<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 19:00:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 19:00:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا گردشی قرض مالی بحران نہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288886/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گردشی قرض درحقیقت مالی بحران نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال قوم کو گردشی قرض میں اضافے کی کوئی نہ کوئی نئی مالیاتی توجیہ پیش کر دی جاتی ہے، کبھی وصولیوں میں کمی، کبھی ادائیگیوں میں تاخیر، کبھی سبسڈی کے لیے ناکافی فنڈز، اور کبھی آئی ایم ایف کی مقررہ شرائط پوری نہ کر پانے کو اس کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب صرف علامات ہیں، اصل بیماری نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرض بنیادی طور پر گورننس کے بحران کا مظہر ہے، جو توانائی کی پوری سپلائی چین میں برسوں سے جڑ پکڑ چکا ہے۔ جب تک غیرشفافیت اور مفاد پرستی کی جگہ شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط نہیں لیتے، اس وقت تک نہ مالیاتی بندوبست اور نہ ہی آئی ایم ایف کی شرائط گردشی قرض کا کوئی پائیدار حل فراہم کر سکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف سے کیے گئے اس وعدے کو پورا نہ کر پانے کی تازہ اطلاعات، جن کے مطابق پاکستان 30 جون 2026 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرض 1.614 کھرب روپے تک محدود رکھنے میں ناکام رہا، کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونی چاہییں۔ حکام نے اس ہدف سے انحراف، جس کا حجم تقریباً 300 ارب روپے بتایا جا رہا ہے، کی وجہ کے الیکٹرک کے واجبات اور متعدد ڈسکوز کی کمزور مالی کارکردگی کو قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھی بارہا اسی نوعیت کی وضاحتیں پیش کی جاتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دلائل سہولت کے ساتھ اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ گردشی قرض کسی ایک کمپنی کی جانب سے ادائیگی میں تاخیر یا کسی ایک بجلی تقسیم کار ادارے کی ناقص کارکردگی سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ عوامل محض اس کہیں زیادہ گہرے اور ساختی مسئلے کی آخری علامات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ گردشی قرض پاکستان کے توانائی کے پورے سپلائی چین میں پھیلی طویل المدتی گورننس کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ اس مرحلے سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے جب بجلی صارف تک پہنچتی ہے۔ اس کی جڑیں خریداری کے فیصلوں، ایندھن کی درآمد، قیمتوں کے تعین کے نظام، ذخیرہ کرنے کے انتظامات، ترسیلی نظام، معاہدوں کی شرائط اور آپریشنل نگرانی میں موجود خامیوں میں پیوست ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمزور منصوبہ بندی، ناکافی نگرانی اور مؤثر عمل درآمد کے فقدان کے باعث توانائی کے شعبے کے ہر مرحلے پر نااہلی جنم لیتی ہے۔ یہی نااہلیاں پوشیدہ اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، جو بالآخر گردشی قرض میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی پیداوار کا شعبہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ سرکاری بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور آئی پی پیز، دونوں، ایک ایسے نظام کے تحت کام کرتی ہیں جہاں ماضی میں شفافیت اور مؤثر کارکردگی جانچ کا فقدان رہا ہے۔ اگرچہ حالیہ عرصے میں بعض آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی سے کچھ مالی بوجھ ضرور کم ہوا ہے، تاہم پلانٹس کے استعمال، آپریشنل کارکردگی، ایندھن کے مؤثر استعمال، دیکھ بھال اور پیداواری صلاحیت کی منصوبہ بندی سے متعلق کئی سوالات اب بھی موجود ہیں۔ جب تک ان امور کی آزادانہ اور مسلسل نگرانی نہیں ہوگی، نااہلیوں کا خاتمہ نہیں بلکہ وہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترسیلی نظام بھی اس زنجیر کی ایک کمزور کڑی ہے۔ فرسودہ انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری میں تاخیر اور ناکافی دیکھ بھال کے باعث کئی علاقوں میں تکنیکی نقصانات عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہیں۔ صارف تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہونے والی بجلی کی ہر یونٹ آخرکار پورے نظام پر اضافی مالی بوجھ ڈالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسکوز بدستور کمزور گورننس، سیاسی مداخلت اور انتظامی سطح پر جوابدہی کے فقدان کا شکار ہیں۔ بجلی چوری، غلط میٹر ریڈنگ، بلنگ میں تاخیر، ناقص وصولیاں اور دیگر آپریشنل خامیاں برسوں سے جاری اصلاحاتی پروگراموں کے باوجود برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً دیانت دار صارفین کو زیادہ ٹیرف ادا کرنا پڑتا ہے تاکہ نظام کے دیگر حصوں میں چوری اور نااہلی سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مسئلہ صرف بجلی تک محدود نہیں۔ پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے بھی بجلی کی پیداوار سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ادائیگیوں میں تاخیر، وسائل کے ضیاع، معاہدوں کے ناقص انتظام، غیرمحسوب نقصانات اور ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں میں گورننس کی خامیاں پورے توانائی نظام پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارفین کا رویہ بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں بجلی اور گیس چوری، میٹروں میں ردوبدل اور بلوں کی عدم ادائیگی معمول بنتی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمزور قانون نافذ کرنے کا نظام، سیاسی سرپرستی اور طویل عدالتی کارروائیوں نے احتساب کے عمل کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ جب تک چوری کم خطرے اور زیادہ فائدے کا ذریعہ بنی رہے گی، اس کا مالی بوجھ دیانت دار صارفین اور قومی خزانے ہی کو اٹھانا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلسل آنے والی حکومتوں نے بنیادی اصلاحات کے بجائے زیادہ تر مالیاتی اقدامات پر انحصار کیا ہے۔ کبھی سبسڈیز دی جاتی ہیں، کبھی مزید قرض لیا جاتا ہے، کبھی واجبات کی نئی ترتیب بنائی جاتی ہے، کبھی ٹیرف بڑھا دیے جاتے ہیں اور کبھی قرض دہندگان کے ساتھ عارضی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ایسے اقدامات چند ماہ کے لیے گردشی قرض کی رفتار سست تو کر سکتے ہیں، مگر ان گورننس کی ناکامیوں کا خاتمہ نہیں کرتے جو مسلسل نئے گردشی قرض کو جنم دیتی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی توجہ فطری طور پر ایسے مالیاتی اشاریوں پر مرکوز رہتی ہے جن کی پیمائش ممکن ہو، جن میں گردشی قرض کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم صرف مالی اہداف ادارہ جاتی کمزوریوں کا علاج نہیں کر سکتے۔ اگر حکومت قرض لے کر یا محض حسابی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے وقتی طور پر گردشی قرض کم کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے، تب بھی جب تک توانائی کی پوری سپلائی چین میں گورننس کی بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، یہ مسئلہ دوبارہ سر اٹھا لے گا۔ اس لیے پاکستان کو مسئلے کی تشخیص اور اس کے علاج، دونوں حوالے سے اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا آغاز توانائی کی پوری سپلائی چین میں مکمل شفافیت سے ہونا چاہیے۔ ایندھن کی خریداری سے لے کر صارف کو بل جاری کرنے تک ہر مرحلے کی ڈیجیٹل نگرانی، آزادانہ آڈٹ اور عوامی سطح پر رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے۔ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، ترسیلی اداروں، ڈسکوز اور ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں کی آپریشنل کارکردگی کے اشاریے باقاعدگی سے شائع کیے جائیں، تاکہ پارلیمنٹ اور عوام دونوں اداروں کا مؤثر احتساب کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پیشہ ورانہ انتظام بھی ناگزیر ہے، جو سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر آزاد ہو۔ بورڈز میں تقرریاں سیاسی وابستگی کے بجائے صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر ہوں، جبکہ چیف ایگزیکٹو افسران کی کارکردگی کا جائزہ واضح اور قابلِ پیمائش آپریشنل اہداف کی بنیاد پر لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریگولیٹری اداروں کو بھی اس قدر بااختیار بنایا جائے کہ وہ کسی دباؤ یا امتیاز کے بغیر قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جدید ٹیکنالوجی نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ اسمارٹ میٹرنگ، ڈیجیٹل بلنگ، جدید گرڈ مینجمنٹ سسٹمز، پیشگی دیکھ بھال (پریڈکٹو مینٹیننس) اور ڈیٹا اینالیٹکس نے دنیا کے کئی ممالک میں بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں انقلابی بہتری پیدا کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے پاس ان جدید حلوں کو اپنانے کی تکنیکی صلاحیت موجود ہے، تاہم ان پر مستقل بنیادوں پر عمل درآمد کے لیے مضبوط سیاسی عزم درکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے گردشی قرض پر بحث کو محض حسابی اعدادوشمار اور ادائیگیوں کے تنازعات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہر سال پیش کی جانے والی روایتی وضاحتیں اب کم سے کم قابلِ یقین ہوتی جا رہی ہیں، کیونکہ وہ مسئلے کی اصل جڑ کو نظرانداز کرتی ہیں۔ کے الیکٹرک کے واجبات یا چند ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اس سال گردشی قرض میں اضافے کی جزوی وجہ تو ہو سکتی ہے، لیکن یہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتیں کہ یہی بحران مختلف حکومتوں کے ادوار میں تقریباً دو دہائیوں سے کیوں برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ گردشی قرض پاکستان کے توانائی کے شعبے میں گورننس کے معیار کا آئینہ دار ہے۔ جب تک سپلائی چین کے ہر مرحلے میں موجود خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کرکے انہیں مستقل بنیادوں پر دور نہیں کیا جاتا، اس وقت تک گردشی قرض گردش کرتا رہے گا، خواہ ٹیرف میں اضافہ کیا جائے، آئی ایم ایف کے پروگرام نافذ ہوں یا وقتاً فوقتاً مالیاتی ری اسٹرکچرنگ کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو مالیاتی حلوں کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ شفاف طرزِ حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی اور ایسے مضبوط سیاسی عزم کا فقدان ہے جو جڑیں پکڑ چکے طاقتور مفاداتی گروہوں کا مقابلہ کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گردشی قرض درحقیقت مالی بحران نہیں بلکہ حکمرانی کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔</strong></p>
<p>ہر سال قوم کو گردشی قرض میں اضافے کی کوئی نہ کوئی نئی مالیاتی توجیہ پیش کر دی جاتی ہے، کبھی وصولیوں میں کمی، کبھی ادائیگیوں میں تاخیر، کبھی سبسڈی کے لیے ناکافی فنڈز، اور کبھی آئی ایم ایف کی مقررہ شرائط پوری نہ کر پانے کو اس کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب صرف علامات ہیں، اصل بیماری نہیں۔</p>
<p>پاکستان کے بجلی کے شعبے کا گردشی قرض بنیادی طور پر گورننس کے بحران کا مظہر ہے، جو توانائی کی پوری سپلائی چین میں برسوں سے جڑ پکڑ چکا ہے۔ جب تک غیرشفافیت اور مفاد پرستی کی جگہ شفافیت، جوابدہی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط نہیں لیتے، اس وقت تک نہ مالیاتی بندوبست اور نہ ہی آئی ایم ایف کی شرائط گردشی قرض کا کوئی پائیدار حل فراہم کر سکیں گی۔</p>
<p>آئی ایم ایف سے کیے گئے اس وعدے کو پورا نہ کر پانے کی تازہ اطلاعات، جن کے مطابق پاکستان 30 جون 2026 تک بجلی کے شعبے کا گردشی قرض 1.614 کھرب روپے تک محدود رکھنے میں ناکام رہا، کسی کے لیے حیران کن نہیں ہونی چاہییں۔ حکام نے اس ہدف سے انحراف، جس کا حجم تقریباً 300 ارب روپے بتایا جا رہا ہے، کی وجہ کے الیکٹرک کے واجبات اور متعدد ڈسکوز کی کمزور مالی کارکردگی کو قرار دیا ہے۔</p>
<p>گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھی بارہا اسی نوعیت کی وضاحتیں پیش کی جاتی رہی ہیں۔</p>
<p>یہ دلائل سہولت کے ساتھ اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ گردشی قرض کسی ایک کمپنی کی جانب سے ادائیگی میں تاخیر یا کسی ایک بجلی تقسیم کار ادارے کی ناقص کارکردگی سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ عوامل محض اس کہیں زیادہ گہرے اور ساختی مسئلے کی آخری علامات ہیں۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ گردشی قرض پاکستان کے توانائی کے پورے سپلائی چین میں پھیلی طویل المدتی گورننس کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>یہ مسئلہ اس مرحلے سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے جب بجلی صارف تک پہنچتی ہے۔ اس کی جڑیں خریداری کے فیصلوں، ایندھن کی درآمد، قیمتوں کے تعین کے نظام، ذخیرہ کرنے کے انتظامات، ترسیلی نظام، معاہدوں کی شرائط اور آپریشنل نگرانی میں موجود خامیوں میں پیوست ہیں۔</p>
<p>کمزور منصوبہ بندی، ناکافی نگرانی اور مؤثر عمل درآمد کے فقدان کے باعث توانائی کے شعبے کے ہر مرحلے پر نااہلی جنم لیتی ہے۔ یہی نااہلیاں پوشیدہ اخراجات میں اضافہ کرتی ہیں، جو بالآخر گردشی قرض میں مزید اضافے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔</p>
<p>بجلی کی پیداوار کا شعبہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ سرکاری بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور آئی پی پیز، دونوں، ایک ایسے نظام کے تحت کام کرتی ہیں جہاں ماضی میں شفافیت اور مؤثر کارکردگی جانچ کا فقدان رہا ہے۔ اگرچہ حالیہ عرصے میں بعض آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی سے کچھ مالی بوجھ ضرور کم ہوا ہے، تاہم پلانٹس کے استعمال، آپریشنل کارکردگی، ایندھن کے مؤثر استعمال، دیکھ بھال اور پیداواری صلاحیت کی منصوبہ بندی سے متعلق کئی سوالات اب بھی موجود ہیں۔ جب تک ان امور کی آزادانہ اور مسلسل نگرانی نہیں ہوگی، نااہلیوں کا خاتمہ نہیں بلکہ وہ ادارہ جاتی شکل اختیار کرتی رہیں گی۔</p>
<p>ترسیلی نظام بھی اس زنجیر کی ایک کمزور کڑی ہے۔ فرسودہ انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری میں تاخیر اور ناکافی دیکھ بھال کے باعث کئی علاقوں میں تکنیکی نقصانات عالمی معیار سے کہیں زیادہ ہیں۔ صارف تک پہنچنے سے پہلے ضائع ہونے والی بجلی کی ہر یونٹ آخرکار پورے نظام پر اضافی مالی بوجھ ڈالتی ہے۔</p>
<p>ڈسکوز بدستور کمزور گورننس، سیاسی مداخلت اور انتظامی سطح پر جوابدہی کے فقدان کا شکار ہیں۔ بجلی چوری، غلط میٹر ریڈنگ، بلنگ میں تاخیر، ناقص وصولیاں اور دیگر آپریشنل خامیاں برسوں سے جاری اصلاحاتی پروگراموں کے باوجود برقرار ہیں۔</p>
<p>نتیجتاً دیانت دار صارفین کو زیادہ ٹیرف ادا کرنا پڑتا ہے تاکہ نظام کے دیگر حصوں میں چوری اور نااہلی سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ مسئلہ صرف بجلی تک محدود نہیں۔ پاکستان کے تیل اور گیس کے شعبے بھی بجلی کی پیداوار سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ ادائیگیوں میں تاخیر، وسائل کے ضیاع، معاہدوں کے ناقص انتظام، غیرمحسوب نقصانات اور ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں میں گورننس کی خامیاں پورے توانائی نظام پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔</p>
<p>صارفین کا رویہ بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں بجلی اور گیس چوری، میٹروں میں ردوبدل اور بلوں کی عدم ادائیگی معمول بنتی جا رہی ہے۔</p>
<p>کمزور قانون نافذ کرنے کا نظام، سیاسی سرپرستی اور طویل عدالتی کارروائیوں نے احتساب کے عمل کو غیر مؤثر بنا دیا ہے۔ جب تک چوری کم خطرے اور زیادہ فائدے کا ذریعہ بنی رہے گی، اس کا مالی بوجھ دیانت دار صارفین اور قومی خزانے ہی کو اٹھانا پڑے گا۔</p>
<p>مسلسل آنے والی حکومتوں نے بنیادی اصلاحات کے بجائے زیادہ تر مالیاتی اقدامات پر انحصار کیا ہے۔ کبھی سبسڈیز دی جاتی ہیں، کبھی مزید قرض لیا جاتا ہے، کبھی واجبات کی نئی ترتیب بنائی جاتی ہے، کبھی ٹیرف بڑھا دیے جاتے ہیں اور کبھی قرض دہندگان کے ساتھ عارضی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ ایسے اقدامات چند ماہ کے لیے گردشی قرض کی رفتار سست تو کر سکتے ہیں، مگر ان گورننس کی ناکامیوں کا خاتمہ نہیں کرتے جو مسلسل نئے گردشی قرض کو جنم دیتی رہتی ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی توجہ فطری طور پر ایسے مالیاتی اشاریوں پر مرکوز رہتی ہے جن کی پیمائش ممکن ہو، جن میں گردشی قرض کی حد مقرر کرنا بھی شامل ہے۔ تاہم صرف مالی اہداف ادارہ جاتی کمزوریوں کا علاج نہیں کر سکتے۔ اگر حکومت قرض لے کر یا محض حسابی ایڈجسٹمنٹس کے ذریعے وقتی طور پر گردشی قرض کم کرنے میں کامیاب بھی ہو جائے، تب بھی جب تک توانائی کی پوری سپلائی چین میں گورننس کی بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں، یہ مسئلہ دوبارہ سر اٹھا لے گا۔ اس لیے پاکستان کو مسئلے کی تشخیص اور اس کے علاج، دونوں حوالے سے اپنی سوچ تبدیل کرنا ہوگی۔</p>
<p>اس کا آغاز توانائی کی پوری سپلائی چین میں مکمل شفافیت سے ہونا چاہیے۔ ایندھن کی خریداری سے لے کر صارف کو بل جاری کرنے تک ہر مرحلے کی ڈیجیٹل نگرانی، آزادانہ آڈٹ اور عوامی سطح پر رپورٹنگ کو یقینی بنایا جائے۔ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں، ترسیلی اداروں، ڈسکوز اور ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں کی آپریشنل کارکردگی کے اشاریے باقاعدگی سے شائع کیے جائیں، تاکہ پارلیمنٹ اور عوام دونوں اداروں کا مؤثر احتساب کر سکیں۔</p>
<p>اسی طرح پیشہ ورانہ انتظام بھی ناگزیر ہے، جو سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر آزاد ہو۔ بورڈز میں تقرریاں سیاسی وابستگی کے بجائے صلاحیت اور اہلیت کی بنیاد پر ہوں، جبکہ چیف ایگزیکٹو افسران کی کارکردگی کا جائزہ واضح اور قابلِ پیمائش آپریشنل اہداف کی بنیاد پر لیا جائے۔</p>
<p>ریگولیٹری اداروں کو بھی اس قدر بااختیار بنایا جائے کہ وہ کسی دباؤ یا امتیاز کے بغیر قواعد و ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنا سکیں۔</p>
<p>جدید ٹیکنالوجی نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتی ہے۔ اسمارٹ میٹرنگ، ڈیجیٹل بلنگ، جدید گرڈ مینجمنٹ سسٹمز، پیشگی دیکھ بھال (پریڈکٹو مینٹیننس) اور ڈیٹا اینالیٹکس نے دنیا کے کئی ممالک میں بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی کارکردگی میں انقلابی بہتری پیدا کی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے پاس ان جدید حلوں کو اپنانے کی تکنیکی صلاحیت موجود ہے، تاہم ان پر مستقل بنیادوں پر عمل درآمد کے لیے مضبوط سیاسی عزم درکار ہے۔</p>
<p>اسی لیے گردشی قرض پر بحث کو محض حسابی اعدادوشمار اور ادائیگیوں کے تنازعات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہر سال پیش کی جانے والی روایتی وضاحتیں اب کم سے کم قابلِ یقین ہوتی جا رہی ہیں، کیونکہ وہ مسئلے کی اصل جڑ کو نظرانداز کرتی ہیں۔ کے الیکٹرک کے واجبات یا چند ڈسکوز کی ناقص کارکردگی اس سال گردشی قرض میں اضافے کی جزوی وجہ تو ہو سکتی ہے، لیکن یہ اس بات کی وضاحت نہیں کرتیں کہ یہی بحران مختلف حکومتوں کے ادوار میں تقریباً دو دہائیوں سے کیوں برقرار ہے۔</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ گردشی قرض پاکستان کے توانائی کے شعبے میں گورننس کے معیار کا آئینہ دار ہے۔ جب تک سپلائی چین کے ہر مرحلے میں موجود خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کرکے انہیں مستقل بنیادوں پر دور نہیں کیا جاتا، اس وقت تک گردشی قرض گردش کرتا رہے گا، خواہ ٹیرف میں اضافہ کیا جائے، آئی ایم ایف کے پروگرام نافذ ہوں یا وقتاً فوقتاً مالیاتی ری اسٹرکچرنگ کی جائے۔</p>
<p>پاکستان کو مالیاتی حلوں کی کمی کا سامنا نہیں، بلکہ اصل مسئلہ شفاف طرزِ حکمرانی، ادارہ جاتی جوابدہی اور ایسے مضبوط سیاسی عزم کا فقدان ہے جو جڑیں پکڑ چکے طاقتور مفاداتی گروہوں کا مقابلہ کر سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288886</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 16:30:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/18160743593cf85.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/18160743593cf85.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
