<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 14:17:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 14:17:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پولیس پابندی کے باوجود بھارت میں کاکروچ موومنٹ کے حامیوں کا پارلیمنٹ کی جانب مارچ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288929/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ کے سیکڑوں حامی پیر کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوئے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، اگرچہ پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کئی ماہ قبل شروع ہونے والی اس تحریک کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تحریک کو سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جبکہ زمینی سطح پر بھی اس کے حامیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کے روز بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کو پولیس کی جانب سے زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد تحریک نے مزید شدت اختیار کر لی۔ پیر کو پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے آغاز پر ہزاروں مظاہرین نئی دہلی کے جنتر منتر پہنچے، جہاں سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی منصوبہ بندی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احتجاج کے پیش نظر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور علاقے میں سخت رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ مظاہرین نے دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو اور نریندر مودی استعفیٰ دو کے نعرے لگائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تحریک مئی میں قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے اور انہیں دوبارہ امتحان دینا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے گزشتہ ماہ سے وزیر تعلیم کے استعفے کے لیے دھرنا دے رہے ہیں، جبکہ سونم وانگچک نے 28 جون کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اسپتال سے جاری اپنے پیغام میں وانگچک نے کہا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر جوابدہی قبول کرے یا مظاہرین کو پارلیمنٹ تک جانے کی اجازت دی جائے تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تحریک بھارت میں نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، امتحانی نظام میں بدعنوانی اور بار بار پرچے لیک ہونے کے خلاف پائی جانے والی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ کے سیکڑوں حامی پیر کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوئے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا، اگرچہ پولیس نے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔</strong></p>
<p>کئی ماہ قبل شروع ہونے والی اس تحریک کو وزیر اعظم نریندر مودی کی تیسری حکومت کے لیے اب تک کا سب سے بڑا عوامی چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تحریک کو سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جبکہ زمینی سطح پر بھی اس کے حامیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>ہفتے کے روز بھوک ہڑتال کرنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کو پولیس کی جانب سے زبردستی اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد تحریک نے مزید شدت اختیار کر لی۔ پیر کو پارلیمنٹ کے مون سون اجلاس کے آغاز پر ہزاروں مظاہرین نئی دہلی کے جنتر منتر پہنچے، جہاں سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی منصوبہ بندی کی گئی۔</p>
<p>احتجاج کے پیش نظر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور علاقے میں سخت رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔ مظاہرین نے دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو اور نریندر مودی استعفیٰ دو کے نعرے لگائے۔</p>
<p>یہ تحریک مئی میں قومی میڈیکل کالج داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے اور انہیں دوبارہ امتحان دینا پڑا۔</p>
<p>تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے گزشتہ ماہ سے وزیر تعلیم کے استعفے کے لیے دھرنا دے رہے ہیں، جبکہ سونم وانگچک نے 28 جون کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اسپتال سے جاری اپنے پیغام میں وانگچک نے کہا کہ اگر حکومت تعلیمی نظام کی ناکامیوں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے پر جوابدہی قبول کرے یا مظاہرین کو پارلیمنٹ تک جانے کی اجازت دی جائے تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں گے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تحریک بھارت میں نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، امتحانی نظام میں بدعنوانی اور بار بار پرچے لیک ہونے کے خلاف پائی جانے والی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288929</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 10:56:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/20105441ce6c2fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/20105441ce6c2fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
