کوشش قرار دے سکتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر تعطل طویل ہوگیا تو توانائی کی رسد غیر یقینی رہے گی، تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ بھی برقرار رہے گا۔</p>
<p>حوثیوں نے پیر کو سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے تنازع کو مزید وسعت دے دی، جس سے خلیج سے باہر بھی عالمی توانائی کی رسد اور تجارت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔</p>
<p>ایل ایس ای جی کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق، چین اور بھارت کے لیے سعودی خام تیل لے کر روانہ ہونے والے دونوں ٹینکروں نے یو ٹرن لیتے ہوئے نہرِ سویز کی سمت رخ کر لیا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی بحیرۂ احمر پر واقع ینبع بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس سے دنیا کے ایک اور بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کی رسد متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جوائنٹ آرگنائزیشنز ڈیٹا انیشی ایٹو (جوڈی) کے اعداد و شمار کے مطابق مئی میں سعودی عرب کی خام تیل برآمدات مسلسل تیسرے ماہ کم ہو کر ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئیں۔</p>
<p>ادھر ایشیا میں بھی بحیرۂ احمر کے جنوبی راستے سے سعودی عرب کی ممکنہ بحری ناکہ بندی کے خدشات کے باعث فرنس آئل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا۔</p>
<h3><a id="امریکی-تیل-ذخائر-پر-نظر" href="#امریکی-تیل-ذخائر-پر-نظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>امریکی تیل ذخائر پر نظر</h3>
<p>عالمی منڈی کی نظریں اب امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کی منگل کو جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ اور امریکی توانائی اطلاعاتی ادارے (ای آئی اے) کی بدھ کو آنے والی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ 17 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران امریکی توانائی کمپنیوں نے خام تیل کے ذخائر سے پانچ لاکھ بیرل نکالے۔</p>
<p>اگر یہ تخمینہ درست ثابت ہوا تو یہ مسلسل دوسرا ہفتہ ہوگا جس میں ذخائر میں کمی آئے گی۔ اس کے مقابلے میں گزشتہ سال اسی ہفتے ذخائر میں 32 لاکھ بیرل کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ 2021 سے 2025 کے دوران اسی عرصے میں اوسطاً 12 لاکھ بیرل کمی دیکھی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288969</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 22:27:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/21091105a07182d.webp" type="image/webp" medium="image" height="330" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/21091105a07182d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
