<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 13:58:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 13:58:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جون میں بجلی کی پیداوار 2.5 فیصد کم، فی یونٹ لاگت 14 فیصد بڑھ گئی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40288880/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث قطر سے ایل این جی کی فراہمی میں تعطل کے نتیجے میں پاکستان میں جون 2026 کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 2.5 فیصد کم ہوگئی، جبکہ فی یونٹ بجلی کی اوسط لاگت میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں بجلی کی مجموعی پیداوار 13,413 گیگاواٹ آور رہی، جو جون 2025 میں 13,744 گیگاواٹ آور تھی۔ اس دوران بجلی کی اوسط پیداواری لاگت بڑھ کر 8.9885 روپے فی یونٹ ہوگئی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ 7.8698 روپے فی یونٹ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائیڈل ذرائع سے بجلی کی پیداوار 3 فیصد کمی کے ساتھ 5,242 گیگاواٹ آور رہی، جو مجموعی پیداوار کا 39.03 فیصد ہے۔ تربیلا پاور ہاؤس میں فنی خرابی کو اس کمی کی اہم وجہ قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 10 فیصد کم ہوکر 1,358 گیگاواٹ آور رہ گئی، تاہم درآمدی کوئلے سے پیداوار 21.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1,699 گیگاواٹ آور تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آزاد نظام و مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) نے جون کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور فرنس آئل (آر ایف او) سے بھی بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی، جن کی لاگت بالترتیب 57 روپے اور 52 روپے فی یونٹ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار 10.5 فیصد کم ہوکر 867 گیگاواٹ آور رہی، جبکہ آر ایل این جی سے پیداوار 2,216 گیگاواٹ آور سے کم ہوکر 1,480 گیگاواٹ آور رہ گئی۔ آر ایل این جی سے بجلی کی لاگت بھی 21.87 روپے سے بڑھ کر 35.51 روپے فی یونٹ ہوگئی، جو 62 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار 31.5 فیصد بڑھ کر 1,800 گیگاواٹ آور ہوگئی۔ پاکستان نے جون میں ایران سے 47 گیگاواٹ آور بجلی درآمد کی، جس کی قیمت 27.66 روپے فی یونٹ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی پی پی اے-جی نے جون 2026 کے لیے 1.20 روپے فی یونٹ مثبت فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست بھی نیپرا کو ارسال کر دی ہے، جس پر 29 جولائی 2026 کو عوامی سماعت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال کے باعث قطر سے ایل این جی کی فراہمی میں تعطل کے نتیجے میں پاکستان میں جون 2026 کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 2.5 فیصد کم ہوگئی، جبکہ فی یونٹ بجلی کی اوسط لاگت میں 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے-جی) کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 میں بجلی کی مجموعی پیداوار 13,413 گیگاواٹ آور رہی، جو جون 2025 میں 13,744 گیگاواٹ آور تھی۔ اس دوران بجلی کی اوسط پیداواری لاگت بڑھ کر 8.9885 روپے فی یونٹ ہوگئی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ 7.8698 روپے فی یونٹ تھی۔</p>
<p>ہائیڈل ذرائع سے بجلی کی پیداوار 3 فیصد کمی کے ساتھ 5,242 گیگاواٹ آور رہی، جو مجموعی پیداوار کا 39.03 فیصد ہے۔ تربیلا پاور ہاؤس میں فنی خرابی کو اس کمی کی اہم وجہ قرار دیا گیا۔</p>
<p>مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 10 فیصد کم ہوکر 1,358 گیگاواٹ آور رہ گئی، تاہم درآمدی کوئلے سے پیداوار 21.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1,699 گیگاواٹ آور تک پہنچ گئی۔</p>
<p>آزاد نظام و مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) نے جون کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) اور فرنس آئل (آر ایف او) سے بھی بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی، جن کی لاگت بالترتیب 57 روپے اور 52 روپے فی یونٹ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔</p>
<p>مقامی گیس سے بجلی کی پیداوار 10.5 فیصد کم ہوکر 867 گیگاواٹ آور رہی، جبکہ آر ایل این جی سے پیداوار 2,216 گیگاواٹ آور سے کم ہوکر 1,480 گیگاواٹ آور رہ گئی۔ آر ایل این جی سے بجلی کی لاگت بھی 21.87 روپے سے بڑھ کر 35.51 روپے فی یونٹ ہوگئی، جو 62 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>دوسری جانب جوہری توانائی سے بجلی کی پیداوار 31.5 فیصد بڑھ کر 1,800 گیگاواٹ آور ہوگئی۔ پاکستان نے جون میں ایران سے 47 گیگاواٹ آور بجلی درآمد کی، جس کی قیمت 27.66 روپے فی یونٹ رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>سی پی پی اے-جی نے جون 2026 کے لیے 1.20 روپے فی یونٹ مثبت فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی درخواست بھی نیپرا کو ارسال کر دی ہے، جس پر 29 جولائی 2026 کو عوامی سماعت ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40288880</guid>
      <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 11:49:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/07/181147338a82733.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/07/181147338a82733.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
