<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Jul 2026 14:17:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Jul 2026 14:17:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگلات کا تحفظ وقت کی ضرورت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288927/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گلگت بلتستان میں جنگلات کے ضابطہ کار کے حوالے سے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے جائزے نے ایک ایسے پالیسی مخمصے کو نمایاں کر دیا ہے، جس کے لیے انتظامی انصاف اور ماحولیاتی احتیاط دونوں کو یکساں اہمیت دینا ناگزیر ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لائسنس یافتہ جنگلاتی ٹھیکیداروں کی جانب سے درختوں کی کٹائی کی کارروائیوں میں تاخیر، سیکیورٹی چیلنجز، پیچیدہ انتظامی طریقہ کار اور کئی دہائیوں سے زیر التوا مقدمات کے بارے میں اٹھائے گئے تحفظات کو محض نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پائیدار جنگلاتی نظام کو معاشی طور پر قابلِ عمل رکھنا مقصود ہے تو جائز کاروبار کرنے والے آپریٹرز کو ایسا ضابطہ جاتی فریم ورک درکار ہے جو شفاف، قابلِ پیش گوئی اور مؤثر ہو۔ اس تناظر میں ذیلی کمیٹی کا  ٹھیکیداروں کے زیر التوا مقدمات کا جائزہ لینے، ورکنگ پلانز کا ازسرِنو معائنہ کرنے اور  جنگلات میں قانونی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ان شکایات کے ازالے کی قیمت ایسی ہرگز نہیں ہونی چاہیے کہ اُن حفاظتی اقدامات کو کمزور کر دیا جائے جو پاکستان کے نایاب ترین قدرتی وسائل میں سے ایک کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے خلاف مضبوط اور غیر متزلزل عزم ہر اُس اصلاح کا بنیادی اصول ہونا چاہیے جو آئندہ متعارف کرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں جنگلات کا رقبہ خطے کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں بدستور انتہائی کم ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی نے ملک کے پہاڑی ماحولیاتی نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ گلگت بلتستان کے جنگلات صرف تجارتی لکڑی کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ نازک آبی ذخائر (واٹر شیڈز) کا تحفظ کرتے ہیں، مٹی کے کٹاؤ کو کم کرتے ہیں، پہاڑی ڈھلوانوں کو مستحکم رکھتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھتے ہیں اور دریائے سندھ کے آبی نظام میں پانی کے بہاؤ کو متوازن رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان جنگلات کی تباہی کے اثرات صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور دیگر ماحولیاتی نقصانات کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ جنگلات مقامی برادریوں کی نجی ملکیت ہیں، ریاست کی اس ذمہ داری کو کم نہیں کرتی کہ وہ ان کے پائیدار استعمال کو مؤثر انداز میں منظم کرے۔ تاہم مقامی برادریوں کی ملکیت کا ماڈل اسی صورت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کی بنیاد سائنسی اصولوں کے مطابق تیار کردہ ورکنگ پلانز، شفاف نگرانی اور قانون کے سخت نفاذ پر ہو۔ تجارتی مفادات اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے کی ضد نہیں، لیکن ان دونوں کے درمیان توازن صرف اسی صورت ممکن ہے جب ماحولیاتی حدود کو ناقابلِ سمجھوتہ اصول کے طور پر تسلیم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹھیکیداروں کی جانب سے انتظامی رکاوٹوں، سیکیورٹی خطرات اور غیر معمولی تاخیر کے حوالے سے کی گئی شکایات فوری توجہ کی مستحق ہیں۔ ایسا ضابطہ جاتی نظام جو تنازعات کو کئی کئی دہائیوں تک حل نہ کر سکے، نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ معاہدوں کی تیاری کا عمل زیادہ مشاورتی ہونا چاہیے اور متعلقہ محکموں کے انتظامی طریقہ کار کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔ تاہم انتظامی کارکردگی میں بہتری کو ہرگز نگرانی میں نرمی یا لکڑی کی کٹائی میں اضافے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذیلی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی میں ملوث افراد پر غیر قانونی لکڑی کی مارکیٹ قیمت سے تین گنا تک جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، جبکہ لکڑی کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی درجنوں گاڑیاں اب بھی سرکاری تحویل میں ہیں۔ یہ اقدامات درست سمت کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اصل امتحان ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد ہے۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی طویل عرصے سے کمزور نگرانی، ملی بھگت اور قانون کے غیر مستقل نفاذ کے باعث فروغ پاتی رہی ہے۔ سی سی ٹی وی نگرانی اور دیگر جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ذرائع نگرانی کو مضبوط ضرور بنا سکتے ہیں، لیکن وہ ادارہ جاتی دیانت داری اور سیاسی عزم کا متبادل نہیں بن سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے بڑھتے ہوئے بنیادی توجہ اس بات پر مرکوز رہنی چاہیے کہ کاٹا جانے والا ہر درخت سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ جنگلاتی انتظامی منصوبوں کے مطابق ہو، اور غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے ہر واقعے پر فوری، مؤثر اور یقینی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پاکستان کے تیزی سے سکڑتے ہوئے جنگلات مزید ضابطہ جاتی غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بہتر طرزِ حکمرانی، جائز کاروبار کو سہولت فراہم کرنا اور ملک کے قدرتی و ماحولیاتی سرمائے کا تحفظ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے مقاصد ہیں، مگر صرف اسی صورت جب جنگلات سے متعلق ہر پالیسی کی اولین بنیاد ماحولیاتی پائیداری ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گلگت بلتستان میں جنگلات کے ضابطہ کار کے حوالے سے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کے جائزے نے ایک ایسے پالیسی مخمصے کو نمایاں کر دیا ہے، جس کے لیے انتظامی انصاف اور ماحولیاتی احتیاط دونوں کو یکساں اہمیت دینا ناگزیر ہے۔</strong></p>
<p>لائسنس یافتہ جنگلاتی ٹھیکیداروں کی جانب سے درختوں کی کٹائی کی کارروائیوں میں تاخیر، سیکیورٹی چیلنجز، پیچیدہ انتظامی طریقہ کار اور کئی دہائیوں سے زیر التوا مقدمات کے بارے میں اٹھائے گئے تحفظات کو محض نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پائیدار جنگلاتی نظام کو معاشی طور پر قابلِ عمل رکھنا مقصود ہے تو جائز کاروبار کرنے والے آپریٹرز کو ایسا ضابطہ جاتی فریم ورک درکار ہے جو شفاف، قابلِ پیش گوئی اور مؤثر ہو۔ اس تناظر میں ذیلی کمیٹی کا  ٹھیکیداروں کے زیر التوا مقدمات کا جائزہ لینے، ورکنگ پلانز کا ازسرِنو معائنہ کرنے اور  جنگلات میں قانونی سرگرمیوں کو سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔</p>
<p>تاہم ان شکایات کے ازالے کی قیمت ایسی ہرگز نہیں ہونی چاہیے کہ اُن حفاظتی اقدامات کو کمزور کر دیا جائے جو پاکستان کے نایاب ترین قدرتی وسائل میں سے ایک کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے خلاف مضبوط اور غیر متزلزل عزم ہر اُس اصلاح کا بنیادی اصول ہونا چاہیے جو آئندہ متعارف کرائی جائے۔</p>
<p>پاکستان میں جنگلات کا رقبہ خطے کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں بدستور انتہائی کم ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی نے ملک کے پہاڑی ماحولیاتی نظام کو پہلے سے کہیں زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ گلگت بلتستان کے جنگلات صرف تجارتی لکڑی کا ذریعہ نہیں بلکہ وہ نازک آبی ذخائر (واٹر شیڈز) کا تحفظ کرتے ہیں، مٹی کے کٹاؤ کو کم کرتے ہیں، پہاڑی ڈھلوانوں کو مستحکم رکھتے ہیں، حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھتے ہیں اور دریائے سندھ کے آبی نظام میں پانی کے بہاؤ کو متوازن رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>ان جنگلات کی تباہی کے اثرات صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب اور دیگر ماحولیاتی نقصانات کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ جنگلات مقامی برادریوں کی نجی ملکیت ہیں، ریاست کی اس ذمہ داری کو کم نہیں کرتی کہ وہ ان کے پائیدار استعمال کو مؤثر انداز میں منظم کرے۔ تاہم مقامی برادریوں کی ملکیت کا ماڈل اسی صورت کامیاب ہو سکتا ہے جب اس کی بنیاد سائنسی اصولوں کے مطابق تیار کردہ ورکنگ پلانز، شفاف نگرانی اور قانون کے سخت نفاذ پر ہو۔ تجارتی مفادات اور ماحولیاتی تحفظ ایک دوسرے کی ضد نہیں، لیکن ان دونوں کے درمیان توازن صرف اسی صورت ممکن ہے جب ماحولیاتی حدود کو ناقابلِ سمجھوتہ اصول کے طور پر تسلیم کیا جائے۔</p>
<p>ٹھیکیداروں کی جانب سے انتظامی رکاوٹوں، سیکیورٹی خطرات اور غیر معمولی تاخیر کے حوالے سے کی گئی شکایات فوری توجہ کی مستحق ہیں۔ ایسا ضابطہ جاتی نظام جو تنازعات کو کئی کئی دہائیوں تک حل نہ کر سکے، نہ صرف سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ معاہدوں کی تیاری کا عمل زیادہ مشاورتی ہونا چاہیے اور متعلقہ محکموں کے انتظامی طریقہ کار کو مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے۔ تاہم انتظامی کارکردگی میں بہتری کو ہرگز نگرانی میں نرمی یا لکڑی کی کٹائی میں اضافے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔</p>
<p>ذیلی کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ غیر قانونی درختوں کی کٹائی میں ملوث افراد پر غیر قانونی لکڑی کی مارکیٹ قیمت سے تین گنا تک جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، جبکہ لکڑی کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی درجنوں گاڑیاں اب بھی سرکاری تحویل میں ہیں۔ یہ اقدامات درست سمت کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن اصل امتحان ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد ہے۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی طویل عرصے سے کمزور نگرانی، ملی بھگت اور قانون کے غیر مستقل نفاذ کے باعث فروغ پاتی رہی ہے۔ سی سی ٹی وی نگرانی اور دیگر جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ذرائع نگرانی کو مضبوط ضرور بنا سکتے ہیں، لیکن وہ ادارہ جاتی دیانت داری اور سیاسی عزم کا متبادل نہیں بن سکتے۔</p>
<p>آگے بڑھتے ہوئے بنیادی توجہ اس بات پر مرکوز رہنی چاہیے کہ کاٹا جانے والا ہر درخت سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ جنگلاتی انتظامی منصوبوں کے مطابق ہو، اور غیر قانونی درختوں کی کٹائی کے ہر واقعے پر فوری، مؤثر اور یقینی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پاکستان کے تیزی سے سکڑتے ہوئے جنگلات مزید ضابطہ جاتی غفلت کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ بہتر طرزِ حکمرانی، جائز کاروبار کو سہولت فراہم کرنا اور ملک کے قدرتی و ماحولیاتی سرمائے کا تحفظ ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے مقاصد ہیں، مگر صرف اسی صورت جب جنگلات سے متعلق ہر پالیسی کی اولین بنیاد ماحولیاتی پائیداری ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288927</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Jul 2026 10:22:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/201020457fffb56.webp" type="image/webp" medium="image" height="767" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/201020457fffb56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
